بی آر ایس کے سابق وزراء اور ارکان اسمبلی کو واپس لینے کے سی آر کی مساعی

   

مجالس مقامی انتخابات میں بہتر مظاہرہ کی حکمت عملی
حیدرآباد۔/2 فروری، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں مجالس مقامی اور پنچایت راج اداروں کے انتخابات سے عین قبل بی آر ایس سربراہ کے چندر شیکھر راؤ نے پارٹی کے استحکام پر توجہ مرکوز کی ہے۔ انہوں نے پارٹی چھوڑنے والے سابق وزراء اور سابق ارکان اسمبلی کو دوبارہ پارٹی میں واپسی کیلئے راغب کرنے کی مہم شروع کی ہے جس کیلئے بعض بااعتماد قائدین کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات سے قبل پارٹی کے کئی سابق وزراء، سابق ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی نے کانگریس اور بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی تھی جس کے نتیجہ میں کئی اضلاع میں بی آر ایس کا موقف کمزور ہوچکا تھا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق کے سی آر نے ایسے قائدین کو دوبارہ پارٹی میں واپس لینے کی حکمت عملی تیار کی ہے جس کے تحت وہ خود فون پر ربط قائم کررہے ہیں۔ مجالس مقامی انتخابات بی آر ایس کیلئے کسی چیلنج سے کم نہیں کیونکہ اقتدار سے محرومی کے بعد پہلی مرتبہ پارٹی عوام کا سامنا کرے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ کے ٹی آر، ہریش راؤ اور دیگر قائدین سابق وزراء سے پہلے مرحلہ کے مذاکرات مکمل کرچکے ہیں۔ 10 تا 15 سابق بی آر ایس قائدین پر توجہ مرکوز کی گئی ہے تاکہ اضلاع میں پارٹی مستحکم ہو۔ نظام آباد، عادل آباد، نلگنڈہ، کریم نگر، ورنگل سے تعلق رکھنے والے قائدین سے پہلے مرحلہ کے مذاکرات کی تکمیل کے بعد بیشتر قائدین نے کے سی آر سے راست ملاقات کا ارادہ ظاہر کیا ہے تاکہ کانگریس اور بی جے پی میں شمولیت کے حالات اور وجوہات سے واقف کرایا جائے۔ ان میں بیشتر قائدین ایسے ہیں جو دو مرتبہ بی آر ایس کے ٹکٹ پر اسمبلی اور لوک سبھا کیلئے منتخب ہوچکے ہیں۔ کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے والے 10 ارکان اسمبلی پر کے سی آر کی توجہ اس لئے بھی نہیں ہے کہ ان کا معاملہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں زیر التواء ہے اور پارٹی قیادت منحرف ارکان کو نااہل قرار دینے میں زیادہ دلچسپی دکھا رہی ہے۔1