بی آر ایس کے منحرف ارکان کے خلاف مقدمہ کی سپریم کورٹ میں 18 فروری کو سماعت

   

مزید وقت طلب کرنے پر عدالت کی ناراضگی، اسپیکر سے تفصیلات حاصل کرنے سرکاری وکیل کا تیقن
حیدرآباد ۔10۔فروری (سیاست نیوز) سپریم کورٹ نے بی آر ایس کے منحرف ارکان اسمبلی کے خلاف مقدمہ کی سماعت کو 18 فروری تک ملتوی کردیا ہے ۔ جسٹس بی آر گوائی کی زیر قیادت بنچ نے بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راو کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کی آج سماعت کی۔ کے ٹی آر نے اسپیکر اسمبلی کی جانب سے منحرف ارکان اسمبلی کے خلاف کارروائی میں تاخیر کی شکایت کی ہے۔ درخواست گزار منحرف ارکان اسمبلی کے خلاف انسداد انحراف قانون کے تحت کارروائی اور ارکان کو نااہل قرار دینے کی اپیل کر رہے ہیں۔ کے ٹی آر نے اپنی درخواست میں اسپیکر اسمبلی پرساد کمار کے علاوہ منحرف ارکان پوچارم سرینواس ریڈی ، بی کرشنا موہن ریڈی ، کے یادیا ، ٹی پرکاش گوڑ ، اے گاندھی ، جی مہیپال ریڈی اور سنجے کمار کو فریق بنایا ہے۔ جسٹس گوائی کی زیر قیادت بنچ پر سماعت کے دوران سکریٹری لیجسلیچر کے وکیل سینئر قانون داں مکل روہتگی نے اسپیکر سے تفصیلات حاصل کرنے کیلئے مزید مہلت طلب کی۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر سے مذاکرات کرتے ہوئے عدالت میں تفصیلات داخل کرنے کے لئے وقت لگ سکتا ہے ۔ جسٹس گوائی نے مزید وقت طلب کرنے پر ناراضگی کا اظہار کیا اور ریمارک کیا کہ پہلے ہی 10 ماہ گزر چکے ہیں اور مزید کتنا وقت چاہئے ۔ مکل روہتگی کی درخواست پر سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت 18 فروری کو مقرر کی ہے۔ واضح رہے کہ بی آر ایس کے 10 منحرف ارکان اسمبلی کو گزشتہ دنوں سکریٹری لیجسلیچر کی جانب سے نوٹس جاری کی گئی اور انحراف کے سلسلہ میں وضاحت طلب کی گئی۔ منحرف ارکان نے جواب داخل کرنے کیلئے اسپیکر سے وقت مانگا ہے۔ جن ارکان کو نوٹس جاری کی گئی ، ان میں ڈی ناگیندر ، ٹی وینکٹ راؤ ، کڈیم سری ہری ، پوچارم سرینواس ریڈی ، کرشنا موہن ریڈی ، کے یادیا ، پرکاش گوڑ ، اے گاندھی ، مہیپال ریڈی اور سنجے کمار شامل ہیں۔ بی آر ایس کو امید ہے کہ سپریم کورٹ سے فیصلہ ان کے حق میں آئے گا اور منحرف ارکان کے حلقہ جات میں ضمنی چناؤ ہوں گے ۔1