بی جے پی ایم پی ورون گاندھی کی یوگی حکومت پرپھر تنقید

   

بلدی الیکشن کے موقع پرریاستی وزیر گنگوار پر سنگین الزام سے ہلچل

نئی دہلی :بی جے پی رکن پارلیمنٹ ورون گاندھی نے کئی بار چیف منسٹر اتر پردیش یوگی ادتیہ ناتھ ا ور عوامی مسائل کو لے کر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ایسے وقت میں جبکہ اتر پردیش میں بلدیاتی انتخاب ہونا ہے، اپنے پارلیمانی حلقہ پیلی بھیت میں ورون گاندھی نے ایک بار پھر عوام کے درمیان روزگار، کسان اور نجکاری معاملے پر حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے۔ اتنا ہی نہیں، بی جے پی پر بدعنوان لیڈروں کو تحفظ فراہم کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ورون گاندھی نے اپنی تقریر کے دوران ریاستی وزیر سنجے سنگھ پر خاص طور سے حملہ کیا اور ان پر سنگین الزام بھی عائد کیا۔ دراصل ورون گاندھی نے اسٹیج سے کہا کہ 35 سال ہم لوگوں کو پیلی بھیت میں ہو گئے ہیں، کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ہم نے ایک پیسے کی بھی بدعنوانی کی ہے؟ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ہم نے مل والوں سے پیسے لیے ہیں؟ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ ہم نے ٹھیکیداری کر کے کانکنی کی، کیا ہم نے کالونی کاٹی؟ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ میں یہاں آ کر لیڈر بننے کے بعد کالونی کاٹنے لگا؟ورون گاندھی کا کہنا ہے کہ جب میرے والد نے ماروتی گاڑی کھڑی کی، میری دادی نے میرے والد سے کہا کہ ہم لوگوں نے اس ملک کو آزاد کرانے میں کردار نبھایا ہے۔ ہم ایک گاڑی کمپنی کے مالک ہیں، یہ چھوٹی بات ہوگی اور ماروتی کمپنی کو ملک کے نام عطیہ کر دو۔ میرے والد نے فوراً یہ کام کر دیا۔ ایک لاکھ کروڑ ماروتی ملک کو عطیہ کر دیں۔ آج کل کا کوئی لیڈر ایسا کرے گا؟ کوئی نہیں کرے گا، سبھی لیڈر ملک کو لوٹ رہے ہیں۔ورون گاندھی کے بیان کے بعد الزامات کا سامنا کر رہے ریاستی وزیر سنجے سنگھ گنگوار نے ورون گاندھی پر جوابی حملہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ نیتا جی جو بولتے ہیں، چپل اٹھانے والے سمجھتے ہیں، وہ نیتا جی جب یہاں آئے تھے تو ممی کے ساتھ آئے تھے۔ پیلی بھیت کے عوام بھولی بھالی ہے، وہ انھیں ٹھگ لیتے ہیں، ان کے لیے شاعری کرنا چاہتا ہوں کہ ’دریا اب تیری خیر نہیں، دریا نے بغاوت کر لی ہے، عوام کو اب مرنے کا خوف نہیں، گھمنڈی آدمی تجھے جھکنا ہوگا۔‘