بی جے پی حکومت میں پی ڈی اے سماج پر استحصال کی انتہا: سماجوادی پارٹی

   

لکھنؤ، 14 اگست (یو این آئی) سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے قومی صدر اکھیلیش یادو نے الزام لگایا کہ اتر پردیش کی بی جے پی حکومت کے دور اقتدار میں پی ڈی اے سماج کا استحصال عروج پر ہے اور مجرموں کے حوصلے بلند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جرم کے خلاف ‘زیرو ٹالرینس’ جیسے سرکاری دعوے اب کھوکھلے ثابت ہو رہے ہیں۔مسٹر یادو نے جمعہ کو جاری ایک بیان میں کہا کہ پرتاپ گڑھ میں پی ڈی اے سماج کے سوربھ وشوکرما کا اقتدار کی سرپرستی حاصل سماج دشمن عناصر کے ذریعہ پیٹ پیٹ کر قتل کیے جانے کا واقعہ قابل مذمت ہے ۔ انہوں نے بدایوں میں ڈاکٹر کے ساتھ بدسلوکی اور مار پیٹ نیز گورکھپور میں بجلی کے ٹھیکیدار کا تلوار سے قتل کرنے کے واقعے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد پی ڈی اے سماج کے لیے مشکلات بڑھی ہیں۔ مہنگائی اور بدعنوانی سے عوام پریشان ہیں اور تھانہ و کچہری بدعنوانی کے اڈے بن گئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاست میں مذہب اور ذات دیکھ کر انصاف کیا جا رہا ہے۔
اور پولیس سماج دشمن عناصر کے سامنے بے بس نظر آ رہی ہے ۔ ایس پی سربراہ نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت میں نوجوانوں کے قتل اور خواتین کے ساتھ عصمت دری کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے ۔ انہوں نے زمینوں پر قبضے ، پولیس تحویل میں موت اور مبینہ فرضی انکاؤنٹروں کو لے کر بھی حکومت کو گھیرا۔ ایودھیا میں کسانوں کی زمینوں کی مبینہ خرید و فروخت کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے معاملے کی جانچ کا مطالبہ کیا۔ایس پی صدر نے کہا کہ آئین، جمہوریت اور تحفظات (ریزرویشن) خطرے میں ہیں۔ اکھیلیش نے الزام لگایا کہ ملازمتوں میں پی ڈی اے کے لیے مخصوص 11,514 عہدوں پر گھوٹالہ کیا گیا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ پی ڈی اے سماج کو تعلیم یافتہ ہونے سے روکنے کے لیے اسکول بند کیے جا رہے ہیں اور مسابقتی امتحانات کے سوالنامہ (پیپر) لیک ہونے سے نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے ۔ اکھیلیش نے آدیواسیوں کے معاملے پر بھی حکومت کو گھیرا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرزا پور، سون بھدر اور چندولی میں ونڈھیہ ایکسپریس وے کی تعمیر کے نام پر جنگلات کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے ۔