تلنگانہ میں زرعی قوانین پر عمل کا فیصلہ ، حکومت فصلوں کو نہیں خریدیگی، بی جے پی نے خیرمقدم کیا، کانگریس کی تنقید
حیدرآباد: ملک میں کسان مرکز کے نئے قوانین کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور تمام اپوزیشن جماعتوں نے کسانوں کے احتجاج کی تائید کی ۔ تلنگانہ میں برسر اقتدار ٹی آر ایس نے پارلیمنٹ میں مرکزی قوانین کی مخالفت کرتے ہوئے ریاست میں ایک دن کا احتجاج منظم کیا تھا۔ گریٹر حیدرآباد بلدی انتخابات کے بعد چیف منسٹر کے دورہ دہلی میں زرعی شعبہ کے بارے میں ٹی آر ایس کے موقف کو تبدیل کردیا ہے۔ چیف منسٹر نے یو ٹرن لیتے ہوئے مرکزی حکومت کے فیصلوں پر تلنگانہ میں عمل آوری کا عملاً آغاز کردیا۔ چیف منسٹر نے اعلیٰ سطحی اجلاس میں روایتی طرز پر کسانوں کی فصلوں کی خریدی کے طریقہ کار کو ختم کردیا اور کہا کہ کسان کہیں بھی فصلیں فروخت کرنے کیلئے آزاد ہیں۔ چیف منسٹر کے موقف میں اچانک تبدیلی سیاسی حلقوں میں حیرت کا باعث بن چکی ہے ۔ بی جے پی نے جو کل تک کے سی آر کو ہر معاملہ میں تنقید کا نشانہ بنا رہی تھی، اس نے زرعی پالیسی کا خیرمقدم کیا ہے۔ نئی دہلی سے واپسی کے تین ہفتے بعد چیف منسٹر کا پہلا جائزہ اجلاس زراعت سے متعلق امور پر تھا ، جس میں انہوں نے مرکزی قوانین کے مطابق ریاست میں زرعی شعبہ سے نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تلنگانہ کے طریقہ کار کے مطابق فصلوں کو گاؤں کی سطح پر حکومت کی جانب سے خریدا جاتا تھا لیکن اب ملک میں کسی بھی مقام پر فصل فروخت کرنے کیلئے کسان آزاد ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کے بعد چیف منسٹر کے موقف میں اچانک تبدیلی آگئی ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ برسر اقتدار پارٹی کے قائدین بھی اس تبدیلی پر حیرت کا اظہار کر رہے ہیں۔ ٹی آر ایس نے 8 ڈسمبر کو کسانوں کے بھارت بند میں حصہ لیا تھا۔ حکومت نے گزشتہ فصل کے موقع پر کسانوں کو حکومت کی مرضی کے مطابق فصلیں اگانے کے لئے پابند کیا تھا لیکن اب اس پابندی کو ختم کرتے ہوئے کسانوں کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق فصل اگائیں۔ کانگریس پارٹی نے چیف منسٹر پر یو ٹرن لینے کا الزام عائد کرتے ہوئے بی جے پی سے خوفزدہ ہونے کی بات کہی ۔ دوسری طرف بی جے پی کے ریاستی صدر بی سنجے نے حکومت کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی قوانین کے عین مطابق یہ فیصلہ کیا گیا ہے ۔ سنجے نے کہا کہ گزشتہ چار ماہ سے بی جے پی کی مخالفت کے بعد کے سی آر نے اپنا موقف تبدیل کیا ہے ۔ کسانوں کو فصلوں کے سلسلہ میں پابند کئے جانے کی بی جے پی مخالفت کر رہی تھی ۔ کے سی آر حکومت کے یو ٹرن سے تلنگانہ کے کسانوں کا کیا ردعمل رہے گا ، اس کا اندازہ آنے والے دنوں میں ہوسکتا ہے ۔ سیاسی مبصرین کے مطابق چندر شیکھر راؤ تلنگانہ میں بی جے پی کی بڑھتی طاقت سے خوفزدہ ہیں اور وہ مرکز سے ٹکراؤ کے موڈ میں نہیں۔ پارٹی قائدین اور مشیروں سے تبادلہ خیال کے بعد کے سی آر نے زرعی قوانین پر اپنا موقف تبدیل کردیا۔ دوباک میں بی جے پی کی کامیابی اور پھر گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن میں بی جے پی کے شاندار مظاہرہ نے کے سی آر کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے ۔ بی جے پی کے جارحانہ موقف کو روکنے کے لئے وہ مرکز کے ساتھ مفاہمت کا رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق کے سی آر کا یہ فیصلہ کسانوں میں ناراضگی کا سبب بن سکتا ہے کیونکہ فصلوں کیلئے حکومت کی اقل ترین امدادی قیمت ختم ہوجائے گی ۔ بی جے پی کو سیاسی طور پر خاموش کرنے کیلئے کسانوںکی ناراضگی مول لی گئی ۔
