بی جے پی کسی بھی ریاست میں انتخابی فائدہ حاصل کرنے کیلئے کچھ بھی کرنے کو تیار رہتی ہے ۔ کسی سے بھی دوستی کرلیتی ہے تو کسی سے بھی کنارہ کشی بھی کسی بھی وقت اختیار کرلیتی ہے ۔ بی جے پی نے جموں و کشمیر میں اپنے قدم جمانے کیلئے پی ڈی پی سے اتحاد کیا تھا اور اس کے ساتھ کچھ وقت تک حکومت چلانے کے بعد ریاست میں صدر راج نافذ کردیا گیا ۔ جموںو کشمیر کو ریاست کے د رجہ سے محروم کرتے ہوئے مرکزی زیر انتظام علاقوںمیں بانٹ دیا گیا ۔ اسی طرح متحدہ آندھرا پردیش میں تلگودیشم سے اتحاد کو ترجیح دی گئی ۔ ایک موقع پر مغربی بنگال میں ممتابنرجی سے بھی مفاہمت کی گئی تھی ۔ بہار میں نتیش کمار کے ساتھ ‘ لوک جن شکتی پارٹی کے ساتھ اور دوسرے مقامی گروپس کے ساتھ اتحاد کیا گیا ۔ رام ولاس پاسوان کی موت کے بعد لوک جن شکتی پارٹی کو پھوٹ کا شکار کرتے ہوئے اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کی گئی ۔ مہاراشٹرا میں بی جے پی کا شیوسینا کے ساتھ طویل اتحاد رہا ۔ شیوسینا کی علیحدگی کے بعد پارٹی نے شیوسینا میں پھوٹ ڈلوانے سے بھی گریز نہیں کیا ۔ ایکناتھ شنڈے کو ورغلاتے ہوئے شیوسینا میں پھوٹ کروادی گئی اور ریاست میں نئی حکومت بناتے ہوئے بی جے پی نے اپنی حصہ داری بھی حاصل کرلی ۔ یہی روش کئی اور ریاستوں میں بھی بی جے پی کی جانب سے اختیار کرتے ہوئے سیاسی فائدہ حاصل کیا گیا ۔ بی جے پی ہر طرح سے سیاسی اور انتخابی فائدہ حاصل کرنے سے گریز نہیں کرتی ۔ تلنگانہ پر بی جے پی نظریں جمائے ہوئے ہیں اور یہاں وہ اپنے سیاسی قدم مضبوطی سے جمانا چاہتی ہے ۔ پارٹی اس کیلئے مسلسل کوشش بھی کر رہی ہے تاہم اسے توقعات کے مطابق عوامی تائید ملتی نظر نہیں آ رہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اب بی جے پی وائی ایس آر تلنگانہ پارٹی کی سربراہ وائی ایس شرمیلا کو رجھانے کی کوشش کر رہی ہے ۔ یہ کوشش کسی اور نے نہیں بلکہ خود وزیر اعظم نریندر مودی نے شروع کی ہے ۔ شرمیلا سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے ان سے اتحاد کی راہیں کھولی جا رہی ہیں۔ اب یہ کوشش کامیاب ہوگی یا نہیں اور اتحاد ممکن ہوسکے گا یا نہیں یہ تو آئندہ وقت ہی بتاسکتا ہے ۔
وزیرا عظم نریندر مودی نے پہلے تو شرمیلا کے بھائی اور چیف منسٹر آندھرا پردیش وائی ایس جگن موہن ریڈی سے سوال کیا کہ شرمیلا کی تلنگانہ میں گرفتاری کی انہوں نے مذمت کیوں نہیں کی ۔ اس کے دوسرے ہی دن نریندر مودی نے وائی ایس شرمیلا کو فون کرتے ہوئے ان سے بات چیت کی ۔ انہیں دہلی آنے کی دعوت دی اور اظہار ہمدردی کیا ہے ۔ اس طرح وزیر اعظم نے شرمیلا سے سیاسی اتحاد کی کوشش کا آغاز کردیا ہے ۔ تلنگانہ میں قدم جمانے کیلئے بی جے پی کو مقامی سطح پر بھی کسی حلیف جماعت کی ضرورت تھی ۔ یہی کوشش بی جے پی آندھرا پردیش میں بھی کر رہی ہے ۔ وہاں پون کلیان کی جنا سینا سے اتحاد کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ اس اتحاد میں چندرا بابو نائیڈو کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے ۔ تلنگانہ میں جارحانہ تیور اختیار کرتے ہوئے اب شرمیلا کو بھی اپنے ساتھ ملانے کی کوشش ہو رہی ہے اور یہ آثار دکھائی دے رہے ہیں کہ دونوں جماعتوں میں آئندہ وقتوں میں باضابطہ اتحاد بھی ہوسکتا ہے ۔ بی جے پی نے ریاست میںہوئے چار ضمنی انتخابات میں دو میںکامیابی حاصل کی ہے اور ایک حلقہ میںسخت ترین مقابلہ دیا ہے ۔ شرمیلا حالانکہ ان انتخابات سے دور رہی تھیںلیکن وہ آئندہ اسمبلی انتخاب کی تیاری ضرور کر رہی ہیں۔ ایسے میں بی جے پی نے صورتحال کو بھانپتے ہوئے شرمیلا کی جانب سے دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے ۔ حالانکہ یہ باضابطہ اتحاد کی کوشش نہیں کہی جاسکتی لیکن یہ شروعات ہے اور ایک موقع دستیاب ہوا تھا جسے بی جے پی استعمال کر رہی ہے ۔
جہاں تک بی جے پی کی بات ہے تو وہ اپنے قدم جمانے اور اپنے سیاسی وجود کو مستحکم کرنے کیلئے یہ پہل کر رہی ہے اور شرمیلا کے تعلق سے کہا جاسکتا ہے کہ چونکہ ان کا کوئی انتخابی وجود ابھی نہیں ہے اور اگر انہیں اپنی انتخابی شروعات بی جے پی سے اتحاد کے ذریعہ کرنے کا موقع ملتا ہے تو وہ شائد اس سے فائدہ اٹھانے تیار ہوجائیں ۔ اس طرح وزیر اعظم نریندر مودی نے شرمیلا سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے ایک سیاسی داؤ کھیلا ہے اور اس کے ذریعہ سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی ہر دو فریق کوشش کر سکتے ہیں۔ بی جے پی کی حکمت عملی ریاست میں سیاسی اور انتخابی منظرنامہ اور امکانات کودلچسپ بنانے لگی ہے ۔