کیوں ان کے ماتھے پہ شکن ہے
کیا وہ مجھے پہچان گئے ہیں
تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کل جس وقت بہار کا دورہ کیا اور وہاں چیف منسٹر نتیش کمار اور آر جے ڈی کے قائدین ڈپٹی چیف منسٹر تیجسوی یادو اور سابق چیف منسٹر لالو پرساد یادو سے ملاقات کی تو میڈیا کے کچھ گوشوں کی توجہ زیادہ تر اسی جانب مبذول رہی ۔ کچھ گوشوں کی جانب سے اس ملاقات کو آئندہ عام انتخابات کیلئے حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا تھا تو کچھ گوشوں کی جانب سے نتیش کمار کو آئندہ وزارت عظمی امیدوار کے طور پر پیش کئے جانے کی بات کی جا رہی ہے ۔ چندر شیکھر راؤ نے جب پریس کانفرنس سے خطاب کیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بی جے پی مکت بھارت کیلئے کام کریں۔ چیف منسٹر کی یہ خواہش ضرور ہوسکتی ہے کہ ملک سے سیاسی اعتبار سے بی جے پی کا صفایا کیا جائے تاہم آج کے ماحول میں یہ سب کچھ اتنا آسان نہیں ہے جتنا کہنا آسان ہے ۔ آج یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بی جے پی ملک میں سب سے طاقتور جماعت بن گئی ہے ۔ اس کے ہاتھ میں جو کچھ اختیارات آگئے ہیں وہ سارے ملک نے محسوس کئے ہیں۔ اس طاقت اور اختیار کا بی جے پی کس طرح سے استعمال کر رہی ہے یہ سب دیکھ بھی رہے ہیں۔ ملک کے عوام کو کوئی دوسرا متبادل فی الحال نظر آنا مشکل کردیا گیا ہے ۔ عوام کے ذہنوں پر اس قدر کنٹرول کرلیا گیا ہے کہ وہ بنیادی مسائل اور ان کی اہمیت کو ہی سمجھنے کے موقف میں نہیں رہ گئے ہیں۔ عوام کو نزاعی اور اختلافی مسائل میں اور جذباتی اور اشتعال انگیز نعروں میں الجھا کر رکھ دیا گیا ہے ۔ ان کی سمجھ بوجھ پر کنٹرول کرلیا گیا ہے ۔ یہ اپوزیشن جماعتوں کیلئے ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے ۔ عوام کے دل و دماغ تک رسائی اپوزیشن کیلئے آسان نہیں رہ گئی ہے ۔ اس کے علاوہ ایک اور سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اپوزیشن کی صفوں ہی میں اتحاد نہیں رہ گیا ہے ۔ اتحاد کی کوششیں تک دم توڑتی نظر آ رہی ہیں اور اپوزیشن اتحاد کو سبوتاج کرنے کی سازشیں بھی تیز ہو گئی ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں میں اتنے آپسی اور باہمی اختلافات ابھرتے جا رہے ہیں جن کو دیکھتے ہوئے اپوزیشن اتحاد کی امیدیں بھی فی الحال تو فضول ہی نظر آتی ہیں۔
اس حقیقت سے ابھی تک تو انکار نہیں کیا جاسکتا کہ انتہائی کمزور ترین اور مردہ حالت میں بھی کانگریس پارٹی بی جے پی کے خلاف سب سے زیادہ نشستیں حاصل کرسکتی ہے ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ خود کانگریس کا اپنا گھر ٹھیک نہیں ہے ۔ اس میں خود داخلی اختلافات شدت اختیار کرچکے ہیں۔ سینئر قائدین یکے بعد دیگر پارٹی سے دوریاں اختیار کر رہے ہیں۔ پارٹی میں کوئی کل وقتی صدر نہیں ہے ۔ راہول گاندھی کے کام کاج کے انداز سے کئی قائدین کو اعتراض ہے ۔ ایک مضبوط کمان کی کانگریس کو ضرورت ہے ۔ اس سب کے باوجود بھی کانگریس اب بھی مخالف بی جے پی طاقتوں میں سب سے بڑی جماعت ہی کہی جاسکتی ہے ۔ جہاں تک علاقائی جماعتوں کی بات ہے تو یہ اپنی اپنی ریاست میں کانگریس سے زیادہ مستحکم ہیں ۔ وہ اپنی اپنی ریاستوں میں بی جے پی کو زیادہ نقصان پہونچا سکتی ہیں۔ ایسے میں کوئی جماعت کانگریس کے ساتھ کام کرنے کو تیار نہیں ہے تو کوئی جماعت کسی اور جماعت کو اپوزیشن اتحاد میں شامل کرنے کی مخالفت کر رہی ہے ۔ کوئی جماعت چاہتی ہے کہ ہر مسئلہ پر وزیر اعظم نریندر مودی کو نشانہ بنایا جائے تو کوئی جماعت کسی بھی حال میں مودی پر تنقید کرنا نہیں چاہتی ۔ کوئی جماعت اپوزیشن اتحاد کی وکالت کرتی ہے تو کوئی جماعت ابھی سے آئندہ انتخابات کو بی جے پی بمقابلہ اروند کجریوال قرار دینے کی کوشش کر رہی ہے ۔ انتہائی گنجلک اور پیچیدہ سیاسی حالات میں صورتحال بہت زیادہ غیر یقینی ہوگئی ہے ۔
ایسے میں اگر بی جے پی مکت بھارت کا نعرہ حقیقت پسندانہ نہیں کہا جاسکتا ۔ اس نعرہ کو حقیقت کا روپ دینا کسی کیلئے بھی آسان نہیں ہوگا اور خاص طور پر موجودہ اپوزیشن کیلئے تو یہ اور بھی مشکل کام ہے ۔ اس صورتحال میں سب سے پہلے اپوزیشن قائدین کو چاہے و ہ نتیش کمار ہوں یا چندر شیکھر راؤ ہوں ‘ چاہے وہ ممتابنرجی ہوں یا پھرا روند کجریوال ہوں ‘ چاہے وہ شرد پوار ہوں کہ ادھو ٹھاکرے ہوں ‘ چاہے وہ ایم کے اسٹالن ہوں یا پھر کوئی اور ہوں سبھی کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے اور سبھی جماعتوں کو ہم خیال بنانے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ اس سے بغیر کوئی بھی کوشش بی جے پی کے خلاف کامیاب ہونی ممکن نظر نہیں آتی ۔
