بی جے پی میں داخلی ناراضگی

   

Ferty9 Clinic

کچھ اضطرابِ درد کی فطرت بدل گئی
میری حیاتِ شوق کی جب رات ڈھل گئی
بی جے پی میں داخلی ناراضگی
بی جے پی کی ترجمان نوپور شرما اور ایک لیڈر نوین کمار جندال کی پارٹی سے معطلی اور برطرفی نے داخلی طور پر پارٹی میں ناراضگیوں کا آغاز کردیا ہے ۔ یہ ناراضگی قیادت کے تعلق سے نہیں ہے بلکہ پارٹی کی فیصلوں اور اقدامات کے تعلق سے ہے ۔ بی جے پی کا جو انتہائی مستحکم سوشیل میڈیا نیٹ ورک ہے اس میں پارٹی کے کارکن اور ہمدرد دو گروپس میں بٹ گئے ہیں۔ کچھ کارکن اور حامیوں کی جانب سے نوپور شرما اور نوین جندال کے خلاف کارروائی پر تنقید کی جا رہی ہے تو کچھ ورکرس اور ہمدرد اس کارروائی کے وقت پر سوال کر رہے ہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ پارٹی اس وقت تک حرکت میں نہیں آ رہی ہے جب تک بین الاقوامی سطح پر کوئی دباؤ نہیں بن رہا ہے ۔ نوپور شرما وجندال کے گستاخانہ ریمارکس کے خلاف جس طرح سے عرب ممالک میں رد عمل کا اظہار کیا جا رہا ہے اور ہندوستانی سفیروں کو طلب کرتے ہوئے احتجاج درج کروایا گیا ۔ ہندوستانی اشیاء کے بائیکاٹ کی اپیلیں ہو رہی ہیں اور سوپر مارکٹس سے ہندوستانی مصنوعات کو ہٹادیا گیا ہے اس کے بعد ان دونوں گستاخ ریمارکس کرنے والوں کو پارٹی نے علیحدہ کردیا ۔ نہ صرف انہیں پارٹی سے دور کردیا گیا بلکہ ان کے خیالات سے پارٹی نے خود کو دور کرلیا ہے اور کہا ہے کہ پارٹی تمام مذاہب کا احترام کرنے والی ہے اور کسی بھی مذہب کی ہستیوں کے تعلق سے گستاخانہ ریمارکس کو برداشت نہیں کرتی ۔ پارٹی کے فیصلے کے خلاف خود بی جے پی کے سوشیل میڈیا گروپس میں ناراضگی چل رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ پارٹی نے نوپور شرما کے خلاف کارروائی ایسے وقت میں کی ہے جب انہیںجان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں ۔ ایک گوشے کا سوال ہے کہ اگر اب نوپور شرما کے خلاف کارروائی کی گئی ہے تو پھر ماضی میں کپل مشرا اور تاجندر بگا جیسے قائدین کو اسمبلی انتخابات میں ٹکٹ دیتے ہوئے انعام سے کیوں نوازا گیا تھا ؟ ۔ کچھ گروپس میں کہا جا رہا ہے کہ جب کبھی ٹریننگ کیمپس منعقد کئے گئے ہیں ان میں جارحانہ ریمارکس کی ہی ترغیب دی گئی ہے اور جب اس ترغیب پر عمل کیا جا رہا ہے تو ایسا کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے ۔
انہیں گروپس میں کچھ افراد کا تاثر ہے کہ بی جے پی کو صرف ہجوم کو ساتھ لے کر چلنے کی روایت کو ترک کرنا ہوگا ۔ پارٹی کو اشتعال انگیز اور متنازعہ مسائل پر جارحانہ بیان بازی سے گریز کرنے کی ضرورت ہے ۔ اشتعال انگیزیوں کے سہارے حکومت نہیں چلائی جاسکتی اور سیاسی فائدہ بھی ایک حد تک ہی حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ کچھ گروپس میں تو یہ تک کہا جا رہا ہے کہ پارٹی کے سوشیل میڈیا کارکنوں اور ہمدردوں کو لکھنے پڑھنے کی سمت راغب کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہیں تاریخ سے واقف کروایا جانا بھی بہت ضروری ہے تاکہ پارٹی کو ہونے والی ہزیمت سے بچاجاسکے ۔ کچھ کارکنوں کا یہ تاثر تھا کہ پارٹی اس وقت تک کسی بھی متنازعہ مسئلہ پر کوئی کارروائی نہیں کر رہی ہے جب تک بین الاقوامی سطح پر کوئی رد عمل ظاہر نہ کیا جائے ۔ داخلی طور پر خود سے حرکت میں آنے سے پارٹی گریز کر رہی ہے اسی لئے یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے اور دنیا بھر میں ہندوستان کو ہزیمت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ہندوستانی مصنوعات کی فروخت کو بند کیا جا رہا ہے ۔ ہندوستان کے بائیکاٹ کی اپیلیں ہو رہی ہیں اور ہندوستانی سفیروں کو طلب کرتے ہوئے داخلی مسئلہ پر احتجاج درج کروایا جا رہا ہے ۔ اس سے دنیا بھر میں ہندوستان کی نیک نامی متاثر ہو رہی ہے ۔ پارٹی کو حکمرانی پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوششوں سے گریز کرنا چاہئے ۔ دونوں ہی گروپس کے موقف کی تائید کرنے والے کارکنوں اور ہمدردوں کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے ۔
موجودہ صورتحال میں بی جے پی کیلئے جو مشکل پیدا ہوئی ہے اس سے پارٹی پر اثر ہونا لازمی ہے ۔ جو انتہائی شدت پسند عناصر ہوگئے ہیں وہ نوپور شرما کی معطلی کو ہضم کرنے تیار نہیں ہیں اور یہی لوگ ہیں جو پارٹی کیلئے بھی بعد میں مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پارٹی صورتحال کو سمجھے ۔ نفرت کی سیاست کے مضر اثرات پر غور کرے ۔ ہر مسئلہ کو تعصب کی نظر سے دیکھنے سے گریز کیا جائے ۔ اپنے سوشیل میڈیا کارکنوں کی تربیت پر توجہ دی جائے تاکہ انہیں ایک حد میں رکھا جاسکے ۔ انہیں اس بات کو سمجھایا جاسکے کہ شدت پسندی کے اثرات کبھی خود کیلئے بھی مضر ہوسکتے ہیں جس طرح اب ہونے لگے ہیں۔