زعفرانی پارٹی اقتدار میں آئے گی تو بنگال اور بنگالی عوام کو تقسیم کردے گی ۔ چیف منسٹر کا انتخابی ریلی سے خطاب
رائے ڈگی ( مغربی بنگال ) چیف منسٹر مغربی بنگال نے بی جے پی پر الزام عائد کیا کہ وہ اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے ریاست میں فرقہ وارانہ تنازعات پیدا کر رہی ہے ۔ ترنمول کانگریس سربراہ نے جنوبی 24 پرگنہ ضلع میں رائے ڈگی کے مقام پر ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ بی جے پی کی مدد والی پارٹی ‘ جو حیدرآباد سے تعلق رکھتی ہے اور اس کے بنگال کے حلیفوں کے جھانسے میں نہ آئیں ۔ یہ جماعتیں ووٹوں کی تقسیم کیلئے میدان میں آئی ہیں۔ ممتابنرجی کا اشارہ اسد اویسی کی قیادت والی مجلس اور عباد صدیقی کی آئی ایس ایف کی جانب تھا ۔ دونوں ہی جماعتوں نے پہلے بھی ترنمول کانگریس کے الزامات سے انکار کردیا ہے ۔ ترنمول سربراہ نے ہندو عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ بی جے پی کی جانب سے فرقہ وارانہ جھڑپوں کو ہوا دینے کی کوششوں کے خلاف چوکس رہیں۔ پارٹی نے ان پر زور دیا کہ وہ باہر سے آنے والوں کا تعاقب کرکے باہر نکالیں ۔ انہیں مقامی سطح پر گڑ بڑ پیدا کرنے کیلئے بھیجا گیا ہے ۔ اپنی ہندو شناخت کی توثیق کرتے ہوئے ممتابنرجی نے کہا کہ وہ ایک کٹر ہندو ہیں اور ہر روز گھر سے روانہ ہونے سے قبل چندی منتر پڑھتی ہیں۔ تاہم وہ دوسرے مذاہب کو بھی احترام و عزت دینے کی روایت میں یقین رکھتی ہیں۔ دلتوں کے گھروں پر کھانا کھانے بی جے پی قائدین کے رویہ پر طنز کرتے ہوئے ممتابنرجی نے کہا کہ وہ ایک برہمن خاتون ہیں تاہم ان کی ہمیشہ سے معاون ایک شیڈولڈ کاسٹ کی خاتون ہیں جو ان کی تمام ضروریات کا خیال رکھتی ہیں۔ وہی ان کیلئے کھانا بھی تیار کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ان باتوں کی تشہیر کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ جو لوگ فائیو اسٹار ہوٹلس سے کھانا لا کر دلت کے گھر میں بیٹھ کر نوش کرتے ہیں وہ فطرتا مخالف دلت ‘ مخالف پسماندہ طبقات اور مخالف اقلیت ہیں۔ ترنمول سربراہ نے ادعا کیا کہ مغربی بنگال میں اگر بی جے پی کو اقتدار مل جائے تو یہاں شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی پر عمل کیا جائیگا ۔ اس سے کئی شہری جانے پر مجبور ہوجائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی مغربی بنگال کے کو اور اس کے عوام کو تقسیم کردے گی ۔ عوام کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ کس طرح سے بی جے پی نے آسام میں این آر سی کے دوران 14 لاکھ بنگالیوں اور 2 لاکھ بہاریوں کے نام حذف کردئے تھے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرکزی فورسیس کی جانب سے پولنگ سے 48 گھنٹے قبل ہر گھر پر جاکر عوام کو خوفزدہ کیا جا رہا ہے ۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ وہ بی جے پی کے حق میں ووٹ ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ ان سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ اب مائیں اور بہنیں ان کو چیلنج کر رہی ہیں۔ اگر فورسیس غیرجانبداری سے کام کرتے ہوئے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنائیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے تاہم اگر یہ لوگ ایک مخصوص سیاسی جماعت کی ایما پر کام کریں تو ہم احتجاج کریں گے ۔
