بی جے پی کو اقتدار سے بیدخل کرنے سیکولر پارٹیوں میں اتحاد کی ضرورت

   


علاقائی پارٹیوں سے مفاہمت کیلئے سی پی آئی تیار، قومی جنرل سکریٹری ڈی راجا کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔17 ۔ نومبر (سیاست نیوز) سی پی آئی کے قومی جنرل سکریٹری ڈی راجا نے ملک بھر میں بی جے پی کے خلاف متحدہ مقابلہ کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ سی پی آئی زعفرانی پارٹی کے خلاف تمام علاقائی جماعتوں کے ساتھ مفاہمت کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے کہاکہ جو بھی پارٹی بی جے پی کی مخالفت میں کام کرے گی ، سی پی آئی اس کا ساتھ دے گی۔ حیدرآباد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈی راجہ نے کہا کہ 2024 ء کے عام انتخابات تمام سیاسی پارٹیوں کیلئے اہمیت کے حامل ہیں۔ بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کیلئے تمام سیکولر جماعتوں کو متحدہ طور پر کام کرنے کا یہ بہترین موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی شکست یقینی بنانے کیلئے ہم تمام ہمخیال سیاسی پارٹیوں کے قائدین کے ساتھ آئندہ انتخابات میں کام کرنے کیلئے تیار ہیں۔ سی پی آئی کے قومی سکریٹری نے الزام عائد کیا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت نے 8 برسوں میں عوام بالخصوص نوجوانوں کو دھوکہ دیا ہے۔ وعدوں کی تکمیل میں ناکامی کے سبب عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ہر سال دو کروڑ روزگار فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے نوجوانوں کے ساتھ دھوکہ دہی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کے فیصلوں کے نتیجہ میں ملک کی معیشت کمزور ہوئی ہے۔ ڈی راجا نے کہا کہ اگر 2024 ء میں بی جے پی کو دوبارہ اقتدار حاصل ہوا تو ملک مزید تباہی کے راستہ پر چل پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ سیکولر اور جمہوریت پسند طاقتوں کو ابھی سے اپنی حکمت عملی تیار کرنی چاہئے ۔ سی پی آئی کے قومی سکریٹری ڈاکٹر کے نارائنا نے الزام عائد کیا کہ خانگی ایرلائینس کمپنیاں حوالہ رقم اور سونے کی منتقلی کے اسکام میں ملوث ہیں۔ انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی کارروائی سے اس کا ثبوت ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فلائیٹس میں مسافرین کی طرح خانگی آپریٹرس کے ملازمین اور ان کے نمائندوں کی بھی مکمل جانچ ہونی چاہئے ۔ سی پی آئی کے ریاستی سکریٹری سامبا سیوا راؤ نے کہا کہ ان کی پارٹی تلنگانہ میں بی جے پی کو شکست دینے کے واحد مقصد کے ساتھ کام کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں سی پی آئی ایسے حلقوں میں ٹی آر ایس سے مقابلہ نہ کرنے کی اپیل کرے گی جہاں سی پی آئی مضبوط موقف میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس سے انتخابی مفاہمت کے ذریعہ سی پی آئی مضبوط حلقوں میں مقابلہ کرے گی۔ ر