بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنے سیکولر جمہوری طاقتوں کا اتحاد ضروری

   


جموں میں سی پی آئی کی ریاستی کونسل کے اجلاس سے قومی سکریٹری سید عزیز پاشاہ کا خطاب
حیدرآباد۔/20 نومبر، ( سیاست نیوز) سی پی آئی کے قومی سکریٹری سید عزیز پاشاہ سابق رکن راجیہ سبھا نے کہا کہ مرکز میں بی جے پی برسراقتدار آنے کے بعد سے جموں کشمیر میں بیروزگاری میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ مرکزی حکومت نے کشمیر کے خصوصی موقف کو ختم کرتے ہوئے عوام کیلئے مشکلات پیدا کی ہیں۔ عزیز پاشاہ نے جموں میں سی پی آئی کی ریاستی کونسل کے اجلاس میں شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت دعویٰ کررہی ہے کہ دفعہ 370 اور 35A کی برخواستگی کے باعث جموں کشمیر کی ترقی کی راہ ہموار ہوئی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حکومت کے اس فیصلہ نے وادی میں بیروزگاری میں اضافہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی حکمرانی سے ملک کئی شعبہ جات میں پسماندہ ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس بات کا قوی اندیشہ ہے کہ بی جے پی دستور میں ترمیم کرتے ہوئے ہندوستان کو ہندوتوا ملک قرار دے۔ 2024 کے عام انتخابات میں اگر بی جے پی کامیاب ہوتی ہے تو دستور میں ترمیم کرنے میں آسانی ہوجائے گی۔ عزیز پاشاہ نے جمہوری اور سیکولر پارٹیوں سے اتحاد کی اپیل کی تاکہ بی جے پی اور دیگر فرقہ پرست طاقتوں کو اقتدار سے دور رکھا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ لاطینی امریکہ میں بائیں بازو جماعتوں کی حالیہ کامیابیوں سے امید پیدا ہوئی ہے کہ ترقی پسند اور جمہوری طاقتیں اُبھر رہی ہیں۔ سی پی آئی کے سینئر قائد اور جنرل سکریٹری نیشنل فیڈریشن آف انڈین ویمنس اے راجا نے ورکرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دستور کی دفعہ 370 کی برخواستگی اور کوویڈ لاک ڈاؤن کے نتیجہ میں خواتین اور بچے بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ جموں کشمیر سی پی آئی کے سکریٹری جی ایم مزراب نے کہا کہ وادی میں طویل عرصہ سے عہدیداروں کا راج چل رہا ہے جس کے نتیجہ میں عوام مشکلات سے دوچار ہیں۔ بی جے پی انتخابات کے انعقاد میں تاخیر کررہی ہے۔ سینئر قائد راکیش شرما نے کہا کہ جموں کشمیر میں بیرونی سرمایہ کاری سے متعلق حکومت کے دعوے بے بنیاد ہیں۔ سی پی آئی کے سینئر لیڈر اشونی کپور نے اجلاس کی صدارت کی۔ر