بی جے پی کو عوامی مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں۔ صرف سیاست کو ترجیح

   

اسمبلی اجلاس میں حکومت تمام مسائل پر تبادلہ خیال کرنے کو تیار ۔ ڈپٹی چیف منسٹر کرناٹک ڈی کے شیوکمار کا بیان

ہبلی (کرناٹک):کرناٹک کے ڈپٹی چیف منسٹر ڈی کے شیوکمار نے بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے، آج الزام لگایا کہ بیلگاوی میں اسمبلی کے سرمائی اجلاس کے دوران ریاست اور عوام کے مسائل پر بات کرنے کے بجائے، بی جے پی صرف سیاست میں دلچسپی رکھتی ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی ریاست میں دھڑوں میں بٹ گئی ہے اس لیے انہیں حقیقی مسائل پر بات کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔اسمبلی اجلاس میں شمالی کرناٹک سے متعلق مسائل پر ابھی تک بات نہ ہونے کے سوال کا جواب دیتے ہوئے شیوکمار نے صحافیوں کو بتایا کہ کیا کرنا ہے؟ بی جے پی کو کسی بحث میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔وہ سیاست کے علاوہ کسی اور چیز میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ ان کے درمیان کوئی اتحاد نہیں ہے ۔9 دسمبر کو شروع ہونے والا سیشن آئندہ ہفتے کے دوران جاری رہے گا۔قانون ساز اجلاس 2006 سے ہر سال ایک بار مہاراشٹرا کی سرحد سے متصل بیلگاوی میں منعقد ہوتا ہے ۔ سوارنا ودھان سودھا بنگلورو میں سیکرٹریٹ ودھان سودھا کی طرز پر بنایا گیا تھا تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ بیلگاوی کرناٹک کا ایک لازمی حصہ ہے۔ مہاراشٹرا کا دعویٰ ہے کہ بیلگاوی اور آس پاس کے کچھ علاقے اس کا حصہ ہیں۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا سیشن کے دوران شمالی کرناٹک سے متعلق آبپاشی کے مسائل پر بات کی جائے گی، آبی وسائل کے وزیر شیوکمار نے کہا کہ حکومت کسی بھی مسئلے پر بات کرنے تیار ہے۔مہادائی منصوبے پرانہوں نے کہاکہ حال میں مرکزی وزیر جنگلات بھوپیندر یادو اور مرکزی وزیر پرہلاد جوشی سے اس بارے میں ملاقات کی تھیم نے ٹنڈرز طلب کئے اور ہم اجازت ملتے ہی کام شروع کر دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ جوشی اور بی جے پی ایم پی جگدیش شیٹر کو اجازت حاصل کرنے کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ ہمیں اجازت ملنے کے بارے میں اعتماد ہے۔ یہ پوچھے جانے پر کہ گزشتہ بی جے پی حکومت میں مبینہ طور پر کوویڈ 19 اسکام کے ایف آئی آر میں کسی رہنما کا نام کیوں نہیں لیا گیا، شیوکمار نے کہا کہ ہم نے بی جے پی قائدین کے بارے میں کچھ نہیں کہا، ریٹائرڈ جج مائیکل ڈی کنہا کمیشن کی رپورٹ کی بنیاد پر کارروائی کر رہے ہیں۔ ایف آئی آر کو رپورٹ میں دی گئی سفارشات کی بنیاد پر رجسٹر کیا گیا ہے ۔ آگے دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔