رکن اسمبلی بہار للن پاسوان کا بیان تنازعہ کا شکار ، پارٹی میں بے چینی اور اندرونی مخالفت
حیدرآباد ۔ 21 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز) : ملک میں ایس سی طبقہ کو عدم تحفظ و شناخت کی دہائی دیتے ہوئے اپنے حق میں استعمال کرنے والی بی جے پی کے لیے اب ایسا ظاہر ہورہا ہے کہ مشکلات نے دستک دینا شروع کردیا ہے ۔ ایس سی طبقہ کی مختلف انداز میں خوشنودی حاصل کرنے والی بی جے پی کے لیے اب خود پارٹی کے ایس سی قائدین کی جانب سے ایک بڑے چیالنج کا سامنا ہورہا ہے ۔ فرقہ پرستی ، مذہبی شدت پسندی اور ایس سی طبقہ کو ہندو مذہب میں موثر شناخت کا دعویٰ کرنے والی پارٹی کے لیے اب پارٹی قائد نے خود بڑا سوال کھڑا کردیا ہے ۔ بہار کے رکن اسمبلی للن پاسوان کا حالیہ بیان جو تنازعہ کی شکل اختیار کر گیا ہے ۔ پارٹی میں بے چینی اور اندرونی مخالفت کو صاف طور پر پیش کردیا ہے ۔ ہندو دیوی دیوتاؤں کو پوجنے کے طریقہ کار پر پاسوان کا کھلا بیان اب بی جے پی کئی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دے گا ۔ بی جے پی جو ہندو مذہب کی محافظ اور ٹھیکیداری کا دعویٰ کرتی ہے پاسوان کے اس بیان سے ایک دم پریشان ہوگئی ہے ۔ پاسوان کا بیان نہ صرف ان کے خیالات بلکہ ان کی کمیونٹی کے موقف کو پیش کرنے کے مترادف تصور کیا جانے لگا ہے ۔ ماہرین سیاسی مبصرین اور دانشوروں کے مطابق اگر مانا جائے تو کیا ایس سی طبقہ بی جے پی سے بیزار ہوچکا ہے ۔ ملک کی پارلیمنٹ کی 128 محفوظ ایس سی نشستوں میں 88 نشستوں پر بی جے پی کے امیدواروں نے کامیابی حاصل کی جن کا تعلق ایس سی طبقہ سے ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی ، ایس سی طبقہ کوا پنی طاقت تصور کرتی ہے لیکن اب ایس سی بھی اپنی طاقت کو ثابت کرنے کے حکمت عملی اختیار کرسکتے ہیں ۔ ایس سی طبقہ تاحال احساس کمتری کے دائرے سے باہر نہیں آسکا ۔ ہندو مذہب کے محافظ اور ٹھیکیداروں کے دوڑ میں انہیں وہ مقام بی جے پی نہیں دلاسکی جس کی خاطر وہ ہمیشہ بی جے پی کے ساتھ رہے لیکن للن پاسوان کا بیان بی جے پی سے بیزارگی کا ایک اشارہ مانا جارہا ہے ۔ شمالی ہند کی ریاستوں میں اپنا مضبوط موقف رکھنے والی بی جے پی کے لیے ایس سی طبقہ ایک اہم طاقت تصور کیا جاتا ہے ۔ حالانکہ اترپردیش میں ایس سی طبقہ کی اپنی ایک سیاسی جماعت مایاوتی کی شکل میں موجود ہے اور سابقہ انتخابات میں اس بات کی دلیل ہیں کہ بھلا اس بہوجن سماج کے ارکان کامیاب نہیں ہوسکے لیکن ان کے ووٹ فیصد نے سب کو حیرت میں ڈال دیا اور سونچنے پر مجبور کردیا کہ ایس سی طبقہ کچھ پیغام دینا چاہتا ہے ۔ بہار کے رکن اسمبلی للن پاسوان نے آتما اور پرماتما کے تعلق سے اپنے خیالات کا خلاصہ کیا اور ہندو دھرم کے ماننے والوں اور دیوی دیوتاؤں کو پوجنے کے طریقہ کار کو مبینہ تنقید کا نشانہ بنایا اور ان کے پوجنے کے طریقہ کار سے مسلمانوں اور عیسائیوں کا تقابل کرتے ہوئے ایک نئی بحث کا آغاز کرتے ہوئے تنازعہ پیدا کردیا ۔ ملک کے جمہوری اقدار کے تحفظ کے دعویدار اب ایس سی طبقہ کو استحصال کے دائرے سے باہر نکالنے کی جو کوشش کررہے تھے انہیں ایک نیا موقع ہاتھ آیا ہے جب کہ خود ایس سی طبقہ کے دانشور افراد بھی ایس سی طبقہ کو ایک الگ پہچان دلانا چاہتے ہیں ۔ چونکہ مذہبی اعتبار سے ہندو مذہب کے ماننے والوں میں ان کی شناخت محض وعدوں تک ہی محدود رہ گئی ہے ۔ انہیں وہ مقام حاصل نہیں ہوپایا ہے جس کا بی جے پی نے انہیں برسوں سے خواب دیکھا ۔ للن پاسوان کا بیان اس بات کی طرف بھی ایک اشارہ ہے جو مقام اعلیٰ ذات کے دبدبہ والی بی جے پی میں بی سی طبقہ کو حاصل ہوا وہ مقام ایس سی طبقہ کو حاصل نہیں ہوپایا ہے ۔۔ ع