ملک بھر میں سیاسی حکمت عملی کے ماہر سمجھے جانے والے پرشانت کشور نے یہ واضح کیا ہے کہ 2024 میں بی جے پی کو شکست دی جاسکتی ہے تاہم اس کیلئے سیاسی جماعتوں کو اپنے اتحاد اور اپنے طرز عمل میں کچھ تبدیلیوں کی اور اپنی ترجیحات کو بدلنے کی ضرورت ہوگی ۔ ایک ایسے وقت جبکہ سارے ملک میں یہ تاثر عام کیا جا رہا ہے کہ بی جے پی کو شکست دینا آسان نہیں ہے بلکہ تقریبا ناممکن ہوگیا ہے پرشانت کشور کا یہ دعوی قابل غور ہے ۔ ویسے بھی پرشانت کشور نے بی جے پی کو بنگال میں شکست دیتے ہوئے واضح کردیا تھا کہ بی جے پی کو شکست دینا ناممکن ہرگز نہیں ہے اور اس کو بری ہزیمت سے دوچار بھی کیا جاسکتا ہے ۔ بہار میں بی جے پی نے اپنے آلہ کار عناصر کو استعمال کرتے ہوئے سکیولر طاقتوں کے امکانات کو متاثر کیا اور خود بمشکل تمام اقتدار برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ دہلی میں اروند کجریوال نے تن تنہا بی جے پی کا مقابلہ کیا اور اسے کراری شکست سے دوچار کردیا ۔ اسی طرح بنگال میں بی جے پی نے دو سال تک عملا مہم چلائی ۔ ہر ہتھکنڈہ اختیار کیا ۔ ترنمول قائدین کو خوفزدہ کیا ۔ انہیں ہراساں کرتے ہوئے اپنی صفوں میں شامل کیا ۔ مذہبی منافرت کو ہوا دینے کی کوشش کی ۔ ریاست کے پرسکون ماحول کو پراگندہ کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی ۔ مرکزی و مختلف ریاستی قائدین کی قطار لگا دی گئی اس کے باوجود پارٹی ریاست میں کامیابی حاصل نہیں کرسکی ۔ انتخابات سے قبل جو قائدین اقتدار کے لالچ یا مقدمات کے خوف سے بی جے پی میں شامل ہوئے تھے وہ بھی دھیرے دھیرے بی جے پی چھوڑتے ہوئے ترنمول میں واپسی کر رہے ہیں۔ اسی طرح اب پانچ ریاستوں میں جو انتخابی عمل شروع ہوا ہے ان میں بھی بی جے پی کی حالت ابتر دکھائی دے رہی ہے ۔اترکھنڈ اور گوا میں بی جے پی کا اقتدار ہاتھ سے جاتا دکھائی دے رہا ہے ۔ اترپردیش میں سماجوادی پارٹی کی اقتدار پر واپسی کے اشارے مل رہے ہیں۔ ایسے میں پرشانت کشور کا یہ کہنا کہ 2024 میں بی جے پی کو شکست دی جاسکتی ہے قابل غور ہے ۔سبھی اپوزیشن جماعتوں کو اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔
پرشانت کشور نے ایک انٹرویو میں یہ واضح کیا ہے کہ بی جے پی طاقتور ضرور ہے لیکن اپوزیشن اپنی ترجیحات اور ہئیت میں تبدیلی کرتے ہوئے اسے شکست دے سکتی ہے ۔ پرشانت کشور نے یہ بھی واضح کردیا کہ بی جے پی کے خلاف پوری طاقت سے مقابلہ کرنے اپوزیشن کے اتحاد میں کانگریس کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ۔ آج بھی کئی ریاستوں میں کانگریس ہی بی جے پی سے مقابلہ کرنے کی طاقت رکھتی ہے اور اس کا کیڈر موجود ہے ۔ علاقائی جماعتیں اپنی اپنی ریاستوں میں مستحکم ہیں لیکن سارے ہندوستان میں بی جے پی کا متبادل کانگریس ہی ہوسکتی ہے اورا پوزیشن اتحاد اس کے بغیر طاقتور نہیں ہوسکتا ۔ پرشانت کشور نے اب تک جو کام کیا ہے اس سے سبھی واقف ہیں۔ انہوں نے جو منصوبے بنائے تھے ان میں اکثر کامیاب رہے ہیں۔ اب وہ ذمہ داری کے ساتھ یہ کہہ رہے ہیں کہ آئندہ پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کو شکست دی جاسکتی ہے تو اپوزیشن جماعتوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس پر غور کریں۔ پرشانت کشور سے مشاورت کی جائے ۔ سیاسی صورتحال کا مشاہدہ کیا جائے ۔ سینئر سیاسی قائدین اپنے طور پر ایک دوسرے سے مشاورت کریں۔ جن مسائل پر عوام کی تائید حاصل کی جاسکتی ہے ان کا تعین کیا جائے ۔ ہر پارٹی اپنے مفادات پر اٹل رہنے کی بجائے ایک وسیع تر اتحاد کو فروغ دینے کی حکمت عملی کے ساتھ کام کرے ۔ زیادہ سے زیادہ عوامی تائید حاصل کرنے کے منصوبوں پر کام کیا جائے ۔
اب جبکہ آئندہ پارلیمانی انتخابات کو دو سال سے زائد کا وقت باقی ہے تو ملک کی تمام اپوزیشن جماعتوں کو جو بی جے پی کو شکست دینا چاہتی ہیں اس سلسلہ میں سرگرم ہونے کی ضرورت ہے ۔ اپنی اپنی علیحدہ اور پھر ایک مشترکہ حکمت عملی بنانے پر کام کرنا چاہئے ۔ اہمیت کے حامل مسائل پر عوام میں شعور بیدار کرنے اور مہم چلانے کیلئے حرکت میں آنا چاہئے ۔ حکومت کی ناکامیوں کو عوام کے سامنے پیش کرتے ہوئے اپنے مستقبل کے ارادوں اور پروگرامس سے بھی عوام کو واقف کروانا چاہئے ۔ جامع حکمت عملی کے ساتھ بی جے پی کو اقتدار سے بیدخل کرنے کیلئے ابھی سے سرگرم ہونا سبھی کیلئے ضروری ہے ۔
