پارٹی کی ریاستی قیادت کی فرقہ وارانہ مہم سے ناراضگی ۔ ریونت ریڈی سے ملاقات
حیدرآباد۔16۔ مئی ۔ (سیاست نیوز) رکن پارلیمنٹ عادل آباد سوئم باپو راؤ بھارتیہ جنتا پارٹی سے مستعفی ہوکر کانگریس میں شامل ہونے پر غور کر رہے ہیں! کرناٹک انتخابات کے بعد ریاست کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے بی جے پی رکن پارلیمنٹ عادل آباد سوئم باپو راؤ کی کانگریس میں شمولیت کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں اور کہا جا رہاہے کہ وہ صدر تلنگانہ پردیش کانگریس ریونت ریڈی سے راست رابطہ میں ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ رکن پارلیمنٹ عادل آباد نے صدر پردیش کانگریس کو اپنے فرزند کی شادی کی تقریب میں مدعو کیا ہے اور ریونت ریڈی نے تقریب میں شرکت کا وعدہ بھی کیا ہے۔ذرائع کے مطابق رکن پارلیمنٹ سوئم باپو راؤ بی جے پی بالخصوص ریاستی قیادت سے ناراض ہیں اور ان کا کہناہے کہ ریاستی قیادت کارکردگی کے بجائے فرقہ واریت کو فروغ دینے میں مصروف ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ وہ مسلسل شکایت کر رہے ہیں کہ قومی قیادت کو متعدد متوجہ کروایا گیا اور قومی قیادت نے تلنگانہ سے منتخب رکن پارلیمنٹ کریم نگر کو ریاستی صدر مقرر جبکہ حلقہ پارلیمان سکندرآباد سے منتخب جی کشن ریڈی کو مرکزی کابینہ میں شامل کیا گیااور ان کے ساتھ ناانصافی کا سلسلہ جاری ہے۔ رکن پارلیمنٹ نے واضح کیا ہے کہ حلقہ پارلیمان عادل آباد سے دوبارہ بی جے پی ٹکٹ پر منتخب ہونا یا بی جے پی کی کامیابی ممکن نہیں ہے اور تلنگانہ میں بی آر ایس کا مقابلہ کرنے صرف کانگریس کو مستحکم پارٹی قراردیا ہے۔رکن پارلیمنٹ ملکاجگری و صدر تلنگانہ پردیش کانگریس ریونت ریڈی اور عادل آباد ایم پی کے درمیان تعلقات اور رابطہ کو دیکھتے ہوئے کہا جا رہاہے کہ عادل آباد میں بی جے پی کی کامیابی کو یقینی بنانے والے رکن پارلیمان مستقبل قریب میں کانگریس میں شمولیت کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔سوئم باپو راؤ کی گھر واپسی تلنگانہ میں بی جے پی کیلئے بڑا نقصان ثابت ہوسکتی ہے اور کانگریس کیلئے قبائیلی طبقہ میں استحکام کا سبب بن سکتی ہے اسی لئے کانگریس ان کی دوبارہ پارٹی میں واپسی کے متعلق سنجیدہ ہے ۔اطلاعات کے مطابق سوئم بابو راؤ نے تاہم کانگریس میں شمولیت کی اطلاعات کو مسترد کردیا ہے ۔م