یہ سوچا ہے کہ دل کی بات ان کے روبرو کہہ دیں
نتیجہ کچھ بھی نکلے آج اپنی آرزو کہہ دیں
بی جے پی ‘ یوگی کا بڑھتا حلقہ اثر
چیف منسٹر اترپردیش آدتیہ ناتھ کا حلقہ اثر خود بی جے پی میں بھی بڑھتا جا رہا ہے بلکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ بڑھایا جا رہا ہے ۔ ایسے وقت میں جبکہ اترپردیش میںاسمبلی انتخابات کیلئے وقت قریب آتا جا رہا ہے اور چند ماہ ہی باقی رہ گئے ہیں خود بی جے پی کو یہ احساس ہونے لگا ہے کہ جب تک آدتیہ ناتھ کو اہمیت دے کر پیش نہیں کیا جاتا رہے گا اس وقت تک اترپردیش میں اسمبلی چناؤ میں ہونے والی امکانی مشکلات کو ٹالا نہیں جاسکتا ۔ بی جے پی اترپردیش کیلئے خاص منصوبہ پر عمل کر رہی ہے اور اب آدتیہ ناتھ کو بھی مودی کی طرح ابھار کر پیش کرنے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ یہی وجہ رہی کہ گذشتہ دنوں میں جب وزیرداخلہ امیت شاہ نے یو پی میں ایک جلسہ عام سے خطاب کیا تو انہوں نے کہا تھا کہ اگر 2024 میںمرکز میں ایک بار پھر نریندر مودی کو دیکھنا ہے تو پھر 2022 میں اترپردیش میں آدتیہ ناتھ کو کامیاب بنانا ضروری ہوگا ۔ یہ پہلا موقع ہے جب بی جے پی میں نریندر مودی کے متوازی کسی کو ابھار کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اب تک نریندر مودی کے مقابل کسی کو بھی برداشت نہیں کیا جاتا رہا ہے اور خود امیت شاہ جو بی جے پی میں نمبر دو کی اہمیت رکھتے ہیں وہ بھی مودی کے مقابلہ میں اپنے آپ کو گھٹا کر پیش کرتے رہے ہیں لیکن اب یہی امیت شاہ اترپردیش کی صورتحال کودیکھتے ہوئے یوگی آدتیہ ناتھ کو مودی کے برابر لا کھڑا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بی جے پی کو اب تک دو افراد کے گرد گھومنے والی جماعت کہا جاتا تھا تاہم اب ایسا لگتا ہے کہ یہ کی جگہ اب ایک تگڑی وجود پا رہی ہے اور مخصوص اور اہم و فیصلہ ساز گروپ میںآدتیہ ناتھ کو بھی شامل کرلیا گیا ہے ۔ یہ سب کچھ اس لئے ہو رہا ہے کیونکہ بی جے پی کو یہ احساس ہوگیا ہے کہ فرقہ پرستی کو ہوا دئے بغیر اور مذہبی منافرت پیدا کئے بغیر اس کیلئے اترپردیش کے اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا ممکن نہیں رہے گا ۔ کارکردگی کی بنیاد پر تو شائد ہی کوئی آدتیہ ناتھ حکومت کو ووٹ دینے تیار ہوگا ۔ اسی لئے مذہبی منافرت کا کھیل شدت سے کھیلا جائیگا ۔ یہی وجہ ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ کو بھی اب تشہیر و پروپگنڈہ میں بہت زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے ۔
گذشتہ دنوں جب بی جے پی کی قومی عاملہ کا اجلاس منعقد ہوا تھا اس میں آدتیہ ناتھ اترپردیش سے آن لائین حصہ لینے والے تھے اور آئندہ انتخابات کیلئے پارٹی کی حکمت عملی کو پیش کرنے کا منصوبہ تھا تاہم انہیں بطور خاص دہلی شخصی طور پر طلب کیاگیا ۔ انہیںقومی عاملہ اجلاس میںسیاسی قرار داد پیش کرنے کی ذمہ داری دی گئی ۔ اس اقدام کے ذریعہ خود قومی سطح پر اور ریاستی بی جے پی کے قائدین کو بھی ایک پیام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ آدتیہ ناتھ کو مرکزی قیادت کی پوری تائید و حمایت حاصل ہے اور ان کے خلاف کسی کو بھی اعتراض کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ امیت شاہ نے یو پی کے جلسہ میں یہ بھی اعلان کردیا تھا کہ اترپردیش میں آدتیہ ناتھ کے چہرے پر ہی انتخابات لڑے جائیں گے ۔ مودی کے چہرے پر پہلی مرتبہ بی جے پی اترپردیش میںانتخاب لڑنے سے گریز کرتے ہوئے یوگی کے چہرے پر انتخاب لڑنا چاہتی ہے اور حالیہ عرصہ میںاسی حکمت عملی کے تحت چیف منسٹر نے فرقہ وارانہ اشتعال کے بیانات کا سلسلہ شروع کردیا ہے ۔ یہ کام گذشتہ انتخابات میں نریندر مودی نے کیا تھا لیکن اس بار یہ کام آدتیہ ناتھ نے شروع کیا ہے ۔ قبرستان اور مندروں کا ذکر کرتے ہوئے آدتیہ ناتھ نے اپنے ارادے واضح کردئے تھے ۔ انہوں نے طالبان کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک کرنے کا بھی اعلان کیا ہے حالانکہ یہ سب کچھ ان کے اختیار میں نہیں ہے ۔ اس کے باوجود وہ بی جے پی کے منصوبے کے مطابق اسمبلی انتخابات کیلئے ایک ایجنڈہ طئے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو عوام کو درپیش مسائل پر نہیں بلکہ فرقہ وارانہ جذبات کے استحصال پر مشتمل ہوگا ۔
بی جے پی نے اپنے منصوبے کے ذریعہ بالواسطہ طور پر یہ قبول تو کرلیا ہے کہ کارکردگی کی اساس پر آدتیہ ناتھ حکومت کو دوبارہ اقتدار ملنا مشکل رہے گا ۔ خود کئی سروے یہ واضح کرچکے ہیں کہ بی جے پی کو اترپردیش میں مشکل پیش آئے گی ۔ اترپردیش کی یہ مشکل بی جے پی کیلئے آئندہ عام چناؤ میں دہلی کے سفر میںرکاوٹیں پیدا کرسکتی ہے ۔ اسی لئے بی جے پی اترپردیش کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اپنے اصل ایجنڈہ کے ساتھ میدان میں اتررہی ہے اور اس کیلئے آدتیہ ناتھ کے فرقہ پرستی والے چہرے کا استعمال کیا جا رہا ہے ۔ یہی کام گجرات میںایل کے اڈوانی نے مودی کا چہرہ استعمال کرتے ہوئے کیا تھا اور اب اس کا چہرے بدل کر اعادہ کیا جا رہا ہے ۔
