پولیٹیکل افیرس کمیٹی کے اجلاس میں اہم فیصلہ، نائب صدر جمہوریہ امیدوار کی تائید کیلئے ریونت ریڈی کی مساعی
حیدرآباد ۔ 20 ۔ اگست (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت کو 42 فیصد بی سی تحفظات کے بلز کی صدر جمہوریہ سے منظوری کے سلسلہ میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کا انتظار ہے ۔ صدر جمہوریہ کی جانب سے اندرون 90 دن بلز کی منظوری سے متعلق معاملہ سپریم کورٹ میں زیر دوران ہے۔ عدالت کا ماننا ہے کہ صدر جمہوریہ اور گورنر کو اندرون 90 دن بلز اور آرڈیننس کے بارے میں فیصلہ کرنا چاہئے جبکہ مرکزی حکومت نے حلفنامہ داخل کرتے ہوئے کہا کہ صدر جمہوریہ کو بلز کی منظوری کے سلسلہ میں کوئی مہلت مقرر نہیں کی جاسکتی۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ اس معاملہ میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد تلنگانہ حکومت قانونی موقف اختیار کرے گی۔ تلنگانہ میں پسماندہ طبقات کو تعلیم ، روزگار اور سیاست میں 42 فیصد تحفظات کی فراہمی سے متعلق دو بلز تین ماہ سے زائد عرصہ سے صدر جمہوریہ کی منظوری کے منتظر ہیں۔ پنچایت راج اداروں میں 42 فیصد تحفظات کا آرڈیننس بھی گورنر نے صدر جمہوریہ کو روانہ کردیا ہے ۔ حکومت کو ہائی کورٹ کی ہدایت کے مطابق 30 ستمبر تک پنچایت راج اداروں کے انتخابات کا مرحلہ مکمل کرنا ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ اگر صدر جمہوریہ بی سی تحفظات بل کو منظوری نہیں دیں گی ، پنچایت راج اداروں میں کانگریس پارٹی پسماندہ طبقات کو 42 فیصد ٹکٹ الاٹ کرے گی۔ امید کی جارہی ہے کہ 23 اگست کو کانگریس کی پولیٹیکل افیرس کمیٹی کے اجلاس میں قطعی فیصلہ کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے صدر جمہوریہ کو 90 دن کی مہلت کے بارے میں ریاستوں سے بھی رائے طلب کی ہے ۔ تلنگانہ حکومت بھی سپریم کورٹ کو اپنی رائے سے واقف کرائے گی۔ اسی دوران نائب صدر جمہوریہ کے انڈیا الائنس امیدوار جسٹس سدرشن ریڈی کے حق میں تائید حاصل کرنے کے لئے چیف منسٹر ریونت ریڈی اور صدر پردیش کانگریس مہیش کمار گوڑ ، بی آر ایس ، تلگو دیشم اور جنا سینا کے قائدین سے ملاقات کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ چیف منسٹر 21 اگست کو نئی دہلی میں جسٹس سدرشن ریڈی کے پرچہ نامزدگی کے ادخال کے موقع پر موجود رہیں گے۔ وہ اپوزیشن قائدین سے ملاقات کے سلسلہ میں ہائی کمان سے مشاورت کریں گے۔1