تائیوان ۔چین اور امریکہ

   

Ferty9 Clinic

غم اور خوشی میں فرق نہ محسوس ہو جہاں
میں دل کو اُس مقام پہ لاتا چلا گیا
چین اور امریکہ کے مابین تعلقات میں کشیدگی کا سلسلہ بڑھنے لگا ہے ۔ ویسے تو ان دونوں ممالک کے مابین تعلقات کبھی بھی خوشگوار یا پوری طرح سے دوستانہ نہیں رہے ہیں تاہم کشیدگی میں بھی اس قدر اضافہ ماضی قریب میںنہیں دیکھا گیا تھا جتنا ان دنوں دیکھا جا رہا ہے ۔ امریکی ایوان کی اسپیکر نینسی پیلوسی منگل کو دورہ تائیوان پر وہاں پہونچیں۔ ان کے دورہ پر چین کو شدید اعتراض ہے اور چین ہمیشہ ہی تائیوان کو اپنا اٹوٹ حصہ قرار دیتا ہے ۔ چین کا اصرار ہے کہ کوئی بیرونی ملک تائیوان کے امور میں مداخلت نہ کرے ۔ا گر امریکہ بھی ایسی مداخلت کرتا ہے تو اسے بھی سنگین عواقب کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ چین کی اس طرح کی دھمکیاں بھی نئی بات نہیں ہیں ۔ چین وقفہ وقفہ سے اس طرح کی دھمکیاں بھی دیتا رہتا ہے ۔ تاہم اس بار چین کے صدر ژی جن پنگ نے امریکی صدر جو بائیڈن سے فون پر بات چیت کے دوران انتہائی برہم تیور اختیار کئے تھے ۔ جارحانہ بیان بازی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو کوئی آگ سے کھیلنے کی کوشش کریگا وہ خود جھلس جائیگا ۔ اس طرح انہوں نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ تائیوان کے امور میں مداخلت کی کوشش نہ کرے ورنہ اسے بھی عواقب کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔ یہ بیان بازیاں دونوں ملکوں کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی کو ظاہر کرتی ہیں۔ نینسی پیلوسی گذشتہ 25 سال میں تائیوان کا دورہ کرنے والی سب سے اعلی ترین امریکی عہدیدار ہیں۔ شائد یہی وجہ ہے کہ چین کو اس پر شدید اعتراض ہے ۔ یہ اندیشے ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ اس مسئلہ پر امریکہ اور چین کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہوگا اور دونوںممالک کے مابین ٹکراؤ کی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے ۔ دونوں ممالک کی اس کشیدگی میں اگر سب سے زیادہ کسی کا نقصان ہوگا تو وہ تائیوان اور اس کے عوام کا ہوگا ۔ اگر دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف کچھ بھی کارروائی کرتے ہیں تو اس کے اثرات سب سے زیادہ تائیوان کے عوام پر ہی مرتب ہونگے ۔ ایسے میں یہ کشیدگی نہ امریکہ کیلئے بہتر ہوگی اور نہ چین کیلئے ۔ کچھ گوشے اس مسئلہ پر جنگ کے اندیشے بھی ظاہر کر رہے ہیں جو تباہ کن بھی ہوسکتی ہے ۔
دنیا پہلے ہی روس۔ یوکرین جنگ کی وجہ سے مسائل کا شکار ہوگئی ہے ۔ یوروپ میں سب سے زیادہ توانائی اور فیول کا بحران پیدا ہوگیا ہے ۔ وہاں مہنگائی بڑھ گئی ہے ۔ قیمتوں میں اضافہ کا سلسلہ رکا نہیں ہے ۔ عوام پر مسلسل بوجھ عائد ہو رہا ہے ۔ وہ مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔ دنیا بھر میں غدائی بحران کے اندیشے بھی ظاہر کئے جا رہے ہیں کیونکہ روس کی افواج کی جانب سے یوکرین سے غدائی اجناس کی منتقلی کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے ۔ دنیا کے زیادہ ممالک اس جنگ کو روکنے کی بجائے اس کو ہوا دینے میں لگے ہوئے ہیں۔ اس جنگ کی وجہ سے دنیا پر جو معاشی بحران پیدا ہونے لگا ہے اور عوام جو متاثر ہو رہے ہیں اس کو ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے ۔ اسی طرح اگر چین اور امریکہ کے مابین کشیدگی پیدا ہوتی ہے اور چین کی جانب سے تائیوان کے خلاف کوئی فوجی کارروائی کی جاتی ہے تو یہ بات طئے ہے کہ امریکہ تائیوان کی فوجی مدد کرے گا ۔ اس کے نتیجہ میں دونوں ہی ممالک پر بھاری اخراجات عائد ہونگے اور اس کا اثر ساری دنیا پر ہوگا ۔ دنیا بھر میں عوام کی مشکلات میں کمی آنے کی بجائے ان میںاضافہ ہوگا ۔ پہلے ہی یوکرین ۔ روس جنگ کے اثرات سے عوام کی کمر ٹوٹ رہی ہے ۔ سب سے زیادہ اثر یوروپ پر ہونے لگا ہے ۔ اگر چین ۔ تائیوان جنگ ہو اور امریکہ کی مدد تائیوان کو حاصل ہوجائے تو اس کے اثرات کسی مخصوص علاقے یا خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دنیا کے بیشتر ممالک پر اس کے اثرات ہونا لازمی ہے ۔
چین اور امریکہ دنیا کی دو بڑی طاقتیں ہیں۔ دونوں جوہری ممالک ہیں اور اپنے اپنے شعبہ میں ایک دوسرے پر غلبہ بھی رکھتی ہیں۔ چین کو دنیا کی فیکٹری کہا جاتا ہے ۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں چینی اشیا پر انحصار ہوتا ہے ۔ اسی طرح دفاعی اور فوجی معاملات میں امریکہ کی بالادستی ہے ۔ اگر یہ دو بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما ہوتی ہیں چاہے وہ بالواسطہ طور پر ہی کیوں نہ ہو ‘ تو پھر حالات بگڑنے سے کوئی نہیں روک پائے گا ۔ دونوں ممالک کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنی سیاسی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دنیا کے استحکام اور امن کو ترجیح دیں اور اگر کچھ مسائل ہیں تو ان کو سفارتی کوششوں کے ذریعہ حل کرنے کی کوشش کی جائے کیونکہ دنیا اور دنیا کے ممالک ایک اور جنگ کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔