تاریخی عمارتوں کے تحفظ کا مقدمہ … ہائیکورٹ کی عہدیداروں پر برہمی، 22 نومبر کو شخصی حاضری کی ہدایت

   

حیدرآباد۔2۔نومبر۔(سیاست نیوز) تلنگانہ ہائیکورٹ نے عہدیداروں پر شدید برہمی ظاہر کرتے ہوئے انہیں تاریخی عمارتوں کے تحفظ اور ان کی تزئین نو کے معاملہ میں جاری مقدمہ کے دوران 22 نومبر کو شخصی طور پر حاضر ہونے کی ہدایت دی۔ چیف جسٹس اجل بھویان اور جسٹس سی وی بھاسکر ریڈی پر مشتمل بنچ نے سیکریٹری محکمہ فینانس ‘ منیجنگ ڈائریکٹر تلنگانہ اسٹیٹ ٹراویل اینڈ ٹورازم ‘ کمشنر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد‘ کمشنر حیدرآباد میٹروپولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کو سمن جاری کرتے ہوئے ہدایت دی کہ وہ 22نومبر کو صبح 10:30بجے شخصی طور پر حاضر عدالت رہیں۔ درخواست مفاد عامہ جس میں ہل فورٹ پیالیس ‘ رٹز ہوٹل کے تحفظ اور اس کی تزئین نو کے سلسلہ میں درخواست کی گئی تھی۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے اس معاملہ میں متعدد مرتبہ ہدایات جاری کئے جانے کے باوجود متعلقہ محکمہ جات سے کوئی تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش نہیںکی گئی ہے۔ درخواست گذار دیپک کانت گیر حیدرآباد ہیریٹیج ٹرسٹ نے عدالت کو بتایا کہ مسلسل نمائندگیوں اور ہدایات کے باوجود محکمہ فینانس کی جانب سے مذکورہ تاریخی عمارت کے تحفظ کیلئے سلسلہ میں 50 کروڑ کے تخمینہ کے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش نہیں کی گئی ہے جس پر عدالت نے کہا کہ متعدد ہدایات کے باوجود عہدیداروں کی جانب سے عدالت میں رپورٹ پیش نہیں کی گئی ہے جو کہ ناقابل فہم ہے۔ عہدیداروں کو حاضر عدالت ہونے کی ہدایت پر ایڈوکیٹ جنرل اے سنجیو کمار نے عدالت سے خواہش کی کہ وہ رپورٹ پیش کرنے کیلئے مہلت دے جس پر عدالت نے کہا کہ رپورٹ کی پیشکشی کیلئے مزید مہلت کی فراہمی ضروری نہیں ہے بلکہ متعلقہ عہدیدارو ں کو 22 نومبر کو حاضر عدالت ہوتے ہوئے اب تک کی گئی کاروائی کے متعلق واقف کروانا ہوگا۔ بتایاجاتا ہے کہ رٹز ہوٹل کی تزئین نو اور تحفظ کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کے متعلق عدالت میں زیر دوراں درخواست مفاد عامہ کی سماعت کے دوران تلنگانہ ہائی کورٹ نے کئی احکامات جاری کرنے کے علاوہ عہدیداروں کو کاروائی سے متعلق تفصیلی رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دی تھی ۔م