بھینسہ۔/31 جولائی، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) بھینسہ ڈیویژن کے تانور منڈل کے موضع سنگن گاؤں میں نالے کے قریب دو یوم قبل متوفی چندرا کانت کی نعش مشتبہ حالت میں برآمد ہوئی تھی جس کا معمہ بھینسہ ڈیویژن پولیس نے دو یوم میں حل کرلیا۔ ایس پی بی راجیش نے تانور پولیس اسٹیشن میں میڈیا سے کہا کہ متوفی چندرکانت اور دو افراد گنگادھر ( تانور ) اور داسری گنگادھر ( بھوسی ) تینوں مل کر سنگن گاؤں میں سفید سیندھی خوب نوش کی جس کی وجہ سے چندراکانت کی موت واقع ہوگئی جس سے خوف کا شکار ہوکر گنگادھر اور داسری گنگادھر نے متوفی چندراکانت کی موت کو حادثہ کا رنگ دینے کیلئے موٹر سیکل اور نعش کو نالے کے قریب چھوڑ کر راہ فرار اختیار کرلی۔ بعد ازاں متوفی کے افراد خاندان کی شکایت اور ماہر ڈاکٹرس کے ذریعہ پوسٹ مارٹم کی بنیاد پر پولیس کی ایک ٹیم نے مکمل تحقیقات کرتے ہوئے اس واقعہ میں چار افرادگنگادھر ( تانور ) داسری گنگادھر (بھوسی ) اور سنگن گاؤں سیندھی ڈپو کے مالکین دیویندر گوڑ اور اس کی ماں لکشمی کو حراست میں لیتے ہوئے مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا اور خاطیوں کو عدالتی تحویل میں دے دیا گیا۔ اس پریس کانفرنس میں مدہول سرکل انسپکٹر سرینواس اور تانور سب انسپکٹر راجنا بھی موجود تھے۔