تبتی باشندوں پر چین کے مظالم ، حکومت ہند حقیقی دوست

   

تبتی قائدین کا 20 ریاستوں کا دورہ ، حیدرآباد میں آمد ، جناب عامر علی خاں سے ملاقات
حیدرآباد ۔ 25 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز) : ہندوستان میں مقیم تبتی باشندے اپنے ملک پر چین کے قبضہ کے 63 سال بعد بھی چین سے آزادی کی جدوجہد میں مصروف ہیں ۔ ان کی دلی تمنا ہے کہ چین کی غلامی سے آزادی حاصل کرتے ہوئے اپنے مذہبی تشخص اور تہذیب و ثقافت کی حفاظت کو یقینی بنائیں ۔ اپنے ان اغراض و مقاصد سے ہندوستانی عوام اور اہم سیاسی شخصیتوں کو واقف کروانے کیلئے تبتی باشندوں کا ایک وفد 20 ریاستوں کے دورے پر نکلا ہے ۔ ہماچل پردیش سے 22 نومبر کو اس وفد نے اپنی یاترا کا آغاز کیا اور آج حیدرآباد پہنچ کر رکن قانون ساز کونسل جناب عامر علی خاں اور دوسری اہم شخصیتوں سے ملاقات کی ۔ اس موقع پر وفد کے سربراہ Gonpo Dhundup ، جنرل سکریٹری Tsering Chomphel میڈیا آفیسر Tenzin Loba Sang نے جناب عامر علی خاں کو بتایا کہ چین نے 1959 میں تبت پر قبضہ کیا ۔ دراصل وہ تبت اور اس کے باشندوں کی مذہبی تشخص ان کی تہذیب و ثقافت اور روایتوں کو تباہ و برباد کررہا ہے جب کہ ہماچل پردیش کے دھرم شالہ میں تبت کی جلاوطن حکومت کام کررہی ہے ۔ ہندوستان نے ہزاروں کی تعداد میں تبتی باشندوں اور ان کے روحانی رہنما دلائی دلامہ کو پناہ دی ہے ۔ ان لوگوں نے مزید بتایا کہ اب تک اس وفد نے 10 ریاستوں کا دورہ کرچکا ہے ۔ ریاست تلنگانہ 11 ویں ریاست ہے جس کا وہ دور کررہے ہیں ۔ اس کے بعد وہ کرناٹک ، گوا اور مہاراشٹرا جیسی ریاستوں کا بھی دورہ کریں گے ۔ تبتی وفد کے مطابق وہ تبت کی آزادی اور ہندوستان کی سلامتی چاہتے ہیں ۔ ان لوگوں کے دورے کا مقصد مرکزی حکومت ، ریاستی حکومتوں اور عوام سے تبت اور اس کے باشندوں کے تئیں دوستانہ و ہمدردانہ رویہ کیلئے اظہار تشکر بھی کرنا ہے ۔ ان لوگوں نے مزید بتایا کہ ان کے 3 مطالبات ہیں سب سے پہلا مطالبہ چین سے آزادی ، دوسرا چینی قبضہ کے خلاف قرار داد پیش کی جائے اور تیسرا مطالبہ تبت کے ماحولیات کو بچایا جائے ۔ چین نے پچھلے 63 برسوں کے دوران تبت کے ماحول کو آلودہ کردیا ہے وہ جنگلات کے کٹاو اور کانکنی میں مصروف ہے ۔ تبت کے قدرتی وسائل کو لوٹ رہا ہے ۔ وہ کم از کم 1.3 ارب آبادی کو راست یا بالراست طور پر آلودگی کا شکار بنارہا ہے ۔ واضح رہے کہ حیدرآباد و سکندرآباد میں 125 تبتی خاندان مقیم تھے اب ان کی تعداد خطرناک حد تک گھٹ گئی ہے ۔ تبتی باشندوں کے وفد نے جناب عامر علی خاں کو تبت کی تحریک آزادی سے متعلق واقف کروایا اور بتایا کہ ان لوگوں کی تحریک مہماتما گاندھی کی عدم تشدد پر مبنی تحریک آزادی کے خطوط پر ہے ۔ ان لوگوں کی یاترا دہلی میں اختتام کو پہنچے گی ۔ جناب عامر علی خاں نے وفد کو بتایا کہ حکومت تلنگانہ ایک نئی سیاحتی پالیسی پر غور کررہی ہے ۔ خاص طور پر بدھسٹ سرکٹ پر اسمبلی میں بحث ہوئی ہے ۔ انہوں نے اپنی جانب سے ممکنہ تعاون کا تیقن دیا ۔ تبتی باشندوں نے جناب عامر علی خاں کو تہنیت بھی پیش کی ۔ اس موقع پر ممتاز گاندھیائی قائد جی وی وی ایس ڈی ایس پرساد بھی موجود تھے ۔۔