بس تو میری آواز سے آواز ملادے
پھر دیکھ کے اس شہر میںکیا ہو نہیں سکتا
ہندوستان نے حالیہ عرصہ میں یوروپی یونین اور امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدات کو قطعیت دی ہے اور انہیں بہت جلد عمل میں لایا جاسکتا ہے ۔ جس وقت سے یہ معاہدات طئے پائے ہیں اس وقت سے ہندوستان کی سیاست میں گہماگہمی دیکھنے میں آرہی ہے ۔ اپوزیشن جماعتوں اور خاص طور پر قائد اپوزیشن راہول گاندھی کی جانب سے یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ حکومت نے ملک کے مفادات کو گروی رکھ دیا ہے اور امریکہ کے آگے سرنگوں ہوتے ہوئے تجارتی معاہدہ کو قطعیت دی ہے ۔ یوروپی یونین کے ساتھ بھی معاہدہ پر راہول گاندھی کا اعتراض ہے اور خاص طور پر امریکہ کے ساتھ معاہدہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے راہول گاندھی کا الزام ہے کہ حکومت نے ڈونالڈ ٹرمپ کی شرائط پر یہ معاہدہ کیا ہے اور ٹرمپ نے ہندوستانی مفادات کو خاطر میں لائے بغیر اپنی شرائط منوائی ہیں۔ راہول گاندھی کا الزام ہے کہ حکومت نے ہندوستانی مفادات کو امریکہ کے ہاتھوں فروخت کردیا ہے ۔ ملک کے کسانوں کو اس معاہدہ کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور انہیں بھاری نقصانات بھی درپیش آسکتے ہیں۔ راہول گاندھی لگاتار اس مسئلہ پر حکومت کو تنقیدوں کا نشانہ بناتے ہوئے سوال کر رہے ہیں اور جہاں تک حکومت کا سوال ہے تو حکومت بھی راہول گاندھی پر جوابی تنقیدوں میں کوئی کمی نہیں کر رہی ہے ۔ حکومت محض تنقید کا جواب دے رہی ہے تاہم جو سوال اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اٹھائے گئے ہیں یا اٹھائے جارہے ہیں ان کا جواب دینے سے گریز کیا جا رہا ہے ۔ کوئی وضاحت نہیں کی جا رہی ہے کہ کن شرائط پر معاہدہ طئے پایا ہے اور ہندوستان نے امریکہ پر صفر شرحیں عائد کرنے سے اتفاق کیوں کرلیا ہے ۔ وہ کیاوجوہات رہی ہیں جن کی وجہ سے انتہائی جلد بازی میں معاہدہ کو قطعیت دی گئی ہے ۔ حکومت کو اس معاملے میں اپوزیشن کے سوالات کے جواب دینے کی ضرورت ہے تاہم حکومت ایسے کسی بھی جواب دینے کیلئے تیار نہیں ہے جن کے ذریعہ معاہدہ کی تفصیلات منظر عام پر آئیں۔ ایسے میں یہ اندیشے ہیں کہ کچھ وجوہات ہیں جن کی حکومت کی جانب سے پردہ داری کی جا رہی ہے ۔
چونکہ یہ تاثر عام ہو رہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدہ کے مسئلہ پر راہول گاندھی نے حکومت کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا ہے اس لئے ان کے سوالات کے جواب دینے کی بجائے ان پر شخصی تنقیدوں کو تیز کردیا گیا ہے ۔ ان کی لوک سبھا کی رکنیت کو بخواست کروانے کی مہم شروع کی گئی ہے اور یہ بھی کوشش کی جا رہی ہے کہ انہیںمستقبل میں انتخابات لڑنے سے روکا جائے ۔ یہ کوشش ظاہر کرتی ہے کہ حکومت راہول گاندھی کے سوالات سے پریشان ہے اور وہ حقائق کی پردہ پوشی کرتے ہوئے معاہدہ پر عمل آوری یقینی بنانا چاہتی ہے۔ کچھ ایسی شرائط ہوسکتی ہیں جو ملک کے مفادات کے مغائر ہوسکتی ہیں اور حکومت ان کو عوام کے سامنے لانے سے خوفزدہ ہے اور راہول گاندھی یا دیگر اپوزیشن جماعتیں اسی سوال کو دہراتے ہوئے حکومت کیلئے مشکلات پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہیں۔ شخصی تنقیدوں کی عوامی زندگی میں کوئی اہمیت یا ضرورت نہیں ہوتی اور مسائل یا پالیسیوں کی بنیاد پر تائید یا اختلاف ہوسکتا ہے ۔ تاہم مسائل اور سوالات کونظرا نداز کرتے ہوئے شخصی تنقیدوں کا سہارا لیا جا رہا ہے اور ان کی ایوان کی رکنیت کو ختم کروانے کی کوشش شروع کردی گئی ہے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئی ہے اور وہ چاہتی ہے کہ سوال کا جواب دینے کی بجائے سوال کرنے والے ہی کو خاموش کردیا جائے ۔ اس کی آواز کو دبایا جائے تاکہ حقائق کی پردہ پوشی ہوسکے اور ملک کے عوام بھی حکومت سے سوال کرنے سے گریز کرنے لگیں۔
ہمہ جماعتی جمہوری طرز حکمرانی میں اپوزیشن اور اپوزیشن کے سوالات کی بہت اہمیت ہوتی ہے اور حکومتیں اپوزیشن کے سوالات کا جواب دینے کی پابند ہوتی ہیں۔ حکومتیں ملک کے ہرطبقہ کے مفادات کا تحفظ کرنے کی بھی پابند ہوتی ہیں۔ تاہم امریکہ اور یوروپی یونین کے ساتھ معاہدات کے معالمے میں حکومت کا رویہ ہی شکوک کو تقویت دینے والا ہے اور سوال پوچھنے والوں کی آواز دبانے کی کوششوں سے شبہات کو مزید تقویت حاصل ہو رہی ہے ۔ حکومت کو شخصی تنقیدوں سے گریز کرتے ہوئے جو سوالات اٹھائے جا رہے ہیں ان کے جواب دینے چاہئیں تاکہ ملک کے عوام بھی معاہدات کی حقیقت سے واقف ہوسکیں۔