تحفظ ناموس رسالت ؐ کیلئے مسلمان کسی بھی حد تک جاسکتا ہے‘ جان لٹانے تیار

   

چنچلگوڑہ جونئیر کالج پر زبردست جلسہ عام ۔ مشتاق ملک ‘ فرحت خان ‘ کودانڈا رام اور دیگر کا خطاب

حیدرآباد۔18۔جون(سیاست نیوز) مسلمان ناموس رسالتﷺ کیلئے اپنا سب کچھ قربان کرنے تیا رہے ‘ شان رسالتؐ میں گستاخی کرنے والوں کو دنیا کے کسی کونے میں پناہ نہیں مل سکتی کیونکہ دنیا کے ہر خطہ میں غیور مسلمان شاتم رسولﷺ کا تعاقب کرتے رہتے ہیں۔ کسی بھی مذہب میں کسی اور مذہب کی توہین یا تضحیک کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور جو لوگ ایسا کر رہے ہیں وہ دراصل عوام کے درمیان نفرت پیدا کرکے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چنچل گوڑہ جونیئر کالج میدان میں جوائنٹ ایکشن کمیٹی تلنگانہ وآندھراپردیش کے زیر اہتمام منعقدہ حرمت رحمت اللعلمین ﷺ کے جلسہ عام سے خطاب کے دوران مقررین نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ پروفیسر کودنڈا رام ریڈی نے اس عظیم الشان جلسہ عام سے خطاب میں کہا کہ دستور ہند میں کسی کو اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ کسی دوسرے مذہب کے ماننے والے کی دل آزاری کرے ۔انہو ںنے نبیؐ کی شان میں گستاخی پر کہا کہ انسانیت اور مساوات کیلئے مثالی ہستی و پیغمبر کی شان میں گستاخی بہر صورت ناقابل برداشت ہے ۔ پروفیسر کودنڈا رام نے کہا کہ دستور ہند کی تدوین کے وقت بابا صاحب امبیڈکر نے ہندستانیوں کو مساوی حقوق دیئے ہیں اور انہیں مذہب ‘ ذات پات‘ رنگ و نسل سے بالاتر یکساں قرار دیا لیکن دستور میں یہ بات موجود ہے اور عملی اعتبارسے اب بھی ہمارے درمیان جمہوریت کے فروغ کی ضرورت ہے۔ انہو ںنے نبی اکرمﷺ کی شان میں گستاخی کے معاملہ کو انتہائی بدبختانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا جنہیں محسن انسانیت کے نام سے جانتی ہے ان کے بارے میں اس طرح کی گفتگو کرنے والوں کو ان کی شخصیت کے متعلق تفصیلی آگہی حاصل کرنی چاہئے ۔ جناب مشتاق ملک کی نگرانی میں جلسۂ عام میں صدر مجلس بچاؤ تحریک جناب مجید اللہ خان فرحت‘ جناب سید عزیز پاشاہ سابق رکن راجیہ سبھا‘ محترمہ خالدہ پروین ‘ جناب امجد اللہ خان خالد‘ جناب عثمان محمد خان اور دیگر سیاسی و مذہبی تنظیموں کے ذمہ داروں کے علاوہ اہم شخصیات موجود تھیں۔ جناب مجید اللہ خان فرحت نے اپنے ولولہ انگیز خطاب کے دوران کہا کہ ملک میں بدامنی کی فضاء پھیلانے کی ہر کوشش کی وہ مذمت کرتے ہیں لیکن اگر شان رسالتﷺ میں گستاخی ہوتی ہے تو مسلمان اپنے آقاؐ کی ناموس کے تحفظ کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔ انہو ںنے کہا کہ شان رسالتﷺ میں گستاخی کے خلاف احتجاج یا برہمی کو کسی مذہب سے نہیں جوڑا جانا چاہئے کیونکہ مسلمان کا احتجاج گستاخ اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کے خلاف ہے ۔ جناب مجید اللہ خان فرحت نے کہا کہ ہندستانی مسلمان گستاخ اور ان کے نظریات کا مقابلہ ایسے لوگوں کے ساتھ ملکر کرے گا جو اس ملک میں امن و امان کی برقراری کے ساتھ فرقہ پرستوں کا مقابلہ کرنے آمادہ ہیں۔ انہو ںنے کہا کہ دنیا شاہد ہے کہ جب کبھی جس کسی نے شان رسالتﷺ میں گستاخی کی اس کا انجام کیا ہوا ۔ انہو ںنے اللہ رب العزت نے گستاخ کی نشانیاں بتادی ہیں اور اللہ نے اپنے محبوبؐ کے ذکر کو اس قدر بلند کردیا کہ کوئی ان کی شان میں گستاخی نہیں کرسکتا لیکن اگر کوئی یہ جرأت کرتا ہے تو مسلمان اسے برداشت نہیں کریگا۔صدر مجلس بچاؤ تحریک نے حکومت اتر پردیش کی جانب سے آفرین فاطمہ کے مکان کے انہدام کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ سلام کرتے ہیں اس آفرین فاطمہ کو جس نے اپنے گھر کے ملبہ کو دیکھنے کے باوجود یہ کہا کہ مکان تو کیا شان رسالتﷺ پر جان بھی قربان ہے۔ جناب محمد مشتاق ملک نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک میں جو فضاء تیار کی جا رہی ہے وہ دراصل مسلم دشمنی پر مبنی ماحول کو تیار کرنے کی کوشش ہے لیکن اگر کسی طرح کی سیاسی کوششوں یا مقاصد کیلئے رسول اللہ ﷺ کی عظمت و ذات پر انگشت نمائی کی جاتی ہے تو مسلمان خاموش نہیں رہے گا بلکہ اپنے نبیؐ کی عظمت کیلئے اپنی جان بھی قربان کردے گا۔انہوں نے اللہ کے محبوب ﷺ کی شان میں گستاخیو ںکو ناقابل معافی اور ناقابل برداشت قرار دیا اور کہا کہ اس طرح کی کوششیں کوئی نئی نہیں لیکن ہر مرتبہ مسلمانوں اور جانثاران رسولﷺ کی نبض کو ٹٹولنے کی کوشش نے باطل کو مایوس کیا ہے اور امت نے ہر بار اپنے نبیﷺ کی شان کے معاملہ میں زندگی کا دبوت دیا ہے۔جناب مشتاق ملک نے حکومت سے گستاخان رسولؐ کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا اور کہا کہ گرفتاری تک جدوجہد جاری رہے گی۔ محترمہ خالدہ پروین نے جانثاران مصطفیﷺ کی جانب سے کئے جانے والے مظاہرہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری خاموشی خوف کی علامت نہیں ہے ۔اللہ کا شکر و احسان ہے کہ اللہ کے محبوب سے محبت ایمان کی علامت ہے۔ انہوں نے بار بار کی جانے والی گستاخیوں کو ناقابل برداشت قرار دیا۔ م