تذکرہ شعرائے مہدویہ کی رسم اجراء، علماء کا خطاب

   

حیدرآباد۔8فبروری(پریس نوٹ) قوم مہدویہ کی چھ سوسالہ ادبی تاریخ کو ایک تصنیف کی شکل میںڈھال کر تیار کرنے کاکام حضرت مقصودعلی خان سحرؔ نے انجام دیا ہے ۔ اور اس تصنیف ’’ تذکرئہ شعرائے مہدویہ‘‘ کی رسم اجرائی رکن مسلم پرسنل لاء بورڈحضرت سید مسعود حسین مجتہدی کے ہاتھوں عمل میںآئی۔ اس تقریب سے مولانا نفیس اطہر خوندمیری ‘ مولانا واحد نظام آبادی‘ حضرت نعمت اللہ خان صوفی اور سید اسمعیل ذبیح اللہ نوازش‘ذبیح ؔ اور سید عبدالشکور شادابؔ نے بھی خطاب کیا جبکہ منظوم پیش لفظ حضرت سید رضا منظور جمیلؔ نے تحریر کیاجس کو سید عبیداللہ منوری نے سنایا۔ کتاب اور مصنف کی خصوصیتوں اور خوبیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا مسعود حسین مجتہدی نے کہاکہ بزرگوں کی صحبت سے استفادہ اٹھاتے ہوئے مصنف تذکرئہ شعرائے مہدویہ نے نہ صرف مہدوی بھائیوں کی چھ سوسالہ ادبی خدمات پر ایک جامعہ کتاب تیار کی ہے۔ مولانا نفیس اطہر خوندمیری نے کتاب پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنے داد ا حضرت تسخیر حیدرآبادی کے حوالے سے بہت ساری یادوں کا تذکرہ کیا ۔مولانا واحد نظام آبادی نے کتاب کی اشاعت کو ایک بڑا کارنامہ قراردیا۔ انہوںنے قوم مہدویہ کے ممتاز شعرائے کرام‘ علامہ اشرف شمسیؒ ‘ حضرت علی منظورؒ‘حضرت توفیق حیدرآبادیؒاور بہت ساری ناموں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ مہدویہ شعرائے کرام نے فارسی اور اُردو ادب کی بہت خدمت کی ہے۔ انہوں نے بھی مصنف کو مبارکبادپیش کی۔شہہ نشین پر حضرت سید اعجاز اشرفی صاحب کے علاوہ دیگر بھی موجود تھے۔مذکورہ کتاب میں زمانہ قدیم سے لے کر دو حاضر تک کے دوسو سے زائد مہدوی شعرائے کی تفصیلات کو درج کیاگیا ہے۔ ابولفیض سید احمد عابدنائب مدیر ماہنامہ نورولایت نے تقریب کی کاروائی چلائی۔