تربوز شوگر کے مریضوں کے لئے بھی فائدہ مند

   

Ferty9 Clinic

حیدرآباد ۔ تربوز ایک ایسا پھل ہے جو درجہ حرارت بڑھنے پر جسم کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد دیتا ہے بلکہ اسے دیکھنا ہی ذہن کو تروتازہ کردیتا ہے۔ تربوزکافی میٹھا پھل ہوتا ہے توکیا ذیابیطس کے شکار افراد اسے کھا سکتے ہیں یا نہیں؟ یہ سوال اب موضوع بحث بنا ہوا ہے ۔اکثر افراد اس خیال سے پریشان رہتے ہیں کہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے اس مزیدار پھل کوکھانا محفوظ ہے یا نہیں لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ ذیابیطس کے مریضوں کو اپنی غذا کے حوالے سے احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ بلڈ شوگر کی سطح مستحکم رہے اور پیچیدگیوں سے تحفظ مل سکے۔ پھلوں اورسبزیوں سے بھرپور غذا بلڈ شوگرکوقابوکرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے لیکن پھلوں میں قدرتی مٹھاس اورکاربوہائیڈریٹس بھی ہوتے ہیں تو ان کی مقدارکا خیال رکھنا اہم ہوتا ہے۔ تربوز اور ذیابیطس کی تفصیل میں جانے سے پہلے یہ جان لیں کہ کسی پھل میں مٹھاس ذیابیطس کے لیے اتنی اہم نہیں ہوتی جتنا اس کا گلیسمیک انڈیکس (جی آئی) نمبر۔جی آئی ایک پیمانہ ہے کہ جو بتاتا ہے کہ کاربوہائیڈریٹ والی غذا کا کتنا حصہ کھانے کے بعد اس میں موجود مٹھاس (گلوکوز) مخصوص وقت میں خون میں جذب ہوسکتی ہے اور یہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق ذیابیطس کے مریضوں کو اپنا بلڈگلوکوز کی سطح کو قابو میں رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کی غذا ایسی ہونی چاہئے جو اس سطح کو قابو میں رکھ سکے۔ تو ایسے مریضوں کے لیے 15 گرام کاربوہائیڈریٹ کسی پھل کے ذریعے جسم کا حصہ بننا نقصان دہ نہیں۔ جی آئی سسٹم میں ہر غذاکو 0 سے 100 کے درمیان اسکور دیا جاتا ہے، نمبر جتنا زیادہ ہوگا خون میں شکر کے اخراج کی رفتار بھی اتنی زیادہ ہوگی۔ تربوز کا جی آئی اسکور 72 ہے اور 70 اسکور سے اوپرکی ہر غذاکو ہائی جی آئی ڈائٹ خیال کیا جاتا ہے۔ مگر ماہرین کے مطابق تربوز میں پانی کی زیادہ مقدار کے باعث اس کی کچھ مقدار کا جی آئی اسکور گھٹ جاتا ہے اور چونکہ لوگ تازہ پھل ہی کھاتے ہیں تو بہتر ہے کہ اس کے جوس سے گریزکریں۔ ذیابیطس کے مریض تربوزکو صحت مند چکنائی، فائبر اور پروٹین سے بھرپور غذاوں کے ساتھ کھا سکتے ہیں۔ ان دونوں کا امتزاج لوگوں کا پیٹ زیادہ دیر تک بھرے رکھتا ہے اور خون میں شکرکے جذب ہونے کی رفتار سست ہوجاتی ہے۔ تربوز میں متعدد وٹامنز اور منرلز جیسے وٹامن اے، وٹامن بی1 اور بی 6، وٹامن سی، پوٹاشیم، میگنیشم، فائبر، آئرن، کیلشیئم اور لائیکو پین موجود ہوتے ہیں۔ وٹامن اے دل،گردوں اور پھیپھڑوں کے افعال کے لیے بہترین ہوتا ہے ۔