ترقی و خوشحالی کیلئے نوجوان نسل کا ہنر مند ہونا ضروری

   

مسجد خزانہ آب دودھ باولی میں SIAFT اور عائشہ آفندی اسکیل سنٹرس کی تقریب تقسیم اسناد
افتخار حسین ، ظہیر الدین علی خاں ، ڈاکٹر مخدوم محی الدین اور دیگر کا خطاب
حیدرآباد ۔ 17 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : مصیبتیں پریشانیاں اور ناکامیاں انسان کو بہت کچھ سکھاتی ہیں اور جب انسان یہ جان لیتا ہے کہ وہ ترقی اور خوشحالی کی راہ پر کیسے گامزن ہو تب وہ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتا جب کہ مساجد کو اگر ہم تعلیمی مراکز بنالیں وہاں طلباء وطالبات کو علم و ہنر سے نوازنے کے اقدامات کریں تو اس کے بہتر نتائج برآمد ہوں گے ۔ آج کل صرف روایتی تعلیم ہی کافی نہیں ہے بلکہ ہماری نئی نسل کو مختلف فنون اور ہنر سکھائے جانے چاہئے ۔ اس معاملہ میں SIAFAT ( سیاست ۔ فیض عام ) اسکیل ڈیولپمنٹ سنٹر اور عائشہ آفندی کمپیوٹر اسکیل ڈیولپمنٹ سنٹر بھر پور کوشش کررہے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار مسجد خزانہ آب دودھ باولی میں منعقدہ تقریب تقسیم اسنادات سے خطاب کرتے ہوئے جناب ظہیر الدین علی خاں منیجنگ ایڈیٹر سیاست ، جناب افتخار حسین سکریٹری فیض عام ٹرسٹ ، ڈاکٹر مخدوم محی الدین صدر انتظامی کمیٹی مسجد خزانہ آب و ٹرسٹی فیض عام ٹرسٹ نے اپنے خطاب میں کیا ۔ واضح رہے کہ اس مسجد میں گذشتہ ایک سال سے طلباء وطالبات اور مرد و خواتین کو مختلف ٹریڈس بشمول ، کمپیوٹر کورس ، ایل ای ڈی بلب سازی ، موبائل ریپرنگ و سرویسنگ ، سی سی ٹی وی کیمروں کی درستگی و تنصیب کی تربیت فراہم کی جارہی تھی ۔ جس کا مقصد طلباء و طالبات اور مرد و خواتین کو روزگار سے مربوط کر کے ان کے لیے آمدنی کے وسائل پیدا کرنا تھا ۔ چنانچہ ایک سال کے دوران 363 لڑکے لڑکیوں اور بڑی عمر کے مرد و خواتین نے کورس کی کامیابی سے تکمیل کی جس میں آٹو ڈرائیورس بھی شامل ہیں ۔ محبوب نگر سے تعلق رکھنے والے محبوب علی روزانہ کلاس میں شرکت کرتے رہے وہ چاہتے ہیں کہ اپنے علاقہ کے بیروزگار لڑکے لڑکیوں کو تربیت دیں ۔ جناب ظہیر الدین علی خاں نے مسجد خزانہ آب میں اطراف و اکناف کے طلبہ کے لیے ریڈنگ روم کی طرز پر مرکز مطالعہ قائم کرنے کی تجویز کی اور اس سلسلہ میں مسجد عالمگیر میں قائم کئے گئے ایک مرکز مطالعہ کی مثال پیش کی ان کا کہنا تھا کہ وہ مرکز کافی کامیاب رہا ۔ انہوں نے طلبہ پر انگریزی سیکھنے کے لیے بھی زور دیا ۔ جناب افتخار حسین نے اپنے خطاب میں کہا کہ سیاست اور فیض عام ٹرسٹ نے ہمیشہ ملت کی ترقی و خوشحالی پر توجہ مرکوز کی اور نئی نسل کو تعلیم و ہنر سے سجانے سنوارنے کو ترجیح دی جس کے نتیجہ میں ہماری نئی نسل خاص کر پرانا شہر میں تعلیمی شعور بیدار ہورہا ہے ۔ سید عبدالستار کی قرات کلام پاک سے تقریب کا آغاز ہوا ۔ مسجد کے امام و خطیب حافظ شجیع نے کارروائی چلائی ۔ دونوں سنٹرس کے نگران سید حیدر علی اور مہمانان خصوصی جناب علی حیدر عامر مجاہد حسین اور دوسرے موجود تھے ۔دونوں سنٹرس کے ٹرینرس مصطفی منصوری اور ڈاکٹر عبدالقدیر کی شال پوشی کی گئی ۔ اس طرح ایک پر اثر تقریب خازن مسجد خزانہ آب عثمان غنی کے شکریہ پر اختتام کو پہنچی ۔۔