نئی دہلی : راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے وابستہ سودیشی جاگرن منچ نے مالی سال 2023-24 کے مرکزی بجٹ پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے جمعہ کو کہا کہ دیہی ترقی، انفراسٹرکچر اور چھوٹی صنعتوں پر توجہ مرکوز کرنے کے ساتھ بجٹ سے ترقی کو رفتا ر ملے گی اورانکم ٹیکس کے ڈھانچے میں تبدیلی سے متوسط طبقے کو راحت ملے گی۔جاگرن منچ کے قومی شریک کنوینر ڈاکٹر اشونی مہاجن نے آج یہاں کہا کہ ملیٹس یعنی موٹے اناجوں کے بین الاقوامی سال میں ملیٹس کو فروغ دینا، زرعی قرضوں میں اضافہ، ڈیری اور ماہی پروری جیسی متعلقہ سرگرمیوں پر توجہ، کوآپریٹیو کو فروغ دینا وغیرہ اس بجٹ کی اہم خصوصایت ہیں۔ کثیر مقصدی پرائمری ایگریکلچرل کریڈٹ کوآپریٹو سوسائٹیز (پی اے سی ایس) کو فروغ دیتے ہوئے ڈیری اور فشریز سیکٹر کے فروغ کے التزام بجٹ میں شامل کیے گئے ہیں۔ زرعی قرضے کے ہدف کو بڑھا کر20 لاکھ کروڑ روپے کرنا ایک خوش آئند قدم ہے ۔ اس سے تمام زراعت اور اس سے منسلک سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ اس سے چین سے درآمدات پر لگام لگے گی اور ملک میں مینوفیکچرنگ کو فروغ ملے گا۔