ترنمول میں اختلافات ختم کرنے کی مساعی

   

Ferty9 Clinic

دل انتہا پسند، خرد حوصلہ شکن
دیوانے کس سے بات کریں بزمِ یار کی
چیف منسٹر مغربی بنگال و سربراہ ترنمول کانگریس پارٹی ممتابنرجی نے پارٹی میں داخلی اختلافات کو ختم کرنے کی سمت پیشرفت کرتے ہوئے کئی ہفتوں کی کاوشوں کے بعد اپنے بھانجے و یقینی جانشین ابھیشیک بنرجی کو پارٹی کا قومی جنرل سکریٹری دوبارہ نامزد کردیا ہے ۔ پارٹی میں کچھ گوشوں کی جانب سے ابھیشیک بنرجی کو اس عہدہ پر برقرار رکھنے کے خلاف ناراضگی کا اظہار کیا جا رہا تھا اور ایک شخص ایک عہدہ کے اصول پر عمل کرنے کیلئے دباؤ بنایا جا رہا تھا ۔ ویسے تو پارٹی میں کئی سینئر قائدین ایسے ہیں جو ایک سے زائد عہدوں پر فائز ہیں اور وہ ان کو چھوڑنے بھی تیار نہیں ہیں۔ ایسے میں کچھ گوشوں کو اکساتے ہوئے پارٹی میں داخلی خلفشار پیدا کرنے کی کوششیں تیز ہوگئی تھیں۔ یہ کوششیں ایسے وقت میں ہوئیں جبکہ ترنمول کانگریس نے ریاست میں لگاتار تیسری معیاد کیلئے اقتدار حاصل کیا ہے ۔ اس کے علاوہ بلدی انتخابات میں چار بڑے ٹاؤنس پر بھی ترنمول کانگریس کا قبضہ ہوا ہے ۔ ایسے وقت جبکہ پارٹی کو مسلسل عوامی تائید حاصل ہو رہی ہے اور لوگ اس پر بھروسہ کرتے ہوئے ووٹ دے رہے ہیں ایسے میں داخلی خلفشار اور اختلافات پیدا کرتے ہوئے پارٹی کے استحکام کو متاثر کرنے کی کوششیں ہو رہی تھیں۔ کہا جا رہا ہے کہ سیاسی حکمت عملی کے ماہر پرشانت کشور اور ابھیشیک بنرجی میں ناراضگی ہوگئی تھی اور اسی کو ہوا دی جا رہی تھی ۔ تاہم اب ممتابنرجی نے اس معاملے کو زیادہ طول نہ دیتے ہوئے دوبارہ پارٹی میں ابھیشیک بنرجی کی نمبر 2 پوزیشن کو برقرار رکھا ہے ۔ انہوں نے آج ہوئے ایک اہم اجلاس میں ابھیشیک بنرجی کو دوبارہ پارٹی جنرل سکریٹری عہدہ پر نامزد کردیا ہے ۔ ممتابنرجی نے گذشتہ ہفتے ہی پارٹی کے تنظیمی عہدوں پر بھی رد و بدل کیا تھا اور کچھ لوگوں کو تبدیل کرتے ہوئے کچھ کو نئے چہروں کے طور پر متعارف کرواتے ہوئے اختلافات ختم کرنے کی کوشش کی تھی اور اسے آج مزید آگے بڑھاتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ ابھیشیک بنرجی ان کے جانشین ہونگے ۔ اس طرح تقریبا تین ماہ سے جاری داخلی اختلافات اور خلفشار کی صورتحال پر قابو پانے کی سمت پیشرفت ہوئی ہے ۔
ترنمول کانگریس مغربی بنگال میں لگاتار تیسری معیاد کیلئے منتخب ہوئی ہے اور اس نے عوام کا اعتماد جیتا ہے ۔ عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کام کئے جا رہے ہیں۔ ریاست کی ترقی کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ صنعتوں کے قیام پر توجہ دی جا رہی ہے ۔ روزگار کی فراہمی کیلئے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔ ریاست کی حالت کو بدلنے کیلئے مسلسل مساعی کی جا رہی ہے ۔ ایسے میں اگر برسر اقتدار پارٹی میں اختلافات پیدا ہوتے ہیں اور داخلی خلفشار طول پکڑتا ہے تو یقینی طور پر اس سے حکومت کی کارکردگی متاثر ہوتی اور ترقیاتی اقدامات میں بھی خلل پیدا ہوتا ۔ اس کے علاوہ پارٹی کے استحکام پر اثر ہوتا اور مخالفین کو اس سے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے مواقع بھی مل جاتے ۔ گذشتہ اسمبلی انتخابات سے قبل تین برسوں تک ریاست میں پارٹی قائدین کو نشانہ بنانے کا سلسلہ چل رہا تھا ۔ کئی قائدین کو مرکزی تحقیقاتی ایجنسیوں سے خوفزدہ کرتے ہوئے ترنمول سے دور کرتے ہوئے بی جے پی میں شامل کرلیا گیا تھا ۔ کچھ قائدین کو گرفتار کیا گیا تھا ۔ کئی قائدین کے خلاف مقدمات درج کئے گئے تھے ۔ ممتابنرجی کی توجہ حکمرانی اور عوام کو راحت پہونچانے کے ساتھ ساتھ پارٹی کی صفوں کو مستحکم رکھنے پر زیادہ مرکوز تھی ۔ ساری کوششوں کے باوجود ممتابنرجی کو انتخابات میں شکست نہیں دی جاسکی اور انہوں نے پہلے سے زیادہ اکثریت سے کامیابی حاصل کرلی تھی ۔ اس کے بعد اب جو داخلی خلفشار پیدا کرنے کی کوششیں ہو رہی تھیں ان کو بھی عملا ختم کردیا گیا ہے ۔
ترنمول کانگریس قائدین کو ساری صورتحال کو ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے کہ داخلی اختلافات اور خلفشار اپوزیشن کو موقع فراہم کرسکتا ہے ۔ ریاست میں عوام کی جو تائید ترنمول کو حاصل ہوئی ہے اس کو متاثر ہونے نہیں دیا جانا چاہئے ۔ عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے کے اقدامات پر عمل آوری کے ذریعہ مزید عوامی تائید حاصل کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے ۔ اپنی صفوں میں اختلافات کو زیادہ شدت اختیار کرنے کا موقع فراہم کئے بغیر انہیں باہم مشاورت سے حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے ۔ ترنمول کانگریس کو قومی سطح پر فروغ دینے کیلئے ریاست میں اسے مزید مستحکم کرنا از حد ضروری ہے ۔