ترنمول کے عزائم اور کانگریس

   

Ferty9 Clinic

قدم قدم پہ لیا اِنتقام دُنیا نے
تجھی کو جیسے گلے سے لگائے پھرتے ہیں
مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات میں شاندار کامیابی کے بعد ایسا لگتا ہے کہ ترنمول کانگریس کے عزائم اور حوصلے بہت زیادہ بلند ہوگئے ہیں۔ قومی سطح کی سیاسی جماعت کا موقف حاصل کرنے کیلئے ترنمول کانگریس نے اپنی کوششوںمیںشدت پیدا کردی ہے ۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ ترنمول کانگریس یہ کوششیں کانگریس کی قیمت پر آگے بڑھانا چاہتی ہے کیونکہ اس نے اب تک گوا اور میگھالیہ میں جو سرگرمی دکھائی ہے اس سے کانگریس کا نقصان ہوا ہے کیونکہ گوا میں ممتابنرجی نے سابق کانگریسی چیف منسٹر لوئی زنہو فلیرو کو اپنی پارٹی میںشامل کرتے ہوئے کانگریس کو کمزور کیا ہے ۔ ممتابنرجی نے تریپورہ میں بھی اپنی پارٹی کو توسیع دینے کی کوششیں شروع کی ہیں اور وہاں بھی وہ سی پی ایم کو کمزور کر رہی ہیں۔ انہوں نے میگھالیہ میں اچانک ہی اپنے عزائم دکھائے اور وہاں کانگریس کے جملہ 12 ارکان اسمبلی کو اپنی صفوں میںشامل کرلیا ہے ۔ ان میں سابق چیف منسٹر بھی شامل ہیں۔ ترنمول کے یہ عزائم اپوزیشن کی صفوں میں استحکام پیدا کرنے کی بجائے انتشار کا باعث ہوسکتے ہیں کیونکہ اس سے اپوزیشن کے ووٹ تقسیم ہونگے اور اس کا فائدہ راست طور پر بی جے پی اٹھا سکتی ہے ۔ ترنمول کانگریس کو قومی سطح کی سیاسی جماعت کا وقف حاصل کرنے سے کوئی روک نہیں سکتا لیکن ممتابنرجی کو اس بات کو ذہن نشین رکھنے کی ضرورت ہے کہ قومی سطح پر ایک مضبوط اپوزیشن بھی بی جے پی سے مقابلہ کیلئے ضروری ہے اور مضبوط اپوزیشن کا تصور کانگریس کے بغیر ممکن نظر نہیں آتا ۔ میگھالیہ میں کانگریس کے 12 ارکان اسمبلی اس دن ترنمول میں شامل ہوئے جس دن ممتابنرجی نے دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی تھی ۔ اس حسن اتفاق کو بھی سیاسی نظر سے دیکھا جا رہا ہے اور اس پر مختلف تبصرے ہو رہے ہیں تاہم یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے جمہوری عمل کی اہمیت متاثر ہونے لگی ہے ۔ جمہوریت کو داغدار اور پامال کرنے کے الزامات ترنمول کانگریس کی جانب سے بی جے پی پر لگائے جاتے رہے ہیں اور اب خود ترنمول کانگریس یہی طریقہ کار خود بھی اختیار کر رہی ہے ۔
جہاں تک گوا میں لوئی زنہو فلیرو کی شمولیت کی بات ہے تو وہ کوئی منتخب عوامی نمائندے نہیں تھے ۔ حالانکہ ریاست میں وہ کانگریس کا چہرہ ضرور تھے لیکن انہیں اپنے سیاسی سفر کیلئے راستے کا انتخاب کرنے کا حق حاصل تھا لیکن میگھالیہ میں 12 ارکان اسمبلی کو کانگریس سے انحراف کرواتے ہوئے اپنی صفوں میں شامل کرتے ہوئے ممتابنرجی نے بھی جمہوریت کا مذاق اڑایا ہے ۔ ایک پارٹی اور ا س کے منشور پر منتخب ہوتے ہوئے دوسری پارٹی میں شمولیت اختیار کرنا در اصل عوام کی رائے کا مذاق اڑانے اور اس کی ہتک کرنے کے مترادف ہے ۔ اس کے باوجود آج ہندوستان بھر میں یہی روایت چل رہی ہے کہ جو جماعت طاقتور یا برسر اقتدار نظر آتی ہے کئی قائدین اپنی پارٹیوں سے ترک تعلق کرتے ہوئے اس میںشمولیت اختیار کرتے ہیں۔ بی جے پی نے کرناٹک اور مدھیہ پردیش میں قدرے مختلف طریقہ اختیار کیا تھا ۔ جے ڈی ایس اور کانگریس ارکان اسمبلی کو پارٹیوں سے مستعفی کروایا گیا ۔ ایوان کی عددی طاقت میں کمی لاتے ہوئے خود حکومت سازی کی اور پھر بعد میں ان ارکان کو اپنے ٹکٹ پر دوبارہ منتخب کرتے ہوئے حکومتوں کو برقرار رکھا ہے ۔ یہ طریقہ کار سیاسی جماعتوں کے توڑ جوڑ اور اقتدار کی ہوس کا نتیجہ ہے ۔ ممتابنرجی ہمیشہ ہی اخلاق و اقدار کی بات کرتی رہی ہیں لیکن حالیہ عرصہ میں انہوں نے قومی سطح پر اپنی پارٹی کو توسیع دینے کے منصوبوں پر جس انداز سے عمل کرنا شروع کردیا ہے وہ بھی درست نہیں ہے اور اس سے جمہوریت کمزور ہوتی ہے ۔
علاوہ ازیں ایک ایسے وقت جبکہ ملک میںآئندہ سال پانچ ریاستوں میں انتخابات ہونے والے ہیں اور اپوزیشن جماعتوں کو متحد ہونے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ پارلیمانی انتخابات سے قبل تک بی جے پی کے مقابلہ کیلئے تیاریاںکی جاسکیں لیکن ترنمول کانگریس اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کرتے ہوئے اپوزیشن کے اتحاد کی کوششوں کو متاثر کر رہی ہیں اور اس سے اپوزیشن کے امکانات بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔ ممتابنرجی کو صرف اپنی جماعت کے سیاسی موقف سے زیادہ ملک کے مستقبل کی اور ایک مضبوط اور مستحکم اپوزیشن کی اہمیت کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ انتخابات میں بی جے پی کو شکست دی جاسکے ۔