کیف : یوکرین کے صدر ولادی میر زیلنسکی نے کہا ہے کہ ہم، ترکیہ اور اقوام متحدہ کے تعاون سے، یوکرینی اناج کی ترسیل جاری رکھے ہوئے ہیں۔زلنسکی نے رات گئے ٹیلی گرام سے جاری کردہ ویڈیو پیغام میں ملک میں روس کے خلاف جاری جنگ کا جائزہ لیا۔انہوں نے، فرانس کے صدر امانوئیل ماکرون کے ساتھ مذاکرات کا ذکر کیا اور کہا ہے کہ ہم، روس کے یک طرفہ طور پر اناج راہداری سمجھوتہ التوا میں ڈالنے کے باوجود، ترکیہ اور اقوام متحدہ کے تعاون سے یوکرینی اناج کی ترسیل جاری رکھے ہوئے ہیں۔زیلنسکی نے کہا ہے کہ “یوکرین کی غذائی مصنوعات سے لدے بحری جہاز سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اگر روس ان جہازوں کے راستے میں رکاوٹ بنتا ہے تو دنیا کا اس کے خلاف ردعمل ظاہر کرنا ضروری ہے”۔انہوں نے کہا ہے کہ “اناج راہداری کو طویل المدت دفاع کی ضرورت ہے۔ اس راہداری کا قابل بھروسہ ہونا ضروری ہے۔ روس کو بلا کم و کاست سمجھ لینا چاہیے کہ اناج راہداری کے راستے میں رکاوٹ بننے والے کسی بھی قدم کا عالمی ردعمل سخت ہو گا۔ لفظ ‘اناج راہداری ‘ مکمل معنوں میں کروڑوں انسانوں کے لئے زندگی موت کا سوال ہے”۔واضح رہے کہ عالمی غذائی بحران پر قابو پانے کے لئے ترکیہ کے زیرِ انتظام جاری ‘بحیرہ اسود اناج راہداری سمجھوتہ’ 22 جولائی کو استنبول میں صدر رجب طیب ایردوان کی سربراہی میں یوکرین، روس، ترکیہ اور اقوام متحدہ کے درمیان طے پایا تھا۔