ترکیہ اور شام باہمی تعلقات مضبوط کرنے کیلئے پر عزم

   

دمشق: حیات تحریر الشام کے کمانڈر احمد الشراء اور دورے پر آئے ترکی کے وزیر خارجہ حقان فیدان نے ملاقات کی، جس میں فریقین نے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ ملاقات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں فیدان نے شام کے لیے روشن مستقبل کی امید ظاہر کی اور شام کے انفراسٹرکچر کی تعمیر نو، اس کے اداروں کی تشکیلِ نو، اور بے گھر شامیوں کی واپسی کے لیے ترکی کی حمایت کا وعدہ کیا۔ فیدان نے کہا کہ شام میں استحکام کی بحالی لاکھوں پناہ گزینوں کے لیے بہت ضروری ہے۔ انہوں نے شام کے اندر اتفاقِ رائے پیدا کرنے اور اقلیتوں کے تحفظ کے لیے ایک ایسا نظام بنانے کی ضرورت پر زور دیا جو تمام مذاہب اور قومیتوں کو شامل کرے۔ انہوں نے کہا دہشت گرد تنظیموں کا شام کے مستقبل میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ یہ بات انہوں نے کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) اور شام میں اس سے منسلک مبینہ تنظیموں کے خلاف کہی، جنہیں ترکی نے دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔ انہوں نے شامی حکام کی شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کے عزم کا بھی خیر مقدم کیا۔ انہوں نے اسرائیل پر زوردیا کہ وہ شام میں اپنی فوجی کارروائیاں بند کرے اور ملک کی خودمختاری کا احترام کرے، اور شام پر بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ فیدان نے خبردارکیا کہ بعض غیر ملکی طاقتیں شام میں مقامی پراکسیزکو استعمال کر رہی ہیں اور توقع ظاہرکی کہ نئی حقیقتوں کے پیش نظر امریکی پالیسی میں تبدیلی آئے گی۔ اپنی بات میں الشراء نے ترکی کو شامی عوام کا دوست قرار دیا اور کہا کہ دونوں فریقین خطے کے مستقبل کے مطابق اسٹریٹجک تعلقات استوار کرنے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے شام کو درپیش اہم چیلنجز جیسے کہ پناہ گزینوں کا بحران، کمزور معیشت، اور شدید غربت کا ذکر کرتے ہوئے شامی حکام کے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایک ایسا ملک تعمیر کیا جائے جو تمام شامیوں کی امیدوں پر پورا اترے اور شام کی وحدت کو یقینی بنانے کے لیے عالمی اتفاقِ رائے حاصل کیا جا سکے اور ملک پر عائد تمام پابندیوں کو ختم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا یہ ناقابل قبول ہے کہ شام میں کسی بھی گروپ کے پاس ہتھیار ہوں۔ انہوں نے پی کے کے اور اس سے منسلک تنظیموں کے کنٹرول والے علاقوں سمیت شام کے تمام علاقوں میں گروہوں کو غیر مسلح کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے نئی وزارتِ دفاع کے تحت تمام فوجی قوتوں کو متحد کرنے کی اہمیت پر زور دیا اورکہا کہ شام میں زیادہ تر مسلح گروپ ایک ہی کمانڈ کے تحت آنے پر راضی ہو چکے ہیں۔ ترکی کی سرکاری ٹی آر ٹی براڈکاسٹر کے مطابق ملاقات میں ترکی کے نائب وزیر خارجہ نوح یلماز دمشق میں ترکی کے قائم مقام ناظم الامور برہان کوروغلو اور شام کے عبوری وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے بھی شرکت کی۔ الشراع جو ابو محمد الجولانی کے نام سے بھی مشہور ہیں، نے ایک 12 روزہ فوجی آپریشن کی قیادت کی جس کے نتیجے میں8 دسمبرکو سابق شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔