ترکیہ اور شام میں زلزلے سے تباہی، 2000سے زائدافراد جاں بحق

,

   

l کئی عمارتیں ملبہ کے ڈھیر میں تبدیل ، سینکڑوں افراد کے ملبے میں دبے ہونے کا اندیشہ l راحت و امدادی کام تیزی سے جاری
ہندوستان سمیت کئی ممالک کا اظہار رنج ‘ ترکیہ میں ایمرجنسی نافذ l قبرص، یونان، شام، اردن،لبنان اور فلسطین میں بھی زلزلے کے جھٹکے

استنبول :ترکیہ اور شام شدید و خوفناک زلزلے سے لرز اٹھے، 7.9 شدت کے زلزلے سے متعدد عمارتیں زمین بوس ہوگئیں جس کے باعث مجموعی طور پر 2000 سے زائد افراد کے جاں بحق ہونے کا اندیشہ ہے۔ سینکڑوں افرداد کے ملبے کے نیچے دبے ہونے کا بھی خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔ راحت و امدادی کام تیزی سے جاری ہیں ۔ ہندوستان سمیت دنیا کے کئی ممالک نے گہرے رنج و دکھ کا اظہار کیا ہے ۔امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کی شدت 7.9 ریکارڈ کی گئی ہے، زلزلے کا مرکز ترکیہ کے جنوب میں غازی انتپ صوبے کے علاقے نرداگی میں تھا، جبکہ زلزلے کی گہرائی 17.9 کلومیٹر تھی۔ترک میڈیا کے مطابق زلزلے کے شدید ترین جھٹکے ایک منٹ تک محسوس کیے گئے، جھٹکوں کے باعث لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔زلزلے کے جھٹکے قبرص، یونان، شام، اردن،لبنان اور فلسطین میں بھی محسوس کیے گئے۔ترک صدر طیب ارد غان نے زلزلے سے اموات کی تعداد 912 ہونے کی تصدیق کردی ہے۔ترک صدر کا کہنا ہیکہ ترکیہ میں زلزلے سے اموات کی تعداد 912 ہوگئی ہے اور 5 ہزار 383 افراد زخمی ہیں، زلزلے سے اموات کتنی بڑھیں گی، ابھی اندازہ نہیں لگا یا جاسکتا ۔ان کا کہنا تھا کہ 45 ممالک سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں مدد کی پیشکش کرچکے ہیں، یہ زلزلہ 1939کے بعد اب تک کی سب سے بڑی تباہی ہے۔اس کے علاوہ ترک صدر طیب اردغان نے ملک میں ہولناک زلزلے کے بعد ایمرجنسی کا اعلان کردیا ہے۔ترک صدر نے زلزلے سے متاثر تمام شہریوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہیکہ امید ہے کہ جلد از جلد اور کم سے کم نقصان کے ساتھ مل کر اس آفت سے نکل جائیں گے۔ترکیہ کے نائب صدر کے مطابق زلزلے کے بعد غازی انتپ اور حاطے ائیرپورٹ پر سیول پروازیں معطل کردی گئی ہیں۔ترک میڈیا کے مطابق زلزلے کے باعث ترک صوبہ حاطے میں قدرتی گیس پائپ لائن میں آگ بھڑک اٹھی، احتیاطی تدابیر کے طور پر حاطے میں قدرتی گیس کی فراہمی روک دی گئی ہے۔ترک ڈیزاسٹر منیجمنٹ ایجنسی کا کہنا ہیکہ زلزلے کے بعد سے اب تک 78 آفٹرشاکس محسوس کیے گئے ہیں، زلزلے سے کم ازکم 1ہزار 710 عمارتیں گرگئیں۔ترک حکام کا کہنا ہیکہ متاثرہ علاقوں میں 2 ہزار 786 امدادی ٹیمیں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ترک میڈیا کا کہنا ہیکہ آذربائیجان سے سرچ ریسکیو کے 370 ماہرین ترکیہ پہنچ رہے ہیں جب کہ امریکہ نے بھی ترکیہ کو ہر ممکن مدد فراہم کرنیکی پیشکش کی ہے اور کہا ہیکہ امریکہ ترکیہ کی ہر طرح کی مدد کے لیے تیار ہے۔ میڈیا کے مطابق زلزلے نے شام میں بھی شدید تباہی مچائی ہے جہاں عمارتیں گرنے سے متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔شامی حکام کے مطابق زلزلے کے جھٹکے شام کے صوبوں حما، حلب اور لتاکیہ میں محسوس کیے گئے، حکومتی زیر اثر علاقوں میں زلزلے سے اموات کی تعداد 326 ہوگئی ہے اور ایک ہزار سے زائد افراد زخمی ہیں۔دوسری جانب شام میں کام کرنے والے امدادی گروپ کے مطابق باغیوں کے زیرکنٹرول علاقوں میں زلزلے سے234 اموات ہوئی ہیں، زلزلے سے اموات میں اضافے کا خدشہ ہے، سینکڑوں خاندان اب بھی ملبے تلے دبے ہیں۔شام میں زلزلے سے اموات کی مجموعی تعداد560 ہوگئی ہے اور ترکیہ اور شام میں زلزلے سے اموات کی مجموعی تعداد ایک ہزار 385 ہوگئی ہے۔ پاکستان کے صدرعارف علوی نے ترکیہ اور شام میں زلزلے سے قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہیکہ دکھ کی گھڑی میں پاکستانی عوام اور ہماری ہمدردیاں ترکیہ اور شام کے ساتھ ہیں، اللہ تعالیٰ مرحومین کے ورثاء کو صبر جمیل اور مرحومین کو سکون نصیب فرمائے۔وزیراعظم شہبازشریف نے ترکیہ کی حکومت اور عوام سے قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار تعزیت کیا ہے۔ پاکستان اپنے برادر عوام اور حکومت کی ہر ممکن مدد کریگا، ترکیہ نے ہرمشکل میں ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے ترک صدر کو ٹیلی فون بھی کیا اور زلزلے سے ہونے والی تباہی پر اظہار افسوس کیا۔ آزمائش کی اس گھڑی میں پاکستان اپنے ترک بھائی کے ساتھ ہے، زلزلے کی تباہی سے نمٹنے میں پاکستان ترکیہ کی حکومت اور عوام کے ساتھ بھرپور تعاون کریگا۔ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی ترکیہ میں زلزلہ اور نقصانات پر گہرے رنج کا اظہار کیا ہے ۔