ترکیہ کی مدد عالمی برادری کی ذمہ داری

   

لوئس ونٹن
حالیہ زلزلوں نے ترکیہ کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ ایسے میں اب وقت آگیا ہے کہ دنیا ترک عوام کی دامے درمے نسخے مدد کے لئے آگے آئے اگر دیکھا جائے تو زلزلوں کے نتیجہ میں ترکیہ کو زبردست جانی و مالی نقصان برداشت کرنا پڑا اور وہاں جو تباہی آئی اُس تباہی کے اثرات سے ترکیہ اور ترک عوام کا باہر نکلنا کافی مشکل ہے۔ اس کے لئے برسوں لگ جائیں گے ان حالات میں عالمی برادری کو ترکیہ کی مدد کے لئے آگے آنا ہوگا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ 6 فروری کو پلک جھپکتے ہی ایک طاقتور زلزلہ آیا اور دیکھتے ہی دیکھتے بے شمار شہر زمین دوز ہوگئے۔ خاص طور پر جنوبی ترکیہ کا علاقہ بہت زیادہ متاثر ہوا۔ آپ کو بتادیں کہ جنوبی ترکیہ کا جو علاقہ زلزلہ سے متاثر ہوا اس کا رقبہ بلجیم سے تین گنا زیادہ ہے اور اس علاقہ میں 15.7 ملین نفوس پر مشتمل آبادی پائی جاتی ہے۔ اس تباہی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ترکیہ میں اس قدر تباہ کن زلزلہ کبھی نہیں آیا۔ مابعد زلزلہ جھٹکوں نے بھی عوام میں خوف و دہشت پیدا کردیئے تھے۔ ترکیہ کے مذکورہ زلزلہ کے بارے میں ماہرین کا خیال ہیکہ گزشتہ 30 برسوں میں دنیا میں آیا یہ پانچواں خطرناک زلزلہ تھا۔ 49 ہزار سے زائد لوگ اپنی زندگیوں سے محروم ہوئے جبکہ 272,860 عمارتیں زمین دوز ہوئیں۔ بے شمار ایسی عمارتیں بھی ہیں جنہیں بہت زیادہ نقصان پہنچایا پھر ان کا منہدم کیا جانا ضروری ہے خاص طور پر انطاکیہ جیسے قدیم شہر میں بہت زیادہ تباہی ہوئی اور وہاں ہر 5 عمارتوں میں سے 4 عمارتیں تباہ ہوئیں۔ زلزلہ کی تباہی کے بعد ابتدائی دنوں میں عالمی برادری نے ہمدردی کا اظہار کیا اور ہر طرح سے ترکیہ کی مدد بھی کی۔ 88 ملکوں سے تعلق رکھنے والی بچاؤ اور راحت کاری ٹیموں اور طبی ٹیموں نے ترکیہ پہنچ کر متاثرین کی مدد کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی اور دنیا بھر سے ہنگامی سربراہی جاری رہی۔ گرم ملبوسات، بستر، ادویات، خیمے وغیرہ بھیجے گئے لیکن ترکیہ کو اب بھی مدد درکار ہے۔ اُسے زلزلہ کی تباہی و بربادی سے باہر نکلنے میں دنیا کی مدد کی ضرورت ہے۔ بڑے وسائل درکار ہیں۔ کئی شہروں کی تعمیر جدید کے لئے اربوں ڈالرس کی ضرورت ہے۔ ایسے میں عالمی برادری آگے آکر اس کی مدد کرسکتی ہے جس سے ترکیہ کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کا موقع ملے گا۔ آپ کو بتادیں کہ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNPD) نے آفات سماوی کے مالیاتی اثرات کا پتہ یا حساب لگانے ریکووری اور تعمیر جدید میں مدد کی ہے۔ اس مشترکہ کام کے نتیجہ میں Turkye Earthquakes Recovery and Reonstruction Assesment (TERRA) نے جو تخمینہ پیش کیا وہ حیران کن رہا۔ TERRA کے مطابق زلزلہ کے نتیجہ میں ترکیہ کو 103.6 ارب ڈالرس کا نقصان ہوا ہے اس کا مطلب ترکیہ کی قومی مجموعی پیداوار (جی ڈی پی) کا 9 فیصد حصہ ہے۔ آپ کو بتادیں کہ صرف 650,000 تباہ شدہ ہاوزنگ یونٹس کا تخمینہ 66 ارب ڈالرس لگایا گیا ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ نقصان ترک عوام کو برداشت کرنا پڑا ہے۔ انہیں بھیانک تجربات سے گذرنا پڑا ۔ اپنے عزیز و اقارب کی اموات کا غم برداشت کرنا پڑا۔ کم از کم 3.3 ملین لوگوں نے اپنے گھروں کی تباہی دیکھی۔ اپنے مکانات کے ملبہ کو زمین پر بکھیرے دیکھا۔ ان میں سے اکثر کے دوست احباب جاں بحق ہوئے ۔ اب بھی ترک عوام کی مصیبتوں اور پریشانیوں کا یہ حال ہیکہ تقریباً 20 لاکھ لوگ خیموں اور کنٹینروں میں مقیم ہیں۔ ان حالات میں ان لوگوں کے لئے مختلف مقامات پر بہترین سہولتوں کی تعمیر عمل میں لائی جارہی ہے جن میں عارضی اور مستقل سہولتیں بھی شامل ہیں۔ اس کے باوجود زلزلہ میں بچ جانے والوں کی حالت ابتر ہے۔ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں ترک عوام نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہوئے ہیں وہ ابھی تک صدمہ سے باہر نہیں آسکے۔
ہولناک زلزلے کے بعد ترکیہ کے عوام ہنوز صدمہ سے دوچار ہیں۔ زلزلے میں ایسے بے شمار ٹاورس، اپارٹمنٹس بھی منہدم ہوگئے جو ترکیہ کی ترقی کے شاہد تھے۔ اگر دیکھا جائے تو ترکی 1960 تک ایک دیہی ملک تھا لیکن آج 77 فیصد شہری علاقوں پر مشتمل ہے جو علاقے زلزلہ سے شدید متاثر ہوئے ہیں وہاں ایسی بے شمار عمارتیں دیکھی جاسکتی ہیں جو کسی خوفناک فلم کے ایک ایسے منظرنامہ کی طرح ہیں جس میں عمارتیں اس انداز میں جھکی ہوتی ہیں۔ جو کشش ثقل اور انجینئرنگ دونوں کی خلاف ورزی کرتی ہیں ٹوٹی پھوٹی کھڑکیوں پر پردے پھڑ پھڑاتے ہیں۔ یہ ایسے پردہ ہیں جن کے مالکین اب کبھی واپس آنے والے نہیں۔ ان پردوں اور ان کے مالکین کے درمیان ایسا پردہ آگیا ہے جو کبھی بھی ایک دوسرے کا سامنا نہیں کریں گے۔ اگرچہ صرف 11 صوبوں میں ہی زلزلے نے تباہی مچائی لیکن خطرات ترکی کے جنوب اور شمال ہر طرف پائے جاتے ہیں۔ ان علاقوں میں اب بھی ایسی بے شمار عمارتیں ہیں جنہیں زلزلوں سے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ترکیہ تاریخ کا خزانہ ہے تو جنوب مشرق منفرد شان و شوکت کا زیور ہے۔ ایک ایسا مقام جہاں ہٹی، رومن، بازنیطنی، عیسائی اور عثمانی تہذیبوں کی وراثتیں جڑی ہوئی ہیں خاص طور پر ترکیہ کے انتہائی قدیم شہر انسطاکیہ میں یہ جڑیں پیوست ہیں۔ صوبے ہیتے تہذیبی تنوع اور رواداری کے لئے ساری دنیا میں اپنی ایک منفرد پہنچان رکھتا ہے۔ انسطاکیہ شہر پوری طرح تباہ ہوگیا ہے۔ دوسرے شہروں کو شاید بحال کیا جاسکتا ہے لیکن اس شہر کا مرکز مکمل طور پر تباہ کردیا گیا اور وہ عوام کے رہنے کی جگہ نہیں ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ صرف HATAY جیسے صوبہ میں 21000 لوگ جاں بحق ہوئے ہیں۔ ایک بات یہاں بتانا ضروری ہیکہ آج دنیا میں جسمانی ڈھانچہ یا ساخت کی دوبارہ تعمیر تو ممکن ہے لیکن شہر کے منفرد ماڈل کو بحال کرنا زیادہ مشکل ہوسکتا ہے۔ ہاں ترکیہ کی تعمیر جدید کا جہاں تک سوال ہے عالمی برادری کو بڑی فیاضی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ تعمیر جدید صرف اینٹوں اور پتھروں کے بارے میں نہیں ہے۔ اس کے لئے عالمی کوششوں کی ضرورت ہے ترکیہ کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے لئے وسیع تر سرمایہ کاری اور کھلے ویژن کی ضرورت ہے۔ کئی ایسے شہر ہیں جہاں مزدوروں یا افرادی قوت کی قلت پائی جاتی ہے، ان لوگوں کی قلت بھی دور کرنا ضروری ہے۔