ترکی زلزلہ متاثرین بے گھر افراد ریل کے ڈبوں میں رہنے پر مجبور

   

انقرہ : ترکی میں 6 فروری کے زلزلے میں تقریباً 15 لاکھ افراد بے گھر ہوئے تھے جن میں سے بہت سوں کو ابھی تک مستقل پناہ گاہ نہیں ملی ہے۔ اسکندرون شہر زلزلے سے بری طرح متاثر ہوا تھا اور مقامی حکام ہر دستیاب جگہ کو، جن میں ریل گاڑیوں کی سلیپر بوگیاں بھی شامل ہیں، عارضی پناہ گاہوں کے طور پر استعمال کر رہے اسکندرون ریلوے اسٹیشن پر اگرچہ باقاعدہ ریل سروس جاری ہے لیکن اس کے دو ٹریکس پر سلیپر کار یں کھڑی ہیں۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ ویگنز کسی مہم پر روانہ ہونے والی ہیں لیکن یہ نائٹ ٹرینز کہیں نہیں جا رہیں۔ ان کے مسافر ترکی کے وہ بے گھر لوگ ہیں جن کے گھر یا اپارٹمنٹس فروری کے زلزلیمیں تباہ ہو گئے تھے یا انہیں نقصان پہنچا تھا۔ زلزلہ سے متاثرہ ایک بے گھر خاتون سیول ویگر نے وی او اے کو بتایا کہ ہمارا گھر زمین بوس ہو گیا ہے اور ہماریخاندان کیپاس کوئی ٹھکانہ نہیں ہے اس لیے ہم نے بچوں کے ساتھ یہاں پناہ لی اور یہا ں رہ رہے ہیں۔ اس نے بتایا کہ یہاں کے لوگ ہمارے لیے کھانا لاتے ہیں ، ہمیں بھوکا نہیں رہنے دیتے۔