تصرف بل کی منظوری کے بعد اسمبلی کی کارروائی غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی

   

وقف ترمیمی بل کے خلاف قرارداد منظور کرنے کے معاملے میں حکومت ہمدردانہ غور کرے گی : ڈپٹی چیف منسٹر
حیدرآباد۔/27 مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں تصرف بل کی منظوری کے بعد اسپیکر اسمبلی بی پرساد کمار نے غیر معینہ مدت کیلئے اسمبلی کی کارروائی کو ملتوی کردیا۔ آج اسمبلی بجٹ سیشن کے آخری دن حکمران اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان گرما گرم مباحث ، چیلنج و جوابی چیلنج دیکھنے کو ملا ہے۔ 11 دن تک بجٹ اجلاس جاری رہا۔ 97 گھنٹے 32 منٹ تک ایوان کی کارروائی جاری رہی۔ بجٹ سیشن میں تین قراردادیں اور 12 بلز کو منظوری دی گئی۔ ڈپٹی چیف منسٹر و ریاستی وزیر فینانس ملو بھٹی وکرامارک نے وقف ترمیمی بل کے خلاف قرارداد منظور کرنے کے معاملے میں ہمدردانہ غور کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ پرانا شہر ہی اوریجنل شہر ہے اس کو ترقی دینے کے لئے کانگریس حکومت عہد کی پابند ہے۔ بھٹی وکرامارک نے کہا کہ بی آر ایس کے 10 سالہ دور حکومت میں پیش کردہ بجٹ میں خرچ نہ ہونے والے فنڈز کس کی جیب میں گئے ہیں استفسار کیا۔ انہوں نے کہا کہ 10 سال کے دوران بجٹ میں پیش کردہ 70 ہزار کروڑ روپئے خرچ نہیں کئے گئے وہ فنڈس کہاں گئے۔ تصرف بل کے مباحث میں جواب دیتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ کئی مسائل پر تبادلہ خیال ہوا ہے۔ بی آر ایس کی طرح ہم نے من مانی بجٹ پیش نہیں کیا بلکہ حقائق سے قریب بجٹ تیار کیا ہے۔ جتنا خرچ کرنا ہے اُتنا ہی بجٹ پیش کیا گیا ہے۔ 1,658 کروڑ روپئے گروہا جیوتی اسکیم پر خرچ کیا جارہا ہے۔ مہا لکشمی اسکیم کیلئے 3223 کروڑ روپئے آر ٹی سی کو دیا جارہا ہے۔14,375 کروڑ روپئے پاور سیکٹر پر خرچ کیا جارہا ہے۔ بی آر ایس کے دور حکومت میں 5 لاکھ سے کم زیر التواء بلز کو کانگریس حکومت نے کلیر کیا ہے۔ اس کے علاوہ بی آر ایس حکومت کے زیر التواء دیگر بقایا جات بھی ہم ادا کررہے ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر کی تقریر کے دوران ہریش راؤ اور کے ٹی آر نے مداخلت کی جس پر بھٹی وکرامارک نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کی طرح اتفاقی طور پر سیاست میں نہیں آیا۔ قانونی اداروں کو کبھی سیاسی مفادات کیلئے استعمال نہیں کیا۔ جاب کیلنڈر کی بنیاد پر تمام مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کرنے کا اعلان کیا ۔2