تعلیمی ادارے اور مخرب اخلاق حرکات

   

Ferty9 Clinic

پہلے کچھ لوگ فرشتے بھی ہوا کرتے تھے
اب تو سب ہوگئے شیطان یہ دیکھا تم نے
تعلیمی ادارے اور مخرب اخلاق حرکات
پنجاب میں چندی گڑھ یونیورسٹی میںایک انتہائی شرمناک واقعہ پیش آیا ۔ یہاں کچھ طالبات کا ایم ایم ایس منظر عام پر لا دیا گیا ہے ۔ اکثر و بیشتر تعلیمی اداروں میں آج کل ایسی سرگرمیاں شروع ہوگئی ہیں جو انتہائی مخرب اخلاق کہی جاسکتی ہیں۔ خاص طور پر ہاسٹل والے تعلیمی اداروں میں ایسی شرمناک حرکتیں چل رہی ہیں۔ ان حرکتوں کے نتیجہ میں تعلیمی اداروں کا تقدس پامال ہو رہا ہے ۔ جو طلبا و طالبات یہاں تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے آتے ہیں ان میں ایک طرح کا عدم اعتماد پیدا ہو رہا ہے ۔ ان میں خوف کی فضاء پیدا ہو رہی ہے ۔ خود چندی گڑھ یونیورسٹی میں کہا جا رہا ہے کہ طالبات کی جانب سے اب واش روم کے استعمال تک سے گریز کرنے کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ چندی گڑھ یونیورسٹی کی ایک طالبہ پر الزام ہے کہ اس نے کچھ طالبات کے ایم ایم ایس بناتے ہوئے انہیں وائرل کردیا ہے ۔ حالانکہ یہ دعوی بھی کیا جا رہا ہے کہ اس نے محض اپنا ویڈیو بنایا تھا اورا پنے بوائے فرینڈ کو روانہ کیا تھا تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ کئی لڑکیوں اور طالبات کے ویڈیو وائرل کئے گئے ہیں۔ اس طرح کی سرگرمیاں تعلیمی اداروں میں وقوع پذیر ہونا انتہائی شرمناک عمل ہے ۔ تعلیمی اداروں کا ایک تقدس ہے ۔ یہاں والدین اپنے بچوں اور بچیوں کو حصول تعلیم کیلئے اس یقین کے ساتھ روانہ کرتے ہیں یہاں انہیں نہ صرف تعلیم حاصل ہوگی بلکہ وہ اخلاقیات کا درس بھی حاصل کریں گے ۔ تاہم تعلیمی اداروں میں اس طرح کی مخرب اخلاق سرگرمیوں کا عروج قابل تشویش ہے ۔ پنجاب جیسی ریاست میںایسی سرگرمیوں کا عروج تشویشناک کہا جاسکتا ہے کیونکہ پنجاب ہی میںچند برس قبل منشیات کی تجارت اور استعمال بہت زیادہ ہوگیا تھا ۔ اس کے خلاف باضابطہ مہم چلائی گئی تھی اور عوام اور خاص طور پر نوجوانوں میںشعور بیدار کرنے کیلئے اقدامات کئے گئے تھے ۔ ایک تعلیمی ادارہ میں ہونے والے واقعات کا اثر دوسرے اداروں پر بھی مرتب ہوتا ہے اس لئے اس طرح کے واقعات کا جتنا جلد ممکن ہوسکے تدارک کرتے ہوئے نہ صرف ان اداروں کے تقدس کو بچانا چاہئے بلکہ نوجوانوں کا مستقبل بھی بچانے کی ضرورت ہے ۔
اکثر و بیشتر میڈیا کی رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ تعلیمی اداروں میں مخرب اخلاق سرگرمیاں بڑھتی جا رہی ہیں۔ کہیں خود اساتذہ کی جانب سے طالبات کے ساتھ جنسی استحصال کیا جاتا ہے تو کہیںسوشیل میڈیا کے ذریعہ انہیںہراساں کیا جاتا ہے ۔ کہیںطالبات کو ساتھی طلبا کی جانب سے اذیت رسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو کہیں انہیں کوئی اور لالچ دے کر استحصال کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ جہاں تک طلبا کا سوال ہے توا ن میں منشیات اور دیگر لعنتیں بھی عام ہوتی جا رہی ہیں۔ ان لعنتوں نے ملک کے نوجوانوں کے اخلاق پر انتہائی منفی اثرات مرتب کئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خواتین اور طالبات کے ساتھ زیادتی اور ان پر مظالم یا ان کے جنسی استحصال کے واقعات میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے ۔ ان واقعات سے سماج میں ایک طرح کی بے چینی پیدا ہونے لگی ہے ۔ جو نوجوان آج اس طرح کی صورتحال کا شکار ہونے لگے ہیں وہی ملک کا مستقبل کہے جاسکتے ہیں۔ اگرا ن طلبا میں اخلاقیات کا فقدان ہوگا اور وہی اس طرح کی بہیمانہ حرکتیں کرنے سے گریز نہیں کریں گے تو ساتھی اور کم عمر طلبا پر بھی اس کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہونگے ۔ طلبا برادری کو بھی اس طرح کے مسائل کا نوٹ لینے اور ان پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ یونیورسٹی اور کالجس کے طلبا حالات کو سمجھنے کے اہل ہوتے ہیں اور انہیں اپنے اور ساتھی طلبا کے مستقبل کو ذہن نشین رکھتے ہوئے ایسے واقعات کے تدارک کیلئے آگے آنے اور شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے ۔
چندی گڑھ یونیورسٹی کا واقعہ سارے ملک کے تعلیمی اداروں کیلئے شرمناک کہا جاسکتا ہے ۔ حکومت اور متعلقہ ایجنسیوں کی جانب سے اس کے خلاف کارروائی تو کی جا رہی ہے لیکن اس طرح کے واقعات کو وقوع پذیر ہونے سے روکنے پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ تعلیمی اداروں کے تقدس کا تحفظ کرنے کو اولین ترجیح دی جانی چاہئے ۔ جب تک طلبا و طالبات میں شعور بیدار نہیں کیا جاتا اور اس طرح کی حرکتوں کے منفی اثرات سے انہیںواقف نہیں کروایا جاتا اس وقت تک ان حالات کو پوری طرح سے روکنا ممکن نہیںہوگا ۔ حکومت اور غیر سرکاری تنظیموں اور طلبا برادری کو خاص طور پر اس میں اہم رول ادا کرنا ہوگا ۔