تاحال 67,87,210 لاکھ کتابیں اضلاع کو منتقل ، خانگی اسکولس کے کتابوں کی قیمت میں 54 فیصد کا اضافہ
حیدرآباد ۔ 23 ۔ جون : ( سیاست نیوز) : محکمہ تعلیم کے عہدیدار سرکاری اسکولس میں زیر تعلیم طلبہ میں نصابی کتب مفت تقسیم کرنے کی تیاریاں کررہے ہیں ۔ چہارشنبہ تک 67 لاکھ نصابی کتابیں اضلاع کو منتقل کردی گئی ہیں جو تقریبا 41 فیصد کے برابر ہیں جون کے اواخر تک 70 فیصد اور جولائی کے دوسرے ہفتہ تک صد فیصد نصابی کتابیں اضلاع کو روانہ کرنے کا نشانہ مختص کرتے ہوئے کام کیا جارہا ہے ۔ جاریہ تعلیمی سال اول تا دسویں جماعت تمام کلاسیس کی کتابیں QR کوڈ سے دستیاب ہوئی ہیں ۔ سرکاری اسکولس میں انگلش میڈیم کو متعارف کرنے کے پیش نظر پہلی جماعت میں مکمل انگریزی میڈیم ، سال دوم سے آٹھویں جماعت تک سیکنڈ لینگویج کتابیں ( تلگو ۔ انگریزی ) کی اشاعت کی گئی ہے ۔ آر ٹی سی کارگو کے ذریعہ ان نصابی کتابوں کو اضلاع منتقل کیا جارہا ہے ۔ تازہ طباعت شدہ نصابی کتابیں صرف سممٹیو اسیسمنٹ 1 ( ایس اے ۔ 1 ) کے لیے مفید ہیں ۔ ایس 2 کتابیں اگست اور ستمبر تک دستیاب ہوں گی ۔ سال دوم تا آٹھویں جماعت کے طلبہ کے لیے دو لسانی کتابوں کی طباعت سے وزن میں کمی ہوگی جس کے لیے انہیں دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ جس سے کتابوں کی تعداد کے ساتھ طباعت کے مصارف میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ گذشتہ سال 60 کروڑ روپئے کے مصارف تھے اس سال بڑھ کر 120 کروڑ روپئے ہوگئے ۔ اس سال سرکاری ٹیکسٹ بک پرنٹنگ کمپنی نے خانگی اسکولس کے طلبہ کو فروخت کرنے کیلئے 1.22 کروڑ کتابوں کی طباعت کی ہے ۔ جنہیں پیر سے مارکٹ میں دستیاب رکھا جائے گا ۔ محکمہ اسکولی تعلیم کی شناخت کردہ بک اسٹالس ، خیریت آباد منٹ کمپاونڈ میں بک پرنٹنگ کمپنی میں قائم کردہ کاونٹرس سے فروخت کی جائیں گی ۔ اس سال کتابوں کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں ۔ حکام نے بتایا کہ مجموعی طور پر قیمتوں میں 54 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔ کاغذ کی قیمتوں میں اضافہ سے کتابوں کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ تعلیمی سال 2022-23 میں طلبہ کی مجموعی تعداد 31,24,260 لاکھ ہے جنہیں 1,70,65,955 کروڑ کتابوں کی ضرورت ہے ۔ گذشتہ سال کے 3,35,605 کتابیں موجود ہیں ۔ 1,67,30,350 نئے کتب کی ضرورت ہے ۔ تاحال 67,87,210 کتابیں اضلاع کو روانہ کردی گئی ۔ مزید 99,43,140 لاکھ کتابوں کی ضرورت ہے ۔۔ن