ملک بھر میں مختلف ریاستوں کی بی جے پی حکومتوں کی جانب سے شعبہ تعلیم کو نشانہ بنانے کا سلسلہ مرکز میں مودی حکومت کی پہلی معیاد ہی سے شروع ہوگیا تھا ۔ خاص طور پر یونیورسٹیز کے نصاب کو ٹارگٹ کرتے ہوئے اس میں من گھڑت باتیں شامل کرنے اور تعلیم کو ایک مخصوص رنگ دینے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ حالانکہ یہ کوششیں گذشتہ آٹھ سال سے جاری ہیں لیکن اب اس کو ایسا لگتا ہے کہ ایک قدم آگے بڑھایا جا رہا ہے ۔ خاص طور پر بی جے پی کے اقتدار والی جنوبی ہند کی ریاست کرناٹک میں فرقہ وارانہ جنون کو انتہاء کو پہونچایا جا رہا ہے ۔ ہر نزاعی اور اختلافی مسئلہ کو ہوا دیتے ہوئے حکومت کی ناکامیوں اور اور غیرموثر حکمرانی سے عوام کی توجہ ہٹائی جا رہی ہے ۔ سارا ملک اس حقیقت سے واقف ہے کہ ملک کی جدوجہد آزادی میں کن قائدین نے اپنی قربانیاں پیش کی تھیں اور کن قائدین نے انگریزی سامراج کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے تا عمر ان کی غلامی کو قبول کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ اب کرناٹک میں ایسا لگتا ہے کہ شعبہ تعلیم بری طرح سے متاثر ہوگیا ہے ۔ ایک تو وہاں کرپشن اور بدعنوانیاں عروج پر پہونچ گئی ہیں۔ ریاست کے 13 ہزار اسکولس نے خود کرپشن کی شکایت کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کو مکتوب روانہ کیا ہے ۔ اس کے بعد تعلیمی نصاب میں ساورکر سے متعلق مضمون شامل کردیا گیا ہے اور حد تو یہ ہوگئی کہ نصابی کتب میں یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ ساورکر جیل میں جس سیل میں رکھے گئے تھے وہاں ایک معمولی سا سوراْخ بھی نہیں تھا لیکن پرندے ان کی کوٹھری میں آتے تھے اور ساورکر پرندوں پر سواری کرتے ہوئے جیل کے باہر نکلا کرتے تھے ۔ اپنے شہر جایا کرتے تھے ۔ یہ تعلیم اور طلباء کے مستقبل کے ساتھ انتہائی بھونڈا اور غلط مذاق ہے ۔ یہ تاریخ کو مسخ کرنے کی اب تک کی سب سے مذموم کوشش ہے ۔ ساتھ ہی خود اس مضمون میں تضاد ہے ۔ جب جیل کی کوٹھری میں ایک باریک سا سوراخ تک نہیں تھا تو پرندے کس طرح سے اندر آیا کرتے تھے اور پرندوں پر کس طرح سے کوئی انسان سواری کرسکتا ہے ۔ احمقانہ باتوں سے تعلیم کو متاثر کیا جا رہا ہے ۔
مرکز اور ملک کی بیشتر ریاستوں میں جب سے بی جے پی کو اقتدار حاصل ہوا ہے اس وقت سے ہی تاریخ سے کھلواڑ اور اسے مسخ کرنے کی کوششیں شدت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ تعلیم کے شعبہ کو ان افراد کے ہاتھوں میں سونپا جا رہا ہے جو مذہبی جنون کا شکار ہیں۔ وہ حقیقت پسندی اور تاریخ کا جائزہ لینے کی بجائے من گھڑت قصے کہانیوں کے ذریعہ تعلیمی نصاب کی تیاری کرنا چاہتے ہیں۔ وہ تعلیم کو بھگوا رنگ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ تعلیمی شعبہ کے تقدس اور اس کی اہمیت کو پامال کرتے جا رہے ہیں۔ وہ ملک کے نوجوانوں اور طلبا کے مستقبل سے کھلواڑ کر رہے ہیں۔ ہندوستان نے ایسے بے مثال طلبا دنیا کے سامنے پیش کئے ہیں کہ دنیا کی بیشتر بڑی کمپنیوں کے سی ای اوز ہندوستانی ہیں۔ ان کمپنیوں میں سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں ہندوستانی نوجوان اپنی تعلیمی قابلیت کا لوہا منوا رہے ہیں۔ انفارمیشن ٹکنالوجی کے شعبہ میں دنیا بھر میں ہندوستان اپنی اہمیت اور قیادت کو اجاگر کرتا جا رہا ہے ۔ یہ محض اس لئے ہوا ہے کیونکہ تعلیم کے شعبہ کے ساتھ کوئی کھلواڑ نہیں ہوا تھا ۔ تعلیمی نصاب کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہیں کیا گیا تھا ۔ طلبا کے ذہنوں کو پراگندہ کرنے کی سازشیں نہیں کی گئی تھیں۔ ان کے ذہنوں میں فرقہ پرستی کا زہر نہیں گھولا گیا تھا ۔ تعلیم کے شعبہ کو حقیقی معنوں میں تاریخی حقائق کے ساتھ مزین کیا گیا تھا جس کے نتیجہ میں ہمارے طلبا نے اس سے استفادہ کیا اور آج وہ ساری دنیا میں ہندوستان کا نام روشن کرنے میں کامیاب ہوتے جا رہے ہیں۔
جس طرح کی انہونی اور احمقانہ باتوں کو اب نصابی کتب میں شامل کیا جا رہا ہے وہ ملک کے تعلیمی نظام ہی کو متاثر کرنے کا خطرہ پیدا کرتا ہے ۔ اس طرح کی فرقہ پرستانہ سوچ کے ذریعہ تعلیمی نظام کو متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ یہ محض نظریات کی بات نہیں ہے بلکہ یہ نوجوانوں اور خود ملک کے مستقبل کا مسئلہ ہے ۔ اس معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہئے ۔ جن احمقوں نے یہ قصہ نصابی کتب میں درج کیا ہے ان کی ذہنی حالت کا معائنہ کیا جانا چاہئے یا پھر اگر کسی سازش کے تحت کیا گیا ہے تو اس کا پتہ چلاتے ہوئے بھی اسے منظر عام پر لانا چاہئے تاکہ ہمارے نوجوانوںکو دنیا میں سبکی کا سامنا کرنے کی نوب نہ آنے پائے ۔
