تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر مند ہونا ضروری ، ڈسپلن کامیابی کی کلید : عامر علی خاں

   

مرحوم منیجنگ ایڈیٹر سیاست ظہیر الدین علی خاں کی برسی پر طلباء میں بیاگس کی تقسیم،ظہیر صاحب کے مشن کو جاری رکھنے افتخار حسین کا عزم
حیدرآباد ۔ 19۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : علم ایک ایسا ہتھیار ہے جس کے ذریعہ نہ صرف ترقی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں بلکہ تعلیم یافتہ قوموں کی دنیا بھر میں عزت کی جاتی ہے ۔ ان کا احترام کیا جاتا ہے ۔ موجودہ حالات میں آپ صرف ڈگریوں پر اکتفا نہیں کرسکتے بلکہ تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر بھی بہت ضروری ہے ۔ اگر ہمارے بچے تعلیم کے ساتھ ہنر مند بھی ہوجائیں تو یہ سونے پر سہاگہ ہوگا ۔ ان خیالات کا اظہار نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں نے سیاست آڈیٹوریم میں منعقدہ ایک پر اثر تقریب میں کیا ۔ جس کا اہتمام فیض عام ٹرسٹ اور ظہیر الدین علی خاں میموریل اکیڈیمی نے مشترکہ طور پر مرحوم منیجنگ ایڈیٹر سیاست جناب ظہیر الدین علی خاں کی تیسری برسی کے ضمن میں کیا تھا ۔ جس میں 250 سے زائد مستحق طلباء وطالبات میں اسکول بیاگس کی تقسیم عمل میں لائی گئی ۔ ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں نے بطور خاص شرکت کی جب کہ نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں مہمان خصوصی تھے ۔ جناب عامر علی خاں نے اپنا سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے فرزندان و دختران ملت کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی زندگیوں میں ٹائم مینجمنٹ پر خصوصی توجہ مرکوز کریں ۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو آپ لوگوں میں ڈسپلن پیدا ہوگا ۔ ہمارے دین میں وقت کی قدر کا بار بار حکم دیا گیا اور پابندی سے پنجوقتہ نمازیں ادا کرنے کا حکم دیا گیا اور یہ حکم اس لیے دیا گیا تاکہ آپ میں وقت کی پابندی یا ڈسپلن پیدا ہو ۔ آج کارپوریٹ دنیا میں ٹائم مینجمنٹ کو بہت زیادہ اہمیت دی جارہی ہے ۔ جناب عامر علی خاں کے مطابق اب وقت بدل رہا ہے ۔ دنیا میں تبدیلیاں آرہی ہیں ۔ یہ GEN-Z کا دور ہے نوجوان نسل کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان لوگوں نے تعلیمی شعبہ میں بدعنوانیوں اور نیٹ پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے مرکزی وزیر تعلیم کو استعفیٰ دینے پر مجبور کردیا ۔ جناب عامر علی خاں نے مزید کہا کہ ملت کو تعلیمی اور روزگار کے شعبوں میں آگے بڑھاکر ہی ہم جناب ظہیر الدین علی خاں کو حقیقی خراج عقیدت پیش کرسکتے ہیں ۔ شہر کے ممتاز معالج ڈاکٹر مخدوم محی الدین صدر ظہیر الدین علی خاں میموریل اکیڈیمی نے خیر مقدمی تقریر کی ۔ انہوں نے ظہیر صاحب مرحوم کی ملی و قومی خدمات کو غیر معمولی انداز میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ظہیر صاحب مرحوم کو زندگی بھر ملت کی فکر دامن گیر رہا کرتی تھی وہ دکھاوے و نمود و نمائش اور ریاکاری سے ہمیشہ خود کو دور رکھ کر صرف ملی مفاد کو ترجیح دیا کرتے ہیں ۔ ماہر تعلیم و منیجنگ ٹرسٹی ہیلپنگ ہینڈس ڈاکٹر شوکت علی مرزا نے اپنے دانشورانہ خطاب میں مرحوم منیجنگ ایڈیٹر سیاست کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں جہاں کہیں فسادات ، آفات سماوی اور کویڈ 19 جیسی عالمی وباء نے بدترین شکل اختیار کی ظہیر صاحب بلاخوف و خطر متاثرین کی مدد کے لیے نہ صرف خود نکل پڑتے بلکہ اپنے ساتھیوں کو بھی متاثرین کی مدد کی ترغیب دیتے ۔ بے شک ظہیر صاحب اس دارفانی سے کوچ کر گئے لیکن ان کی سوچ ان کی فکر اور خدمت ملت کا ان کا جذبہ زندہ ہے اور جناب عامر علی خاں اور افتخار حسین جیسی شخصیتیں ان کے مشن کو آگے بڑھا رہی ہیں ۔ ٹرسٹی فیض عام ٹرسٹ و ہیلپنگ ہینڈس جناب رضوان حیدر نے اپنی مختصر لیکن متاثر کن خطاب میں کہا کہ ظہیر صاحب مرحوم جیسی شخصیتیں بہت کم آتی ہیں لیکن وہ کارنامہ انجام دے کر رخصت ہوتی ہیں جو بڑے بڑے ادارے بھی انجام دینے سے قاصر ہوتے ہیں ۔ ایڈیٹر صدائے حسینی سید جعفر حسین نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ سکریٹری فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین جس انداز میں کارخیر کرتے ہیں وہ ہم سب کے لیے مثال ہے ۔ انہوں نے ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں ، نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں ، ڈاکٹر شوکت علی مرزا ، ڈاکٹر مخدوم محی الدین ، سید حیدر علی ، علی حیدر عامر کے بارے میں کہا کہ یہ مفکرین ملت کے اثاثے ہیں اور نوجوان نسل کو ان حضرات سے بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے ۔ اس موقع پر جناب تقی الدین شجیع ، ڈاکٹر عبدالوحید ، ایم اے محی الدین ، پروفیسر انور خاں ، نواب مصطفی ، قاری صدیق حسین ، محمد طیبی شبیر میڈیکل ہال و دیگر موجود تھے ۔ محمد ریاض احمد نے کارروائی چلائی ۔ سکریٹری فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین نے شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے اپنے جذباتی خطاب میں ظہیر صاحب مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ظہیر صاحب اگرچہ اس دنیا فانی میں نہیں رہے لیکن وہ مظلوم و کمزور مسلمانوں ، یتیم و یسیر بچوں ، مستحق طلباء و طالبات اور ضرورت مندوں کی دعاؤں میں ہیں ۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ظہیر صاحب مرحوم کے فرزندان اصغر علی خاں اور فخر علی خاں اپنے والد کے نقش قدم پر چل کر ملت کی خدمت انجام دیں گے ۔۔ m/b