عوامی مسائل پر اپوزیشن کی حکمت عملی، دلت بندھو اور دیگر اُمور پر مباحث کا امکان
حیدرآباد۔/26 ستمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی اور کونسل کا اجلاس کل 27 ستمبر کو دوبارہ شروع ہوگا۔ جمعہ کو اجلاس کے پہلے دن سابق ارکان مقننہ کو خراج عقیدت پیش کر کے اجلاس ملتوی کردیا گیا تھا۔ دو دن تعطیلات کے بعد دونوں ایوانوں کا پیر سے آغاز ہوگا اور توقع ہے کہ یہ مختصر اجلاس ہنگامہ خیز ثابت ہوگا۔ حکومت نے دلت بندھو، کسانوں کے مسائل ، آبپاشی پراجکٹس اور دیگر اُمور پر مباحث کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اپوزیشن نے مختلف عوامی مسائل پر حکومت کو گھیرنے کی تیاری کرلی ہے۔ اسمبلی میں کانگریس اور بی جے پی کی جانب سے حکومت کو احتجاج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جبکہ کونسل میں کانگریس کے واحد رکن جیون ریڈی ہیں جو تنہا زیادہ اثر انداز نہیں ہوسکتے۔ کانگریس اور بی جے پی نے اپنے علحدہ اجلاسوں میں اسمبلی کی حکمت عملی کو قطعیت دی ہے۔ بی اے سی اجلاس میں بی جے پی کو مدعو نہیں کیا گیا جس کے خلاف بی جے پی ارکان پیر کی صبح اسمبلی کے احاطہ میں مجسمہ گاندھی کے قریب علامتی احتجاج کریں گے اور اس مسئلہ کو اسمبلی میں بھی پیش کیا جائے گا۔ حضورآباد کے ضمنی چناؤ کے پس منظر میں 5 اکٹوبر تک اسمبلی اجلاس ہنگامہ خیز ثابت ہوسکتا ہے۔ بزنس اڈوائزری کمیٹی نے 7 ایام کار کو قطعیت دی ہے۔ ایجنڈہ کے مطابق دونوں ایوانوں میں وقفہ سوالات سے کارروائی کا آغاز ہوگا جس کے بعد زیرو اوور اور پھر کسی ایک عوامی مسئلہ پر مباحث ہوں گے۔ حکومت نے بعض آرڈیننس کو بل کی شکل میں منظوری کا فیصلہ کیا ہے۔ کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے اجلاس میں عوامی مسائل کو قطعیت دی گئی ہے اور جنرل سکریٹری انچارج مانکیم ٹیگور نے ارکان اسمبلی کو ہدایت دی کہ وہ متحدہ طور پر عوامی مسائل کو پیش کریں تاکہ حکومت عوام کو راحت دینے پر مجبور ہوجائے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نئی دہلی کے دو روزہ دورہ کے بعد رات میں حیدرآباد واپس ہوگئے اور وہ پیر کو اسمبلی اجلاس میں شریک ہوں گے۔ر