تلنگانہ اسمبلی بجٹ سیشن کا آغاز… جھلکیاں

   

حیدرآباد۔/23جولائی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کا بجٹ اجلاس صبح 11 بجے شروع ہوا اور تمام پارٹیوں کے ارکان اپنی اپنی پارٹی کے رنگ میں دکھائی دیئے۔ اجلاس کے آغاز سے قبل ہی بی آر ایس اور کانگریس کے بعض ارکان ایوان میں پہنچ چکے تھے اور وہ سیاسی اختلافات کو فراموش کرتے ہوئے ایک دوسرے سے خیرسگالی ملاقات کررہے تھے۔ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر ارکان نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی۔
l اسپیکر جی پرساد کمار کے ایوان میں پہنچتے ہی قومی ترانہ پڑھا گیا اور تمام ارکان قومی ترانہ کے احترام میں اپنی نشستوں سے اُٹھ کھڑے ہوگئے۔
l کانگریس کے ارکان اپنے گلے میں پارٹی کا کھنڈوا ڈالے ہوئے تھے جبکہ بی آر ایس ارکان نے اپنی پارٹی کا گلابی کھنڈوا ڈالے رکھا تھا۔ مجلس کے ارکان شیروانی میں ملبوس تھے جبکہ بی جے پی اور سی پی آئی ارکان نے اپنی اپنی پارٹی کا کھنڈوا گلے میں ڈال رکھا تھا۔ عام طور پر اجلاس کے پہلے دن ارکان اپنی اپنی پارٹی کے رنگ میں دکھائی دیتے ہیں۔
l تعزیتی قرارداد کے ایجنڈہ کے باعث ایوان میں ارکان کی تعداد کم دیکھی گئی۔ کانگریس اور بی آر ایس کے کئی ارکان ایوان سے غیر حاضر تھے۔
l حالیہ عرصہ میں بی آر ایس سے کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے والے 10 ارکان اسمبلی میں سے صرف 4 اجلاس میں شریک ہوئے۔ سابق اسپیکر پوچارم سرینواس ریڈی، سابق وزیر کے سری ہری، جی مہیپال ریڈی اور کے یادیا کو کانگریس کی صفوں میں دیکھا گیا۔ ان ارکان کے گلے میں کسی بھی پارٹی کا کھنڈوا نہیں تھا۔ بی آر ایس کے بعض ارکان کو منحرف ارکان سے ملاقات کرتے ہوئے دیکھا گیا لیکن منحرف ارکان نے کے ٹی آر اور ہریش راؤ کا سامنا نہیں کیا۔
l تعزیتی قرارداد پر تقاریر اور اس کی منظوری کا مرحلہ 50 منٹ میں مکمل کرلیا گیا اور 11 بجکر 55 منٹ پر ایوان کی کارروائی چہارشنبہ تک ملتوی کردی گئی۔ اسپیکر جی پرساد کمار نے گریٹر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ارکان کو اظہار خیال کا موقع دیا کیونکہ نندیتا سائنا کا تعلق کنٹونمنٹ اسمبلی حلقہ سے ہے اور بیشتر ارکان ان کے والد جی سائنا سے قریب رہ چکے ہیں۔
l بی آر ایس کے سربراہ اور اپوزیشن لیڈر کے سی آر کی شرکت کے بارے میں ارکان کو امید تھی لیکن اجلاس کے پہلے دن وہ شریک نہیں ہوئے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق کے سی آر اسمبلی میں بجٹ کی پیشکشی کے دن شرکت کریں گے۔
l بجٹ سیشن کے پہلے دن اسمبلی کے اطراف وسیع تر سیکوریٹی انتظامات کئے گئے تھے۔ اسمبلی کے باہر کسی بھی امکانی احتجاج سے نمٹنے کیلئے پولیس کے زائد دستوں کو تعینات کیا گیا تھا۔ پولیس نے ارکان اسمبلی اور اسمبلی کے عہدیداروں کی گاڑیوں کی تلاشی لی اور پاسیس کے بغیر داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔
l بی آر ایس کے ارکان اسمبلی نے کے ٹی آر اور ہریش راؤ کی قیادت میں اسمبلی پہنچنے سے قبل اسمبلی کے روبرو گن پارک میں واقع شہیدان تلنگانہ کی یادگار پر گُلہائے عقیدت پیش کئے ۔ شہیدان تلنگانہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے بعد بی آر ایس کے ارکان ایوان اسمبلی میں داخل ہوئے۔1