تلنگانہ ‘ اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس

   

دیکھوں تو کہاں تک ہے مرا صبرِ محبت
تو شوق سے اب عشقِ جفا اور بڑھادے
تلنگانہ ریاست میں وقفہ وقفہ سے فرقہ وارانہ نوعیت کے واقعات پیش آرہے ہیں اور ان کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ہے ۔ کہیں اشرار کی جانب سے ہنگامہ آرائی کی جا رہی ہے تو کہیں حکومت کی جانب سے ایسے اقدامات کئے جا رہے ہیں جن کے نتیجہ میں اقلیتوں میں بے چینی کی کیفیت پیدا ہو رہی ہے اور ان میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہونے لگا ہے ۔ کچھ واقعات ایسے ہوئے ہیں جہاں اقلیتوں کو نشانہ بنایا گیا ‘ ان کی جائیداد و املاک کو نشانہ بناتے ہوئے توڑ پھوڑ کی گئی ‘ ان کی معیشت کو نقصان پہونچایا گیا اس کے باوجود پولیس کی جانب سے اقلیتوں ہی کو مورد الزام ٹہراتے ہوئے ان کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ گذشتہ چند دنوں میں کئی واقعات پیش آئے ہیں۔ شیواجی جینتی کے موقع پر شہر اور مضافاتی علاقوں میں ریلیاں منظم کرتے ہوئے شرانگیزی کی گئی ۔ مساجد کے روبرو بڑی آواز سے موسیقی چلائی گئی ۔ اعتراض کرنے پر ہنگامہ آرائی کی گئی ۔ معمولی باتوں کو طول دیتے ہوئے بڑے مسائل پیدا کرنے کی منظم کوششیں کی جا رہی ہیں اور اشرار کھلے عام اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ شیواجی جینتی کے موقع پر پیش آئے واقعات کے بعد کاماریڈی کے شہر بانسواڑہ میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوگئی ۔ وہاں بھی اقلیتوں کی دوکانات اور ان کی ٹھیلہ بنڈیوں کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا گیا ۔ مسلمانوں کے چھوٹے موٹے کاروبار ختم کرنے کی کوشش کی گئی ۔ اس کے علاوہ راجنا سرسلہ ضلع کے ویملواڑہ ٹاؤن میں ایک مندر کو توسیع دینے اور اس کی تزئین کے نام پر ایک درگاہ کو شہید کردیا گیا ۔ درگاہ حضرت سید تاج الدین خواجہ باگ سوار ؒ کو مکمل شہید کرتے ہوئے منتقلی کا نام دینے کی کوشش کی گئی ۔ ضلع کلکٹر اور رکن اسمبلی نے عذر پیش کیا کہ متولی سے اجازت نامہ حاصل کیا گیا تھا ۔ متولی درگاہ کے امور کا نگران ہوتا ہے اور روز مرہ کے کاموں کو انجام دیتا ہے وہ درگاہ کا مالک نہیں ہوتا اور متولی کو اس بات کا کوئی اختیار نہیں ہوتا کہ وہ درگاہ کو شہید کرکے منتقلی کی اجازت دے ۔ اس طرح کے اجازت نامہ کا کوئی جواز نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اس کی کوئی قانونی اہمیت ہوتی ہے ۔ تاہم درگاہ کو شہید کردیا گیا ۔
اس طرح کے واقعات ریاست میں کانگریس حکومت کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں۔ ایسے واقعات کے نتیجہ میں ریاست کی اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمانوں میں بے چینی کی کیفیت پیدا ہونے لگی ہے اور وہ خود کو غیر محفوظ تصور کرنے لگے ہیں۔ ایسے واقعات کے ذریعہ ریاست کے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ماحول کو متاثر کیا جا رہا ہے اور حالات کو مزید بگاڑنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔ تلنگانہ ملک کی سب سے نئی اور نوجوان ریاست ہے ۔ یہاں ترقی کو تیز رفتاری سے آگے بڑھانا ہے اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ کرنا ہے تو پھر فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور لا اینڈ آرڈر کی صورتحال کو بہتر بنانا ضروری ہے ۔ حکومت کی جانب سے فیوچر سٹی قائم کرنے کی بات کی جا رہی ہے ۔بیرونی کمپنیاں وہاں قائم کرنے کا منصوبہ ہے تاہم اگر فرقہ وارانہ منافرت کو عروج حاصل ہوتاہے تو حکومت کے یہ منصوبے دھرے کے دھرے رہ جائیں گے اور ریاست کی ترقی کے امکانات متاثر ہونگے ۔ اس کے علاوہ اقلیتوں میں یکا و تنہا ہونے کا احساس بھی پیدا ہوسکتا ہے اور یہ صورتحال حکومت اور اس کے استحکام کیلئے اچھی نہیں کہی جاسکتی ۔ حکومت کو یہ احساس کرنے کی ضرورت ہے کہ اس کو اقتدار دلانے میں ریاست کی اقلیتوں نے سب سے اہم اور مرکزی رول ادا کیا ہے ۔ اس کے باوجود اگر اقلیتوں کو ترقی کے معاملہ اور ان کی مذہبی سلامتی اور مذہبی اداروں کے تحفظ کے معاملے میں انہیں مایوسی ہوتی ہے تو یہ حکومت کیلئے فکر اور تشویش کا باعث ہی ہوسکتا ہے ۔
جو واقعات فی الحال ریاست کے مختلف شہروں اور مقامات پر پیش آر ہے ہیں ان کی نوعیت حالانکہ معمولی ہے تاہم ان واقعات پر ابھی سے کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے ۔ اقلیتوں کا اعتماد بحال کرنے کے اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے مقامات کا تحفظ کیا جانا چاہئے اور کسی بھی فرقہ میں عدم اطمینان پیدا ہونے کا موقع نہیں دیا جانا چاہئے ۔ اقلیتوں سے انصاف کیلئے حکومت کو توجہ دینے کی ضرورت ہوگی ۔ اقلیتوں کے اعتماد کے بغیر ریاست کی ترقی کو یقینی نہیں بنایا جاسکتا ۔ حکومت کے استحکام کیلئے بھی اقلیتوں میں اعتماد سازی اور ان میں طمانیت کا احساس پیدا کرنا ضروری ہے ۔