تلنگانہ انکاؤنٹر کی عدالتی تحقیقات کرانے سپریم کورٹ کا حکم

   

4نعشوں کو تاحکم ثانی محفوظ رکھنے اورکمیشن کو سی آر پی ایف سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت

حیدرآباد 12 ڈسمبر (سیاست نیوز) سپریم کورٹ نے سابق سپریم کورٹ جج وی ایس سرپورکر زیرقیادت 3 رکنی تحقیقاتی کمیشن مقرر کیا ہے جو تلنگانہ میں ایک ویٹرنری ڈاکٹر کی اجتماعی عصمت ریزی اور قتل کے سلسلہ میں 4 ملزمین کی پولیس انکاؤنٹر میں ہلاکت کی وجوہات کا پتہ چلانے کی تحقیقات کرے گا۔ کمیشن میں بامبے ہائیکورٹ کے سابق جج ریکھا سوندور بلڈوٹا اور سابق سی بی آئی ڈائرکٹر ڈی آر کارتیکن بھی شامل ہیں۔ یہ کمیشن 6 ماہ کے اندر اپنی رپورٹ سپریم کورٹ کو پیش کرے گا۔ چیف جسٹس ایس اے بوبڈے پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنچ نے تلنگانہ ہائیکورٹ میں زیرالتواء کارروائیوں اور قومی انسانی حقوق کمیشن کی تحقیقات پر حکم التواء دیا ہے اور اِس کیس میں ایس آئی ٹی سے رپورٹ طلب کی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ تاحکم ثانی کمیشن آف انکوائری کے سامنے زیرالتواء معاملوں میں دوسری کوئی اتھاریٹی تحقیقات کرنے کی مجاز نہیں ہوگی۔

اِس بنچ میں جسٹس ایس اے نذیر اور جسٹس سنجے کھنہ بھی شامل ہیں۔ بنچ نے حکم دیا کہ 3 رکنی کمیشن کی سکیورٹی سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی جانب سے فراہم کی جانی چاہئے۔ عدالت العالیہ نے کہاکہ اِس کیس کی تحقیقات کی رپورٹ داخل کرنے کے لئے 6 ماہ کی رپورٹ دی گئی ہے اور اِن 6 ماہ کی مدت پہلی سماعت سے شروع ہوگی۔ 6 ڈسمبر کے انکاؤنٹر میں ہونے والی تحقیقات کروانے کے لئے کمیشن آف انکوائری ایکٹ کے تحت ہی تمام اختیارات حاصل ہوں گے۔ بنچ نے اِس بات کی نشاندہی کی کہ اِس انکاؤنٹر کے تعلق سے درست حقائق کا پردہ فاش کرنے سے متعلق متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔ بنچ نے حکومت تلنگانہ کی پیروی کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ مکل روہتگی کی جانب سے داخل کردہ رپورٹ کا بھی جائزہ لیا ہے کہ ریاستی پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار کی زیرقیادت ایک ٹیم بھی اِس کیس کی تحقیقات کررہی ہے جو پولیس کے کمیشن کی سطح پر کام کررہے ہیں، اپنی رپورٹ پیش کرے گا۔ بنچ نے کہاکہ ایس آئی ٹی بھی اِن 4 افراد کی موت کی وجوہات کا پتہ چلارہی ہے۔ اگر سی آئی ٹی نے تحقیقات کئے ہیں اور مردہ شخص کے بارے میں معلومات حاصل کی ہیں تو اِس کے ذریعہ انھیں سزا نہیں دی جاسکتی۔ بنچ میں اِس بات پر بھی غور کیا گیا کہ میڈیا کو کمیشن کے سامنے ہونے والی کارروائی کی خبرنگاری سے روک دیا جائے اور تحقیقات کے بارے میں کسی بھی قسم کا تبصرہ نہ کیا جائے۔ اِس مسئلہ پر غور کے بعد پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) اور پریس کونسل آف انڈیا کو نوٹسیں جاری کی گئی ہیں جو ملک میں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی نمائندگی کرتے ہیں اور اِس نوٹ کا جواب اندرون 4 ہفتے داخل کرنا ہے۔ بنچ نے کہاکہ انکوائری کمیشن کو اِن تمام باتوں کی تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے کہ آیا حیدرآباد میں 6 ڈسمبر کی صبح ایسے کیا حالات رونما ہوئے جس کی وجہ سے 4 افراد کو ہلاک کیا گیا تھا۔