تلنگانہ اور حیدرآباد میں پیش آئے مسلم دشمن واقعات کا تفصیلی تذکرہ

   

عالمی سطح پر مذہبی آزادی سے متعلق امریکہ کی رپورٹ
شان رسالت ﷺ میں گستاخی ‘ مساجد کی شہادت ‘ عبادتگاہ میں مورتی رکھنے جیسے واقعات کا احاطہ ۔ مجلس و ایم بی ٹی کے احتجاج کا بھی حوالہ
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔16۔ مئی ۔آئندہ ماہ وزیر اعظم نریند مودی کے دورۂ امریکہ سے قبل منظر عام پر آئی ’عالمی مذہبی آزادی رپورٹ 2022‘ میں ہندستان میں جاری مذہبی تشدد اور اقلیتوں کے ساتھ متعصبانہ رویہ کے ساتھ ہندوتوادہشت گردی کے متعدد واقعات کو پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں تلنگانہ بالخصوص شہر حیدرآباد کا8 مرتبہ تذکرہ کیا گیا ہے اورشان رسالتﷺ میں گستاخی‘ مسلمانوں کی مذہبی عبادتگاہوں کو نشانہ بنانے‘ ان کی شہادت ‘ سماجی کارکنوں کی اہانت‘ مسجد کی اراضی پر مورتی رکھنے کی کوشش کے علاوہ دلت نوجوان کے قتل کا واقعہ بھی شامل کیا گیا ہے۔ تلنگانہ میں مذہبی تشدد کے واقعات میں شہر کے نواحی علاقہ میں شمس آباد کی مسجد کی رات دیر گئے شہادت اور اطراف علاقوں کو تاریک کرکے کی گئی کاروائی کا تذکرہ کیا گیا ہے اور مجلس اتحادالمسلمین کے علاوہ مجلس بچاؤ تحریک کے احتجاج کا حوالہ دیا گیا۔ اس عالمی رپورٹ میں ترجمان مجلس بچاؤ تحریک جناب امجد اللہ خان کے حوالہ سے شائع اخباری اطلاعات کو تذکرہ کرکے کہا گیا کہ تلنگانہ راشٹرسمیتی کے اقتدار میں آنے کے بعد ریاست میں اس مسجد کے منجملہ 6مساجد کو شہید کیا جاچکا ہے۔شمس آباد میں مسجد کی شہادت کے واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا کہ اکثریتی طبقہ کی شکایات ملنے کے بعد حکومت کی جانب سے کاروائی کرکے مسجد کو شہید کیا گیا تھاجس کی عوامی احتجاج اور متعدد نمائندگیوں بشمول مجلس اتحادالمسلمین کی خواہش پر اسی جگہ تعمیر کی اجازت دے دی گئی ہے۔ حکومت امریکہ کی رپورٹ میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی تلنگانہ میں تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے مسلم تحفظات کے خاتمہ کا تذکرہ بھی موجود ہے اور کہا گیا کہ امیت شاہ نے حیدرآباد کے قریب جلسہ میں تلنگانہ میں موجود تعلیم اور ملازمتوں میں مسلم تحفظات کا خاتمہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ریاستی حکومت سے تلنگانہ اسمبلی میں ایس سی ‘ ایس ٹی کے علاوہ مسلم تحفظات میں اضافہ کی قرارداد کا تذکرہ کیا گیا واضح رہے کہ حکومت نے ایس سی اور ایس ٹی طبقات کے تحفظات میں اضافہ کیلئے آرڈیننس کی اجرائی کے ذریعہ اس پر عمل آوری شروع کردی ہے جبکہ مسلم تحفظات میں اضافہ کا معاملہ زیر التواء ہے۔ اسی طرح معطل بی جے پی رکن اسمبلی راجہ سنگھ نے جو شان رسالتﷺ میں گستاخی کی تھی اس کا تذکرہ رپورٹ میں کرکے اس کی تفصیلات پیش کی گئی اور پولیس کارروائی کے علاوہ نوجوانوں کے احتجاج کا تذکرہ موجود ہے۔ علاوہ ازیں ان پر پی ڈی ایکٹ کے تحت کارروائی کی تفصیلات کے ساتھ رپورٹ میں تلنگانہ ہائی کورٹ کی جانب سے پی ڈی ایکٹ برخواست کرنے کی تفصیل درج کی گئی ہیں۔ راجہ سنگھ کی پی ڈی ایکٹ میں گرفتاری اور رہائی کے بعد پابندیوں کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔ شہر کے نواحی علاقہ رائے درگ میں قطب شاہی مسجد میں مورتی کی تنصیب کارپورٹ میں تذکرہ کرکے کہا گیا کہ ہندو طبقہ کے گروپس نے انہیں اراضی کو مندر کیلئے حکومت کی جانب سے مختص کئے جانے کا دعویٰ کرکے مندر بنانے کی کوششوں کا آغاز کیا تھا لیکن متعلقہ مسجد کے متولی کی شکایت کے بعد حکام نے مورتی کو ہٹادیا ۔اکٹوبر 2022 میں پیش آئے واقعہ کا بھی رپورٹ میں تفصیلی تذکرہ ہے۔ شہر کے کرمن گھاٹ علاقہ میں گائے منتقلی کے نام پر فساد کی کوشش اور ہنگامہ آرائی کا واقعہ جو کہ 22 فروری 2022 کو پیش آیا تھا اس کی تفصیلات امریکی رپورٹ میں موجود ہے۔گذشتہ برس مسلم خواتین بالخصوص سماجی جہدکاروں کو آن لائن سوشل میڈیا پر ان کی تصاویر اور ناموں کا استعمال کرکے ’پلی بائی اور سلی ڈیل‘ کے نام سے ان کی تذلیل کی کوشش کا بھی اس رپورٹ میں تذکرہ کیا گیا ہے اور حیدرآباد کی سماجی جہدکار محترمہ خالدہ پروین کی شکایت اور اس پر کاروائی کا بھی تفصیلی تذکرہ کیا گیا ہے۔شہر کے نواحی علاقہ میں دلت نوجوان کے قتل کے واقعہ کا بھی تذکرہ کیا گیا جس میں الزام عائد کیا گیا کہ نوجوان کو اس کے سسرالی رشتہ داروں نے جو دوسرے مذہب سے تعلق رکھتے ہیں نے قتل کیا ۔ امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی اس رپورٹ میں ہندستان میں پیش آنے والے مذہبی تشدد کے واقعات اور مذہبی آزادی کو گزند پہنچانے والے واقعات تفصیلی تذکرہ موجود ہے۔