تلنگانہ بجٹ ‘ اقلیتوں کو پھر مایوسی

   

Ferty9 Clinic

بجلیوں سے بات کرسکتے ہیں ہم
اک اچٹتی سی نظر کا کیا جواب
تلنگانہ اسمبلی میں وزیر فینانس ٹی ہریش راؤ نے آج بجٹ پیش کردیا ۔ بجٹ 2022-23 میں کئی اسکیمات اور اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے ۔ یہ بجٹ 2 لاکھ 56 ہزار 958 کروڑ روپئے پر مشتمل ہے جس میںسماج کے تمام طبقات کیلئے اور ان کی فلاح و بہبود کی اسکیمات کیلئے اقدامات اور رقم مختص کرنے کا اعلان شامل ہے ۔ تاہم ایک بار پھر ٹی آر ایس حکومت نے اقلیتوں کو اس بجٹ کے ذریعہ مایوس ہی کیا ہے ۔ اقلیتوں کیلئے کسی نئی اسکیم کا اعلان نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی سابقہ معلنہ اسکیمات کو آگے بڑھانے کے کوئی اعلانات کئے گئے ہیں۔ حکومت نے اقلیتی بہبود کیلئے صرف 200 کروڑ روپئے کا معمولی اضافہ کرتے ہوئے اس بجٹ کو 1728 کروڑ روپئے کردیا ہے ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اقلیتی بہبود کیلئے رقم مختص کرنے کا وزیر فینانس کی بجٹ تقریر میں کوئی تذکرہ تک نہیں کیا گیا ۔ بجٹ میں رقم مختص کرنے کا تاہم بجٹ دستاویز میں تذکرہ ہے ۔ وزیر فینانس نے ایوان میں اپنی تقریر کے دوران اس کا تذکرہ کرنے سے گریز ہی کیا ہے ۔ ریاستی حکومت کی جانب سے بارہا اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے دعوے کئے جاتے ہیںاور یہ کہا جاتا ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اقلیتوں اور مسلمانوں کی ترقی اور بہتری کیلئے انتہائی سنجیدہ ہیں ۔ اس سنجیدگی کا عالم یہ ہے کہ اقلیتی بہبود کیلئے جو رقم مختص کی گئی ہے اس کا وزیر فینانس کی تقریر میں کوئی تذکرہ نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ کوئی نئی فلاحی اسکیم یا پروگرام اقلیتوں کیلئے شروع نہیں کیا گیا ہے ۔سابقہ اور ٹی آر ایس کے اہم ترین پروگرامس اور اسکیمات کا بھی اس بار کے بجٹ میں کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا ہے ۔ حکومت صرف یہ کہتی ہے کہ گذشتہ سات برسوں میں اقلیتوں کیلئے 6644 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ہیں ۔ یہ رقم دوسرے طبقات کے مقابلہ میں انتہائی کم اور معمولی ہے جبکہ اقلیتوں کی آبادی دوسرے طبقات سے زیادہ ہے ۔ حکومت کے اعداد و شمار کا ہی تجزیہ کیا جائے تو اقلیتوں کیلئے سالانہ 1000 کروڑ روپئے کی رقم بھی خرچ نہیں کی گئی جبکہ دلت بندھو اسکیم کیلئے اس سال کے بجٹ میں 17 ہزار کروڑ روپئے مختص کرنے کا اعلان کیا گیا ہے ۔
ٹی آر ایس حکومت کی جانب سے اقلیتوں کو بارہا تیقنات دئے گئے کہ ان کیلئے جامع ترقی کے منصوبے پیش کئے جائیں گے لیکن ایسا کچھ نہیں کیا گیا ۔ اقلیتوں کیلئے بھی سب پلان پیش کرنے کا تذکرہ بھی بجٹ سے غائب ہے ۔ اس کے علاوہ اسلامک کلچرل سنٹر کے وعدہ کو بھی بجٹ میں کوئی جگہ نہیں مل سکی ہے ۔ اجمیر شریف میں تلنگانہ کے زائرین کیلئے رباط تعمیر کرنے کے بلند بانگ دعووں کو بھی بجٹ میں فراموش کردیا گیا ہے ۔ اسی طرح سب سے اہم 12 فیصد مسلم تحفظات کے وعدہ کو بھی فراموش کردیا گیا ہے ۔ ماضی میں اس وعدہ کا کم از کم بجٹ میں تذکرہ ضرور ہوا کرتا تھا لیکن اس بار تحفظات کے وعدہ کا تذکرہ بھی غائب کردیا گیا ہے ۔ وزیر فینانس نے اپنی بجٹ تقریر میں کلیان لکشمی اور شادی مبارک اسکیمات کیلئے رقم مختص کرنے کا اعلان ضرور کیا ہے لیکن اس میں یہ وضاحت بالکل ندارد ہے کہ کلیان لکشمی کیلئے کتنی رقم ہوگی اور شادی مبارک اسکیم کیلئے رقم کتنی مختص کی جا رہی ہے ۔ حکومت کی جانب سے بجٹ میں اس بار اقلیتوں کیلئے خاطر خواہ اضافہ کی توقع کی جا رہی تھی کیونکہ تلنگانہ کے قیام کے آٹھ سال بعد بھی ریاست میں اقلیتوں کی حالت میں کوئی سدھار نہیں آیا ہے اور مسلمان و دیگر اقلیتیں مسائل کا شکار ہی ہیں۔ تمام توقعات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حکومت نے اقلیتوں کو اپنے بجٹ کے ذریعہ ایک بار پھر مایوس ہی کیا ہے اور اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے تعلق سے اپنی عدم سنجیدگی کا اظہار کیا ہے ۔ عمومی تجزیہ سے کم از کم یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے ۔
ٹی آر ایس حکومت اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے سنجیدگی کا دعوی کرتی ہے ۔ ریاست کی معاشی حالت بھی دوسری ریاستوں سے بہتر ہونے کے دعوے کرتی ہے ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ریاست کی جملہ گھریلو پیداوار قومی اوسط سے بھی زیادہ ہے ۔ ان سب کے باوجود اقلیتوں کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ ٹی آر ایس حکومت سے اقلیتوں نے جو توقعات وابستہ کی تھیں اس بجٹ کے ذریعہ ان کو پورا نہیں کیا گیا ہے ۔ حکومت تقریبا تمام طبقات کیلئے فراخدلانہ بجٹ فراہم کر رہی ہے اور اس کا بجٹ تقریر میں بھی تذکرہ کیا گیا ہے لیکن اقلیتوں کے معاملے میں حکومت نے ہاتھ کھینچ لیا ہے ۔ اس سے حکومت کی سنجیدگی پر سوال پیدا ہوتے ہیں۔