تلنگانہ بجٹ گمراہ کن اور حقیقی صورتحال سے عاری

   

حکومت نے اقلیتوں کو دھوکہ دیا، سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر کا الزام
حیدرآباد: سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے تلنگانہ اسمبلی میں پیش کردہ بجٹ برائے 2021-22 ء کو گمراہ کن اور حقیقی صورتحال سے بعید قرار دیا۔ وزیر فینانس ہریش راؤ نے امیدوں اور توقعات پر مبنی بجٹ کہا جس کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں ۔ بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ بجٹ میں تلنگانہ کی حقیقی معاشی صورتحال کی ترجمانی نہیں کی گئی ہے۔ ٹی آر ایس حکومت نے خسارہ کے باوجو د2.32 لاکھ کروڑ خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جو مضحکہ خیز ہے جبکہ ریاست کو آمدنی کا خسارہ 1.20 لاکھ کروڑ ہے۔ 2018-19 اور 2019-20 ء کے درمیان ٹیکسوں سے آمدنی علی الترتیب 83234 اور 83585 کروڑ ہوئی تھی جبکہ ریاستی حکومت اس مرتبہ 106900 کروڑ کی توقع رکھتی ہے۔ انہوںنے کہا اکہ نان ٹیکس ریونیو میں بھی کوئی غیر معمولی اضافہ نہیں ہوا۔ باوجود اس کے حکومت نے بھاری بجٹ تیار کیا۔ بجٹ کے اعداد شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ٹی آر ایس حکومت عام آدمی پر بوجھ عائد کرنے کی تیاری کر رہی ہے ۔ 2021-22 ء کے درمیان عوام پر 30225 کروڑ کے ٹیکسس عائد کئے جائیں گے ۔ حکومت نے 38669.46 کروڑ کی گرانٹ ان ایڈ کے انتظام کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی ہے۔ حکومت مختلف اداروں سے مزید 49300 کروڑ قرض حاصل کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ بجٹ کی تیاری میں حقیقت پسندی کو پیش نظر رکھیں۔ بھاری خرچ کے حصول سے ریاست کی ترقی متاثر ہوگی کیونکہ آمدنی کا زیادہ حصہ قرض کی ادائیگی اور سود میں نکل جائے گا ۔ حکومت قرض کی ادائیگی کیلئے سالانہ 10 ہزار کروڑ خرچ کر رہی ہے ۔ ڈبل بیڈروم مکانات کے بارے میں وزیر فینانس نے اعتراف کیا کہ حیدرآباد میں ایک لاکھ مکانات کی تعمیر کا وعدہ پورا نہیں ہوا۔ بلدی انتخابات سے قبل کے ٹی آر اور سرینواس یادو نے ایک لاکھ مکانات کی تعمیر کا دعویٰ کیا تھا جبکہ وزیر فینانس نے بجٹ میں 52456 مکانات کی تکمیل کا دعویٰ کیا جو شہری اور دیہی علاقوں میں ہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ بجٹ میں حیدرآباد سے ناانصافی کی گئی ہے ۔ ایک بھی نئی ترقیاتی اسکیم کا اعلان نہیں کیا گیا اور حیدرآباد میٹرو ریل کے لئے 1000 کروڑ حکومت کے بقایہ جات ہیں۔ بجٹ میں پرانے شہر میں میٹرو ریل کی توسیع کا کوئی تذکرہ نہیں ہے جبکہ وہ املی بن تا فلک نما ٹرین کا وعدہ کیا تھا لیکن بجٹ میں ایک پیسہ مختص نہیں کیا گیا۔ ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی اور اقلیت کے بجٹ میں کوئی غیر معمولی اضافہ نہیں ہوا۔ ٹی آر ایس حکومت نے اقلیتوں کے ساتھ دھوکہ کیا ہے ۔ کسی سال بھی اقلیتی بہبود کا بجٹ 50 فیصد سے زیادہ خرچ نہیں ہوا ۔ بجٹ میں 1602 کروڑ مختص کئے گئے جبکہ 2018-19 ء میں 1973 کروڑ مختص کئے گئے تھے ، بعد میں انہیں گھٹاکر 1344 کروڑ کیا گیا۔ حکومت نے کسی بھی سال 50 فیصد بجٹ خرچ نہیں کیا ہے ۔ گزشتہ 6 برسوں میں اقلیتی بہبود پر 9070 کروڑ میں سے 5712 کروڑ خرچ کئے گئے۔ انہوں نے خرچ نہ ہونے والے بجٹ کو آئندہ سال کے بجٹ میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ا قلیتوں اور دیگر طبقات کیلئے مختص کردہ مکمل بجٹ خرچ کیا جائے ۔