مقام فیضؔ کوئی راہ میں بچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے
تلنگانہ میں بلدیاتی انتخابی نتائج کا اعلان ہوگیا ہے ۔ جس طرح دعوے کئے جا ہے تھے کانگیس پارٹی نے ان انتخابات میں اپنی سبقت بنائے رکھی ہے ۔ ریاست کے تقریبا تمام اضلاع میں برسر اقتدار کانگریس پارٹی کو شاندار کامیابی حاصل ہوئی ہے اور اس نے کئی بلدیات پر قبضہ جما لیا ہے ۔ پارٹی کو پانچ کارپوریشنوں میں بھی اقتدار حاصل ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ ان بلدیاتی انتخابات کیلئے زور و شور کے ساتھ انتخابی مہم چلائی گئی تھی ۔ تقریبا تمام سیاسی ماعتوں نے ان انتخابات کیلئے ساری طاقت جھونک دی تھی اور مہم چلاتے ہوئے رائے دہندوں کو راغب کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی تھی ۔ بلدیاتی انتخابات میں اسمبلی یا لوک سبھا انتخابات کی طرح مقابلہ کیا گیا تھا اور عوام کو رجھانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی تھی ۔ ہر ہتھکنڈہ اختیار کرتے ہوئے عوام کو متوجہ کرنے کی کوششیں ہوئی تھیں۔ اب جبکہ نتائج کا اعلان ہوگیا ہے تو ان میں کانگریس پاٹی نے دوسری تمام جماعتوںکو پیچھے چھوڑتے ہوئے شاندار کامیابی درج کروائی ہے ۔ اس کامیبای کو ریاستی حکومت کی کارکردگی پر عوامی سند بھی کہا جا رہا ہے ۔ ریاستی وزراء اور پارٹی قائدین کا یہ دعوی ہے کہ ریاست کے عوام نے حکومت کی پالیسیوں اور پروگراموں کو منظوری دی ہے اور اپوزیشن جماعتوں خاص طور پر بی آر ایس اور بی جے پی کے پروپگنڈہ اور ان کی تنقیدوں کو مسترد کردیا ہے ۔ ان انتخابی نتائج کی اس لئے بھی اہمیت ہے کیونکہ خود چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے پارٹی امیدواروں کے حق میں مہم چلائی تھی اور اضلاع کے دورے کئے تھے ۔ وزراء کو بھی اپنے اپنے اضلاع کی دمہ داری سونپی گئی تھی اور وہاں انہوں نے بھی اچھی مہم چلا کر رائے دہندوں کو رجھانے کے اقدامات کئے ۔ کانگریس کی صفوں میں اس کامیابی کے بعد کارکنوں اور کیڈر کے حوصلے مزید بلند ہوئے ہیں اور وہ اب اپوزیشن جماعتوں کو مزید شدت سے نشانہ بنانے کے موقف میں دکھائی دے رہے ہیں۔ کہا جا ہا ہے کہ ان نتائج کے بعد حکومت اب اپنی کارکردگی کو بہتر اور موثر بنانے پ توجہ کرے گی تاکہ عوام نے جو توقعات وابستہ کی ہیں انہیں پورا کیا جاسکے ۔
جہاں تک بی آر ایس کا سوال ہے تو یہ حقیقت ہے کہ بی آر ایس کی مقبولیت کا گراف قدرے کم ہوا ہے ۔ اسے سابق کے مقابلہ میں کم نشستیں حاصل ہوئی ہیں اور میونسپلٹیز کی تعداد بھی کم ہے جہاں اسے کامیابی ملی ہے ۔ بی آر ایس کی جانب سے کے ٹی راما راؤ اور ٹی ہریش راؤ نے حالانکہ انتخابی مہم میں جان پیدا کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی تھی تاہم پارٹی کو وہ نتائج نہیں مل سکے جس کی اسے شدید ضرورت تھی ۔ حالانکہ بی آر ایس کانگریس سے بہت زیادہ پیچھے نہیں ہے تاہم دیہی علاقوں میں اسے خود کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے ۔ یہ بات بھی محسوس کی جا رہی ہے کہ بی آر ایس سربراہ کے چندر شیکھر راؤ کی عوامی حلقوں سے دوری کا انتخابی نتائج پر اثر ہوا ہے اور پارٹی کی صفوں میں یہ احساس پیدا ہونے لگا ہے کہ پارٹی کو مستحکم کرنے اور نچلی سطح سے دوبارہ مستحکم کرنے کیلئے کے سی آر کو ایک بار پھر عوامی سطح پر سرگرم ہونے کی ضرورت ہوگی ۔ بی آر ایس کے نتائج کا جائزہ لینے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس کے امیدوار بھی سینکڑوں کی تعداد میں منتخب ہوئے ہیں تاہم وہ کسی ایک میونسپلٹی یا کارپوریشن میں مستحکم انداز میں خودکو منوا نہیں پائی ہے ۔ الگ الگ بلدیات میں اسے کامیابی ملی ہے تاہم چند نشستوں کے فرق سے اسے بلدیات پر کنٹرول یا قبضہ ملنے سے رہ گیا ہے ۔ تاہم یہ کمی قطعی نتائج اور ریاست کی سیاسی صورتحال پر ضرور اثر انداز ہوگی اور اس کا اندازہ خود بی آر ایس کو بھی ہونا چاہئے اور شائد ہو بھی رہا ہے ۔ اس کا پارٹی کو جائزہ لینا چاہئے ۔
جہاں تک کانگریس کی کامیابی کا سوال ہے تو اسے کامیابی تو ضرور ملی ہے تاہم اس کی ذمہ داری میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔ کانگریس حکومت کو اپنے انتخابی وعدوں کی تکمیل پر توجہ کرنے کی ضرورت ہوگی ۔ ریاست میں ترقیاتی کاموں پر خاص طور پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے ۔ انتظامیہ کو مستحکم اور موثر بناتے ہوئے حکمرانی کا احساس دلانے کی ضرورت ہے ۔ عوام کی توقعات کو پورا کرنے کی ضرورت ہے ۔ عوامی موڈ کو مستقل نہیں سمجھا جاسکتا اور انتخابی سیاست میں عوامی موڈ بدلتے دیر نہیں لگتی اور اس بات کا کانگریس پارٹی اور ریاستی حکومت کو احساس کرنا چاہئے تاکہ جو عوامی تائید اسے حاصل ہوئی ہے اسے برقرار رکھا جاسکے ۔
آسام پر بی جے پی کی توجہ
ملک کی سرحدی ریاست آسام میں جاریہ سال اسمبلی اتخابات ہونے والے ہیں اور بی جے پی نے دوسری ریاستوں کی طرح اس پر بھی توجہ مرکوز کردی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے آج آسام کا دورہ کیا ۔ وہاں انہوں نے کئی ترقیاتی پراجیکٹس کا سنگ بنیاد رکھا اور عوام سے خطاب کیا ۔ حسب روایت کانگریس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے دور حکومت میں ریاست میں عوام خوف کے عالم میں زندگی گذار رہے تھے اور کانگریس نے آسام کو ترقی سے محروم رکھا ۔ آسام میں بھی بی جے پی نے اپنے اقتدار کا ایک دہا مکمل کرلیا ہے ۔ دو معیادوں سے بی جے پی کی حکومت ہے اس کے باوجود اپنی حکومت کی کارکردگی کا حساب پیش کرنے کی بجائے وزیر اعظم نے پرانی روش کو برقرار رکھتے ہوئے کانگریس پر تنقید کی ہے ۔ اپنی پارٹی کی کارکردگی عوام کے سامنے پیش کرنے سے حسب روایت گریز کیا گیا ہے ۔ یہ تو ابھی آغاز ہے اور جیسے جیسے انتخابات کا وقت قریب آتا جائے گا ویسے ویسے کئی ہتھکنڈے اختیار کئے جائیں گے ۔ آسام کے عوام کو اس معاملے میں چوکس رہنے اور سیاسی عقل و بصیرت کا مظاہرہ کرنے اور حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔