مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی ملک کی جس کسی ریاست میں اپنے وجود کو منوانے کی کوشش کرتی ہے وہاں اپنے کارنامے یا دوسری ریاستوں کی اسکیمات یا مرکزی حکومت کے ترقیاتی کاموں اور منفرد پروگراموں کو پیش کرنے کی بجائے ہندوتوا کا سہارا لیتی ہے ۔ بی جے پی کیلئے ہندوتوا آزمودہ طریقہ کار ہوگیا ہے اور جہاںکہیںاسے انتخابات میںکامیابی حاصل کرنی ہوگی ہے وہ جارحانہ تیوار اختیار کرتے ہوئے ماحول کو پراگندہ کرنے سے گریز نہیںکرتی ۔ ماضی میں بھی ایسی کوششوں کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ خاص طور پر مغربی بنگال میں جہاں بی جے پی نے اقتدار حاصل کرنے اور ممتابنرجی کی ترنمول کانگریس کو شکست سے دوچار کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا تھا وہاں بھی جارحانہ ہندوتوا تیور اختیار کئے گئے تھے ۔ وہاں بھی رام کا نام استعمال کیا گیا تھا اور ہندوتوا مسائل کو پیش کرنے کی کوشش کی گئی تھی ۔ تاہم سارے بنگال میں درگا پوجا عام ہے ایسے میں بی جے پی کا ہندوتوا وہاں کارآمد ثابت نہیں ہوا اور ترنمول کانگریس کو پہلے سے زیادہ تعداد میں نشستیں حاصل ہوئیں۔ بی جے پی اب جنوب میں تلنگانہ پر نشانہ لگائے ہوئے ہے۔ کرناٹک میں کسی نہ کسی طرح چور دروازے سے اقتدار حاصل کرنے کے بعد بی جے پی نے تلنگانہ کیلئے اپنے عزائم واضح کردئے ہیں۔ بی جے پی ریاست میں تلنگانہ راشٹرا سمیتی کو اقتدار سے بیدخل کرتے ہوئے خود کامیاب ہونا چاہتی ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ بی جے پی کو ٹی آر ایس نے ماضی میں ہر مشکل وقت میںساتھ دیا تھا ۔ کبھی راست یا کبھی بالواسطہ طور پر بی جے پی کی مدد کی گئی تھی ۔ تاہم بی جے پی کو دو اسمبلی حلقوں کے ضمنی انتخابات میں جب سے کامیابی ملی ہے اس کے تیور بدل گئے ہیں اور وہ ریاست میں جارحانہ ہندوتوا کی پالیسی اختیار کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ پارٹی نے اپنے طور پر یہ منصوبے بھی بنالئے ہیں کہ اسے کس موقع پر کونسا مسئلہ اٹھانا ہے ۔ ابھی جو حالات ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی اپنے سیاسی عزائم کی تکمیل کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتی ہے اور ریاست کے ماحول کو بگاڑنے کی کوششوں سے بھی اجتناب نہیں کیا جائیگا ۔
حالیہ عرصہ میں محسوس کیا گیا کہ بی جے پی نے نزاعی اور اختلافی مسائل کو ہوا دینی شروع کی ہے ۔ بی جے پی کے قائدین انتہائی اشتعال انگیز بیان بازیوں پر اتر آئے ہیں۔ خاص طور پر ریاستی صدر بنڈی سنجے بھی اب شمال کے قائدین کی طرح زہر افشانی پر اتر آئے ہیں۔ وہ مسلمانوں اور مساجد کو نشانہ بنانے کی باتیں کرنے لگے ہیں۔ دوسرے قائدین کی جانب سے بھی ٹی آر ایس کے خلاف تنقیدوں میں تیزی اور شدت پیدا کردی گئی ہے ۔ بی جے پی وقفہ وقفہ سے اپنے مرکزی قائدین کو ریاست کے دورہ پر روانہ کر رہی ہے ۔ کئی مرکزی وزراء بھی مسلسل ریاست کا دورہ کرنے لگے ہیں۔ اب آئندہ مہینے کے بالکل اوائل میں بی جے پی کی قومی عاملہ کا اجلاس بھی حیدرآباد میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔و زیر اعظم نریندر مودی ‘ وزیر داخلہ امیت شاہ اور کئی ریاستوں کے چیف منسٹرس اس اجلاس میںشرکت کرنے والے ہیں۔ اجلاس کا حیدرآباد میں انعقاد بھی سیاسی مقاصد پر مبنی ہے اور یہ اندیشے ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ اس اجلاس کے شرکاء بھی شر انگیزی اور اشتعال انگیزی سے باز نہیں آئیں گے ۔ بی جے پی کے جو جارحانہ ہندوتوا کے تیور ہیں وہ ریاست کیلئے نقص امن کا خطرہ بن سکتے ہیں۔ تلنگانہ ملک کی سب سے نئی ریاست ہے اور یہاں ترقیاتی اقدامات کئے جار ہے ہیں ۔تاہم سیاسی مقصد براری کیلئے بی جے پی حالات کو بگاڑنے سے گریز نہیں کرے گی اور اس کے اشارے بھی ابھی سے ملنے شروع ہوگئے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست کے عوام اس صورتحال کو سمجھیں۔ ریاست کے ماحول کو بگاڑنے کی کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے چوکس رہیں۔ سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کی تکمیل کرکے اقتدار کے مزے لوٹنے میں مصروف ہوجائیں گی تاہم ریاست کے عوام کو اس کے عواقب کا سامنا کرنا پڑیگا ۔ ریاست کے عوام چاہے جس پارٹی کو ووٹ دیں یہ ان کی اپنی مرضی اور اختیار ہے لیکن عوام کو ان طاقتوں سے باخبر اور چوکس رہنے کی ضرورت ہے جو اپنے سیاسی فائدہ کیلئے ریاست کا ماحول بگاڑ سکتے ہیں۔ ایسی طاقتوں کو ناکام بنانا ریاست کے عوام کی ذمہ داری ہے اور سازشوں کو کامیاب ہونے کا موقع نہیں دیا جانا چاہئے ۔
