گذشتہ پارلیمانی انتخابات میں لوک سبھا کی چار نشستوں سے کامیابی حاصل کرنے اور پھر ضمنی انتخابات میں دو حلقوں سے جیت درج کرنے کے بعد تلنگانہ میں بی جے پی کے عزائم اور حوصلے بلند ہوگئے ہیں۔ بی جے پی ریاست میں اقتدار حاصل کرنے کا خواب دیکھ رہی ہے اور اس نے یہاں اپنے توسیعی منصوبوں پر عمل کرنا شروع کردیا ہے ۔ بی جے پی کسی بھی موقع کو گنوائے بغیر ہر مسئلہ پر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ اس کے قائدین کی جانب سے مسلسل اشتعال انگیز بیان بازیوں کے ذریعہ تشہیر حاصل کی جا رہی ہے ۔ اپنے ارکان پارلیمنٹ ‘ ارکان اسمبلی یا پارٹی قائدین کے ذریعہ بی جے پی حکومت کو مسلسل نشانہ بناتے ہوئے مشتعل کر رہی ہے ۔ بی جے پی کے مرکزی قائدین بھی ریاست کے دورے کرتے ہوئے ٹی آر ایس اور اس کے سربراہ کے چندر شیکھر راؤ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ریاستی حکومت کی مختلف اسکیمات کا خود بی جے پی سے تعلق رکھنے والے مرکزی وزراء نے خیر مقدم کیا ہے اور انہیں قابل تقلید بھی قرار دیا ہے لیکن حالیہ عرصہ میں ریاستی قائدین کی جانب سے حکومت کو تنقیدوں کا نشانہ بنانے کا سلسلہ شدت اختیار کرگیا ہے ۔ بی جے پی کے قائدین ایک جامع اور منظم منصوبہ کے تحت حکومت کو گھیرنے میں مصروف ہیں۔ حکومت کو اور ٹی آر ایس کے قائدین کو اشتعال دلاتے ہوئے باہمی الزامات و جوابی الزامات میں پھانس رہے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ ٹی آر ایس کے قائدین بھی اس جھانسے میں آتے جا رہے ہیں۔ ہر ہر الزام کا جواب دیتے ہوئے اور ہر ہر تنقید پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ٹی آر ایس قائدین کی جانب سے بھی بی جے پی کو تشہیر کا اور عوام میں موضوع بحث بننے کا بالواسطہ طور پر موقع فراہم کیا جا رہا ہے ۔ بی جے پی بھی یہی چاہتی ہے کہ اسے موضوع بحث بننے کا موقع ملتا رہے اور عوام اس تعلق سے تبادلہ خیال کرتے رہیں۔ بی جے پی کو صرف تشہیر سے مطلب ہے ۔ منفی تشہیر بھی اس کیلئے فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے یا پارٹی اپنے کارکنوں کے ذریعہ اس منفی تشہیر کو اپنے لئے سیاسی فائدہ میں تبدیل کرنے کی حکمت عملی رکھتی ہے ۔
ملک میں کئی مثالیں موجود ہیں جہاں بی جے پی نے منفی تشہیر سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کی کوشش کی ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ اسے کچھ مواقع پر کامیابی ملی ہے اور کچھ مواقع پر ناکامی بھی ہاتھ آئی ہے ۔ لیکن یہی ایک ایسی حکمت عملی ہے جس کے ذریعہ تشہیر ضرور مل جاتی ہے اور اس کو عوام کی نبض کے مطابق اپنے حق میں ڈھالنے کے منصوبے بی جے پی کے پاس بہت ہیں۔ مرکزی حکومت اور اعلی قیادت کی تائید حاصل کرتے ہوئے ریاستی قائدین ہر موقع پر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش میں جٹ گئے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ عوام میں بی جے پی کا چرچہ ہوتا رہے ۔ اس کے منصوبوں اور پروگراموں میں یہ بات بھی شامل ہے کہ عوام اس کے تعلق سے تبصرے کرتے رہیں۔ وہ ٹی آر ایس کو بھی اسی جال میں پھانس رہی ہے ۔ یہ درست ہے کہ سیاسی اعتبار سے ٹی آر ایس کیلئے ضروری ہے کہ وہ بی جے پی کی بیجا تنقیدوں کا جواب دے اور حقائق کو عوام کے سامنے پیش کرے لیکن بی جے پی کو اتنی اہمیت یا تشہیر دینے سے گریز کرنا چاہئے تاکہ بی جے پی کو خود ٹی آر ایس کیلئے خطرہ بننے کا موقع ملنے نہ پائے ۔ بی جے پی کی حکمت عملی کو ناکام بنانے کیلئے ضروری ہے کہ ٹی آر ایس بھی جوابی وار کیلئے کوئی موثر ذریعہ اختیار کرے تاہم ایسا کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھا جانا چاہئے کہ بی جے پی کو عوام میں موضوع بحث بنے رہنے کا بھی موقع نہ ملے ۔ ایسے ہی مواقع کو وہ اپنے لئے سیاسی فائدہ میں تبدیل کرنا چاہتی ہے ۔
بی جے پی نے بنگال میں اسی طرح کی حکمت عملی اختیار کی تھی ۔ اب جبکہ آئندہ دو ماہ میں انتخابات ہونے والے ہیں تو اترپردیش اور دوسری ریاستوں میں بھی ایسے ہی حربے اختیار کئے جا رہے ہیں۔ ایسے میںجبکہ تلنگانہ میں بھی اسمبلی انتخابات کیلئے دو سال سے کچھ کم وقت رہ گیا ہے بی جے پی نے اپنے منصوبوں پر ابھی سے عمل کرنا شروع کردیا ہے ۔ ٹی آر ایس کیلئے ضروری ہے کہ وہ بی جے پی کے منصوبوں اور اس کے جھانسوں کو کامیاب ہونے نہ دے بلکہ اسے اس کے حقیقی مقام تک محدود رکھے ۔ اس کو منفی تشہیر کے ذریعہ یا شعبدہ بازی کے ذریعہ عوام کے درمیان موضوع بحث بننے کے مواقع فراہم نہ کئے جائیں۔
