مرکزی حکومت کے موقف اور اقدامات کا جائزہ ، مرکز کی مختلف سیاسی جماعتوں سے مشاورت
حیدرآباد۔25جولائی (سیاست نیوز) مرکزی حکومت کی جانب سے پارلیمانی اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات یکساں منعقد کرنے کے سلسلہ میں دوبارہ بحث چھیڑے جانے کے ساتھ ہی کہا جا رہاہے کہ ریاست میں برسراقتدار تلنگانہ راشٹر سمیتی کی سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ ہوچکا ہے اور حکومت مرکزی حکومت کے موقف اور اقدامات کا جائزہ لینے لگی ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے سال 2019 سے قبل شروع کی گئی ’’ ایک ملک ایک انتخابات‘‘ تحریک پر سیاسی جماعتوں کی رائے حاصل کرنے کے اقدامات کے دوران تلنگانہ راشٹر سمیتی نے حامی بھرتے ہوئے تحریری طورپر 2019 سے ہی اسمبلی و پارلیمنٹ کے انتخابات یکساں منعقد کرنے کی حمایت کی تھی لیکن اس مکتوب کی روانگی کے اندرون دو ماہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے ریاست میں اسمبلی تحلیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے پارلیمانی انتخابات سے قبل تلنگانہ اسمبلی انتخابات کی راہ ہموار کی تھی ۔ بی جے پی کے سرکردہ قائدین کی جانب سے ایک ملک ایک انتخابات کے سلسلہ میں بحث چھیڑے جانے کے متعلق آگہی حاصل کرنے کی کوششوں کے دوران اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ مرکزی حکومت سیاسی جماعتو ںکی جو رائے حاصل کی گئی تھی اس کی بنیاد پر الیکشن کمیشن آف انڈیا سے اس بات کی گذارش کرسکتی ہے کہ یکساں انتخابات کے سلسلہ میں فیصلہ کیا جائے۔ بتایاجاتا ہے کہ جاریہ سال کے اواخر سے آئندہ سال کے اواخر تک جن ریاستوں میں اسمبلی انتخابات منعقد ہونے ہیں اور پارلیمانی انتخابات کے ساتھ جن ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات منعقد ہونے ہیں ان کا جائزہ لیا شروع کیا جا چکا ہے اور حکومت کی جانب سے انتخابی اصلاحات کے ذریعہ یکساں انتخابات کے متعلق اقدامات کو یقینی بنانے کی کوشش کی جار ہی ہے۔ مرکزی حکومت کی ان کوششوں کی سابق میں تائید کرنے والی تلنگانہ راشٹرسمیتی جو کہ گذشتہ عام انتخابات سے قبل ریاستی اسمبلی کے انتخابات کو یقینی بنا چکی ہے کہا جا رہاہے کہ اس مرتبہ بھی عام انتخابات کے ساتھ ریاستی اسمبلی کے انتخابات منعقد نہ ہوں اس بات کی کوشش کرسکتی ہے ۔ بتایاجاتا ہے کہ اگر مرکزی حکومت کی جانب سے انتخابی اصلاحات کے ذریعہ ملک میں یکساں انتخابات کے انعقاد کے سلسلہ میں ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات میں تاخیر یا عجلت کی ضرورت محسوس ہوتی ہے تو ایسی صورت میں مرکزی حکومت مرکزی الیکشن کمیشن کو اعتماد میں لیتے ہوئے سخت اقدامات بھی کرسکتی ہے اسی لئے ریاستی حکومت تلنگانہ کی جانب سے تمام قائدین اور عہدیدارو ںکو چوکسی اختیار کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مرکزی حکومت کے ایسے کسی بھی فیصلہ سے قبل ریاست میں انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لئے تیار رہیں۔ذرائع کے مطابق گذشتہ دو یوم سے ملک میں یکساں انتخابات کے سلسلہ میں دہلی میں جاری سرگرمیوں اور بی جے پی قائدین کے درمیان مذاکرات نے ملک کی علاقائی سیاسی جماعتوں کے قائدین کو متحرک کردیا ہے اور جنوبی ہند کی تلگو ریاستوں آندھراپردیش و تلنگانہ میں بھی برسراقتدار سیاسی جماعتو ںکے ذمہ دارو ں نے سیاسی ماہرین سے مشاورت کا عمل شروع کردیا ہے اور اپنے قریبی رفقاء کو اس با ت کا مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ کسی بھی وقت انتخابات کے لئے تیار رہیں۔بتایاجاتا ہے کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے عاجلانہ یا وسط مدتی انتخابات کے متعلق کی جا رہی منصوبہ بندی پر مرکزی حکومت کی بھی گہری نظر ہے اور مرکز نے اپنے پارٹی قائدین کو انتخابات کے لئے تیار رہنے کے علاوہ عوام کے درمیان میں رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات دستور کے مطابق اسمبلی کی تحلیل کے اندرون 6ماہ کیا جانا چاہئے اور چیف منسٹر تلنگانہ کی عاجلانہ انتخابات کی حکمت عملی بھی یہی ہے لیکن اچانک مرکزی حکومت کی جانب سے یکساں انتخابات کے سلسلہ میں بحث چھیڑے جانے کے بعد تلنگانہ راشٹر سمیتی کی حکمت عملی تبدیل کئے جانے کے امکانات پائے جا رہے ہیں کیونکہ اگر ریاستی حکومت کی جانب سے اسمبلی تحلیل کرنے میں تاخیر کی جاتی ہے اور عام انتخابات و اسمبلی انتخابات میں طویل مدت کا فرق نہ رہنے کی صورت میں یکساں انتخابات کے نام پر تلنگانہ کے انتخابات کو ٹالا جاسکتا ہے اسی لئے فوری طور پر حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے عاجلانہ انتخابات کی راہیں ہموار کئے جانے کے امکان ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ ریاستی حکومت نے ووٹر شناختی کارڈ کو آدھار سے مربوط کرنے کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کا بھی بغور جائزہ لینا شروع کردیا ہے تاکہ مرکزی حکومت کی کسی بھی طرح کی سیاسی چالبازیوں کا مؤثر جواب دیا جاسکے ۔2018 جولائی میں یکساں انتخابات کی تائید کرنے والی ٹی آر ایس نے دو ماہ بعد اسمبلی کی تحلیل کافیصلہ کیا تھا لیکن اس وقت ٹی آر ایس اور بی جے پی کے حالات مختلف تھے اور اب دونوں میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔م
ویویکانند ریڈی قتل کے ملزم کو ضمانت کے خلاف سی بی آئی سپریم کورٹ سے رجوع
حیدرآباد ۔ 25 ۔ جولائی (سیاست نیوز) سی بی آئی نے آندھراپردیش کے سابق وزیر وائی ایس ویویکانند ریڈی کے قتل میں اہم مشتبہ ملزم وائی گنگی ریڈی کی ضمانت کی منسوخی کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ درخواست میں گنگی ریڈی کو مقامی عدالت کی جانب سے ضمانت کی مخالفت کی گئی ۔ اس سلسلہ میں آندھراپردیش ہائی کورٹ میں سی بی آئی کی درخواست کو مسترد کردیا گیا جس کے بعد سی بی آئی نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ۔ ہائی کورٹ نے مارچ میں سی بی آئی کی درخواست مسترد کی تھی ۔ سی بی آئی کا کہنا ہے کہ گنگی ریڈی مقدمہ کے بعض گواہوں کو دھمکا رہے ہیں، لہذا ان کی ضمانت منسوخ کی جائے۔ ہائی کورٹ نے سی بی آئی سے خواہش کی تھی کہ گنگی ریڈی کی جانب سے ضمانت کی شرائط کی خلاف ورزی کا ثبوت پیش کیا جائے۔ سی بی آئی نے عدالت کو بتایا کہ انسپکٹر پولی ویندلا ، جئے شنکریا اور دیگر دو افراد نے مجسٹریٹ کے روبرو بیان دینے سے اتفاق کیا تھا لیکن بعد میں انکار کردیا۔ ہائیکورٹ نے سی بی آئی کے دلائل سے اتفاق نہیں کیا اور گنگی ریڈی کی ضمانت کو برقرار رکھا تھا۔ واضح رہے کہ 15 مارچ 2019 ء کو وائی ایس ویویکا نند ریڈی کا کڑپہ میں ان کی قیامگاہ میں قتل کیا گیا تھا۔ ر